چین کے اعلیٰ ترین جنرل پر امریکہ کو جوہری راز دینے کا الزام: عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی
چین کے اعلیٰ ترین جنرل پر امریکہ کو جوہری راز دینے کا الزام: عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی
چین کے عسکری اور سیاسی حلقوں میں حالیہ دنوں گردش کرنے والے اس الزام نے کہ پیپلز لبریشن آرمی کے ایک اعلیٰ ترین جنرل نے امریکہ کو حساس جوہری معلومات فراہم کیں، نہ صرف بیجنگ بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ یہ الزام ابھی تک سرکاری سطح پر ثابت نہیں ہوا، مگر اس کی نوعیت اور وقت ایسا ہے کہ اسے محض افواہ کہہ کر نظرانداز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ چین کی داخلی سلامتی، چین-امریکہ تعلقات اور عالمی جوہری توازن تینوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
چین ایک ایسی ریاست ہے جہاں عسکری رازوں کو ریاستی بقا سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ جوہری پروگرام تو خاص طور پر وہ شعبہ ہے جسے بیجنگ نے ہمیشہ انتہائی رازداری میں رکھا۔ ایسے میں اگر واقعی کسی اعلیٰ جنرل نے دشمن سمجھی جانے والی طاقت کو جوہری معلومات فراہم کیں، تو یہ چین کی تاریخ کی سب سے سنگین غداریوں میں شمار ہو گی۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا چین کا سخت کنٹرول اور وفاداری پر مبنی عسکری ڈھانچہ واقعی اتنا مضبوط ہے جتنا اسے ظاہر کیا جاتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو بیجنگ کی غیر معمولی خاموشی ہے۔ ماضی میں چین ایسی خبروں پر فوری اور سخت ردعمل دیتا رہا ہے، مگر اس بار سرکاری تردید سامنے نہ آنا شکوک کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ یہ خاموشی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ یا تو تحقیقات واقعی جاری ہیں، یا پھر چینی قیادت اس معاملے کو اندرونی سطح پر نمٹانا چاہتی ہے تاکہ ریاستی ساکھ کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ چین میں طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی حالیہ اچانک تبدیلیاں اور کچھ اعلیٰ فوجی افسران کی منظر سے غیبت بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ واشنگٹن نے اس الزام کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔ بظاہر یہ خاموشی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ لگتی ہے، مگر اگر واقعی چین کے جوہری راز امریکہ تک پہنچے ہیں تو اس کے اسٹریٹجک اثرات بہت دور رس ہوں گے۔ جوہری ہتھیاروں کا توازن ہی وہ عنصر ہے جو بڑی طاقتوں کو براہِ راست تصادم سے روکے رکھتا ہے۔ اگر ایک فریق کو دوسرے کے جوہری منصوبوں کی گہری معلومات حاصل ہو جائیں تو یہ توازن بگڑ سکتا ہے، جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، ٹیکنالوجی پر پابندیاں اور عالمی اثر و رسوخ کی جنگ نے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں جاسوسی یا غداری کے الزامات جلتی پر تیل کا کام کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سفارتی مکالمہ مزید مشکل ہو گا بلکہ عسکری سطح پر بداعتمادی بھی بڑھے گی۔
ایک اور اہم پہلو چین کی داخلی سیاست ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ الزام ممکنہ طور پر طاقت کی اندرونی کشمکش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ چین میں ماضی میں بدعنوانی اور وفاداری کے نام پر بڑے پیمانے پر تطہیری مہمات چلتی رہی ہیں، جن میں اعلیٰ فوجی اور سیاسی شخصیات کو ہٹایا گیا۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا یہ واقعی ایک حقیقی جاسوسی کیس ہے یا اقتدار کے اندرونی توازن کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش۔
عالمی سطح پر اس معاملے نے ایک بار پھر جوہری سلامتی کے نازک پہلو کو اجاگر کر دیا ہے۔ دنیا پہلے ہی یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایشیا پیسیفک میں بڑھتے تنازعات سے دوچار ہے۔ ایسے میں کسی بڑی جوہری طاقت کے اندرونی عدم استحکام یا رازوں کے افشا ہونے کا تصور بھی عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ چھوٹے ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ریاستیں، ان بڑی طاقتوں کے فیصلوں کے نتائج سب سے پہلے بھگتتی ہیں۔
آخرکار، یہ الزام چاہے سچ ثابت ہو یا نہ ہو، اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں اعتماد کس قدر نایاب ہو چکا ہے۔ چین کو اس معاملے پر شفاف اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا، جبکہ امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو بھی اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری دور میں کسی بھی غلط فہمی یا غلط فیصلے کی قیمت پوری انسانیت کو ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اس خبر نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

Comments