ایران کے رہنما خامنہ ای نے ٹرمپ پر مہلک مظاہروں کو اکسانے کا الزام لگایا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بار پھر امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انگلی اٹھائی ہے۔ ان کے بقول، ٹرمپ نے ایران میں حالیہ ہنگاموں کو جان بوجھ کر ہوا دی، اور یہ سب کسی بیرونی ایجنڈے کے تحت ہوا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے کہا، حالیہ بدامنی صرف ایران کے اندر کی بات نہیں، بلکہ اس میں امریکا اور دوسری بیرونی طاقتوں کی کھلی مداخلت شامل رہی ہے۔
ایک اہم میٹنگ میں خامنہ ای نے کھل کر کہا کہ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے خطے میں نہ صرف عدم استحکام بڑھایا، بلکہ ایرانی قوم میں لڑائی کی آگ بھی بھڑکانے کی کوشش کی۔ ان کے الفاظ میں، “انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے، ہمارے نوجوانوں کو تشدد کے رستے پر ڈالتے ہیں، پھر معصوم جانوں کے ضیاع پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔”
خامنہ ای نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کے دور میں امریکا نے ایران پر پابندیاں، میڈیا کی مہمات اور خفیہ نیٹ ورک استعمال کیے۔ سب کچھ اس لیے تھا کہ عام لوگ مزید بے چین ہوں۔ انہوں نے کہا، احتجاج کے نام پر جو پرتشدد واقعات ہوئے، اس میں غیر ملکی ہاتھ سیدھا یا بالواسطہ طور پر شامل تھا۔ ان کے مطابق، ان عناصر نے عوامی مطالبات کو تشدد کی طرف موڑنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
ان مہینوں میں ایران میں ہونے والے مظاہروں میں کئی لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ حکومت نے کچھ احتجاجات کو معاشی اور سماجی مسائل سے جوڑا، لیکن ان کا مؤقف رہا کہ اصل خرابی بیرونی طاقتوں نے پیدا کی۔ خامنہ ای نے کھل کر کہا کہ ٹرمپ کی بیاناتی سیاست اور سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہمات نے مظاہرین کو اکسایا۔
امریکا کی مجموعی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا، واشنگٹن جمہوریت اور آزادی کا نام تو لیتا ہے، مگر اصل میں اپنے مفادات کی حفاظت چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی خودمختاری اور اتحاد امریکا کو ہمیشہ کھٹکتا ہے، اسی لیے وقتاً فوقتاً دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ خامنہ ای نے صاف کہہ دیا کہ ایرانی قوم پہلے بھی ایسے دباؤ کا مقابلہ کرچکی ہے اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ادھر، امریکا کی طرف سے ان الزامات کو رد کیے جانے کی توقع ہے۔ امریکا پہلے ہی بار بار کہہ چکا ہے کہ ایران کے مسائل وہاں کی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، اور واشنگٹن صرف ایرانی عوام کے حقِ اظہار کی حمایت کرتا ہے، تشدد کی نہیں۔ لیکن ایرانی قیادت اس دلیل کو بالکل نہیں مانتی، اور اسے “دوہرا معیار” کہتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں خامنہ ای کا یہ کڑا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایران اور امریکا کے تعلقات پہلے ہی شدید کشیدہ ہیں۔ جوہری پروگرام ہو یا علاقائی سیاست، پابندیاں ہوں یا کچھ اور، دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی برقرار ہے۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ خامنہ ای کا مقصد اندرون ملک لوگوں کو یکجا کرنا اور باہر سے آنے والے دباؤ کے سامنے سخت مؤقف اپنانا ہے۔
ایران کے اندر قدامت پسند حلقے اس بیان کو سراہتے ہیں، ان کے لیے یہ قومی وقار کا دفاع ہے۔ ان کے مطابق، ٹرمپ کی پالیسیاں مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی علامت رہی ہیں اور ایران سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف کچھ اصلاح پسندوں کا خیال ہے کہ چاہے بیرونی مداخلت ہو، ملک کے مسائل کا حل صرف اصلاحات اور مکالمے میں ہے۔
مجموعی طور پر، آیت اللہ خامنہ ای کی یہ بات چیت ایک بار پھر ایران اور امریکا کے بیچ تلخی کو کھول کر سامنے لے آئی ہے۔ الزام تراشی کا یہ نیا دور بتاتا ہے کہ فی الحال دونوں ملک ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ مبصرین کہتے ہیں، جب تک سنجیدہ مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں نہیں ہوتیں، اس طرح کے بیانات خطے میں غیر یقینی صورتحال کو اور بڑھا سکتے ہیں۔

Comments