ٹرمپ کی خبریں ایک نظر میں: ہفتوں میں وفاقی ایجنٹوں کے ذریعے دوسری مہلک شوٹنگ—غصے کی نئی بنیاد
امریکہ ان دنوں پھر ایک عجیب ہلچل میں ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں میں، وفاقی ایجنٹوں کے ہاتھوں دوسری جان لیوا فائرنگ نے ملک میں غصہ بھر دیا ہے۔ اب بات صرف عوامی ردعمل تک نہیں رکی، بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی اس نئے بحران کے ساتھ پھر سے سرخیوں میں آگیا ہے۔ یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب امریکہ پہلے ہی نسلی امتیاز، پولیس کے تشدد، ریاستی طاقت کے غلط استعمال، اور سخت سیاسی تقسیم جیسے مسائل سے الجھا ہوا ہے۔
میرے خیال میں، یہ واقعہ صرف ایک اور شوٹنگ نہیں۔ اصل میں یہ ریاست اور شہری کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی نشانی بن چکا ہے۔ لوگ اب کھل کر پوچھ رہے ہیں کہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعی ان کی حفاظت کے لیے ہیں، یا پھر طاقت ایک سیاسی ہتھیار بنتی جارہی ہے؟ وفاقی ایجنٹوں کی طاقت، ان کی تعیناتی اور ان کے اختیارات پر پھر سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔
ٹرمپ کا کردار یہاں بہت نمایاں ہے۔ ان کی صدارت میں “قانون اور نظم” کا نعرہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے مظاہروں کو “انتشار” کہا، اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ ناقدین تو اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سوچ امریکی اداروں پر چھائی ہوئی ہے۔
اب تازہ شوٹنگ کے بعد ایک بار پھر ٹرمپ کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے ہیں۔ حامی اس واقعے کو سیکیورٹی اہلکاروں کا “جائز دفاع” کہہ رہے ہیں، جبکہ مخالفین اسے ریاستی جبر اور طاقت کے غلط استعمال کی ایک اور مثال سمجھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کیسز میں تحقیقات اکثر سست اور متنازع رہتی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد اور کمزور ہوجاتا ہے۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ امریکہ میں وفاقی ایجنٹ عام پولیس سے الگ کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تعیناتی زیادہ تر حساس یا قومی سلامتی کے معاملات میں ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی ایجنٹ شہری علاقوں میں آکر مہلک طاقت استعمال کرتے ہیں تو سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے: ان کے اختیارات کی حد کہاں ہے؟
اگر پاکستان کی نظر سے دیکھیں تو یہ مسئلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتا۔ امریکہ اپنی اندرونی سیاست اور تضادات کے ساتھ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ جب انسانی حقوق، آزادی اظہار یا ریاستی طاقت کے غلط استعمال پر خود امریکہ کے اندر سوالات اٹھتے ہیں، تو یہ سب ملکوں کے لیے ایک سبق ہے، خصوصاً پاکستان کے لیے، کہ طاقت کا بے لگام استعمال کسی بھی معاشرے کو عدم استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی ریاست اور شہری کے تعلق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی، اور احتجاج کے حق پر بحث جاری رہتی ہے۔ امریکہ کی صورتحال یاد دلاتی ہے کہ ترقی یافتہ جمہوریتیں بھی ان مسائل سے بچی ہوئی نہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہاں ادارہ جاتی اصلاحات اور آزاد میڈیا کے ذریعے ان مسائل کو سامنے لایا جاسکتا ہے—اگرچہ اب وہاں بھی یہ آزادی دباؤ میں ہے۔
یہ واقعہ ٹرمپ کی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ پہلے ہی وہ ایک متنازع شخصیت ہیں۔ ایسے واقعات ان کے سخت گیر امیج کو مزید مضبوط یا کمزور—دونوں طرح سے—کر سکتے ہیں۔ اگر عوامی غصہ بڑھا اور وفاقی ایجنٹوں کے کردار پر اعتراضات تیز ہوئے تو یہ سب ٹرمپ کے خلاف بھی جا سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو ریاستی جبر کے مخالف ہیں۔
بطور اداریہ نگار، سوال یہ ہے: کیا امریکہ اس چکر سے نکل پائے گا کہ ہر مسئلے کا حل صرف طاقت میں ڈھونڈے؟ یا پھر یہ سب کچھ معمول بن جائے گا، اور ہر نئی شوٹنگ پچھلی سے زیادہ سیاسی تقسیم کا باعث بنے گی؟
آخر میں، جمہوریت کی اصل طاقت اداروں کی جوابدہی، قانون کی حکمرانی، اور شہری جان کی حرمت میں ہے۔ اگر وفاقی ایجنٹوں کی مہلک کارروائیاں معمول بن گئیں، اور سیاسی قیادت انہیں صرف اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرتی رہی تو یہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال ہوگی۔ اب امریکہ کو خود سے یہ پوچھنا ہے کہ “قانون اور نظم” کے نام پر وہ کس قیمت پر امن چاہتا ہے—اور کیا یہ قیمت ایک جمہوری معاشرے کے لیے قابلِ قبول بھی ہے یا نہیں؟

Comments