ٹرمپ کے استعفے کے بعد پاکستان ایران میں امن کی امید رکھتا ہے۔
ٹرمپ کے اچانک استعفے کے بعد پاکستان میں ایک نئی امید جاگی ہے، خاص طور پر ایران اور خطے میں بہتر حالات کے حوالے سے۔ عالمی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور سفارتی حلقوں کی نظر میں یہ تبدیلی ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور امن کے نئے امکانات پیدا کرنے کا ایک موقع ہے۔ اسلام آباد کو لگتا ہے کہ امریکی قیادت میں تبدیلی سے علاقائی سفارت کاری کو دوبارہ موقع ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغرب کے بیچ کشیدگی مسلسل عدم استحکام کا باعث رہی ہے۔
ٹرمپ کے دور میں تو ایران پر پابندیاں عروج پر تھیں، جوہری معاہدہ ختم ہوا اور فوجی دباؤ بڑھ گیا — اور اس سب نے نہ صرف ایران کی معیشت کو تباہ کیا بلکہ پورے خطے کو بھی عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا۔ پاکستان نے بارہا کہا کہ طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری سے مسائل حل ہونے چاہئیں۔ اب ٹرمپ کے جانے کے بعد اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکہ کی نئی قیادت زیادہ حقیقت پسندانہ اور متوازن پالیسی اپنائے گی۔
دفتر خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایران کے ساتھ امن، اقتصادی تعاون اور خطے کے استحکام کا حامی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، اور دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتہ بھی ہے۔ کسی بھی بڑی کشیدگی یا جنگ کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے، اسی لیے ہم خطے میں امن کی ہر کوشش کا ساتھ دیتے ہیں۔
پاکستانی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے استعفے سے ایران کے جوہری معاہدے کی بحالی یا کسی نئے معاہدے کی بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔ امریکہ اگر پابندیاں نرم کرے اور اعتماد سازی کے قدم اٹھائے تو ایران بھی اپنے موقف میں نرمی لا سکتا ہے۔ اس سارے عمل میں پاکستان، جیسا کہ پہلے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر چکا ہے، ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ خطے میں امن صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہتا — اس کا اثر افغانستان، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا تک پھیل جاتا ہے۔ ایران پر دباؤ کم ہونے سے تیل کی قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں، جس سے پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ممالک کو بڑا ریلیف ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے ساتھ توانائی کے بڑے منصوبوں، جیسے گیس پائپ لائن، پر بھی دوبارہ غور ہو سکتا ہے۔
پھر بھی کچھ مبصرین احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ایک صدر کے استعفے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی فوراً نہیں بدل جاتی۔ وہاں طاقت کئی مراکز میں بٹی ہوئی ہے — کانگریس، پینٹاگون، مختلف لابیز — اور ان میں سے کئی ایران کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں۔ پاکستان کو امیدیں ضرور رکھنی چاہئیں، مگر حقیقت پسندی بھی ضروری ہے۔
ایران کے اندرونی حالات بھی اہم ہیں۔ پابندیاں، مہنگائی اور سیاسی دباؤ نے ایرانی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اگر عالمی سطح پر کشیدگی کم ہوتی ہے تو ایران کی قیادت کو بھی اصلاحات اور علاقائی تعاون پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم ایران پورے خطے کے مفاد میں ہے، کیونکہ عدم استحکام، مہاجرین کی آمد اور اسمگلنگ جیسے مسائل براہ راست ہمسایہ ملکوں کو متاثر کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے پچھلے چند برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے — امریکہ، چین، روس اور مسلم دنیا، سب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی ہے۔ ٹرمپ کے استعفے کے بعد اسلام آباد کے پاس موقع ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کو نئی بنیادوں پر شروع کرے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔
آخر میں، پاکستان میں یہی امید غالب ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا بھی اس کے مثبت اثرات محسوس کرے گا۔ امن اور تجارت کے دروازے کھلیں گے اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ سوالات ابھی باقی ہیں، لیکن اسلام آباد میں ٹرمپ کا استعفیٰ ایک ایسے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے ایران اور خطے میں امن کی امید کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔

Comments