امریکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ اور WHO: اصل کہانی کیا ہے؟
22 جنوری 2026 کو امریکہ نے باقاعدہ طور پر WHO کی رکنیت چھوڑ دی۔ اصل میں یہ عمل اس دن شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر (14155) پر دستخط کیے اور امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔
اس آرڈر میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ WHO نے COVID-19 اور دوسری صحت کی ایمرجنسیز میں بری کارکردگی دکھائی، ضروری اصلاحات نہیں کیں، اور خودمختار رہنے میں ناکام رہا۔ امریکی حکومت نے یہ بھی الزام لگایا کہ WHO پر عالمی سیاسی دباؤ زیادہ حاوی ہو گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد امریکہ نے:
- WHO کو مزید فنڈز دینے بند کر دیے۔
- اپنا عملہ اور کنٹریکٹرز واپس بلا لیے۔
- اور ادارے کے ساتھ تمام عالمی صحت معاہدوں پر بات چیت روک دی۔
📜 قانونی تقاضے اور نوٹس کا کھیل
WHO کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ کوئی ملک ایک سال پہلے نوٹس دے کر ہی رکنیت چھوڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے یہ نوٹس 22 جنوری 2025 کو دیا، اس لیے 22 جنوری 2026 کو اس کا اثر ہوا۔
لیکن کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو WHO میں شمولیت کا اختیار صرف ایگزیکٹو آرڈر سے نہیں ملا تھا، بلکہ کانگریس کے قانون سے ملا تھا۔ اس لیے شاید مکمل علیحدگی کے لیے کانگریس کی منظوری یا عدالتوں کا کردار ضروری تھا۔
💰 پیسے کا معاملہ
امریکہ WHO کا سب سے بڑا مالی مددگار تھا، جو تقریباً 18 فیصد بجٹ دیتا رہا ہے۔
اس کے بعد:
- WHO کو شدید مالی جھٹکا لگا،
- کئی پروگرامز اور سروسز بند یا کم ہو گئیں،
- اسٹاف میں کمی آئی،
- اور کئی غریب ممالک کے لیے صحت کے پراجیکٹس متاثر ہوئے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ امریکی فنڈنگ کے بغیر WHO کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے، خاص طور پر جب بات وباؤں سے نمٹنے اور غریب ملکوں کو بروقت مدد کی آئے۔
🦠 عالمی صحت پر اثرات
WHO پوری دنیا میں وبائی امراض، ویکسینیشن، اور صحت کی معلومات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ امریکہ کے باہر جانے سے کئی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں:
1. عالمی تعاون میں کمی
بیماریوں جیسے ہیضہ، ملیریا، ٹی بی، HIV/AIDS اور نئے وائرسز کے خلاف دنیا کا مشترکہ نظام کمزور پڑ گیا ہے۔ امریکہ کے بغیر وسائل کم ہوئے تو ردِعمل میں تاخیر اور رکاوٹیں بڑھ گئی ہیں۔
2. معلومات اور وارننگ سسٹم میں خلا
WHO پوری دنیا میں صحت کی معلومات اور الرٹس کا تبادلہ کرتا ہے۔ امریکہ باہر ہوا تو وہ ایک بڑے ڈیٹا نیٹ ورک سے کٹ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ابتدائی وارننگ یا مل جل کر ایکشن لینے میں مشکلات آئیں گی۔
3. دوسرے ممالک پر اثر
امریکہ کے اس فیصلے نے کچھ اور ملکوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ مثلاً ارجنٹینا نے بھی علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ عالمی صحت کا مستقبل کیا ہوگا؟
🧠 تنقید اور سوالات
دنیا بھر کے صحت ماہرین اور اداروں نے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ WHO کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس گیبرییسس نے امریکہ سے اپیل کی کہ فیصلہ واپس لے اور عالمی تعاون کو برقرار رکھے۔
تنقید کا خلاصہ یہ ہے:
- عالمی وباؤں سے لڑنے کے لیے ملکوں کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
- امریکہ جیسے بڑے ملک کا الگ ہونا پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔
- اس سے عالمی صحت کا سسٹم مزید کمزور ہو جاتا ہے۔
📌 خلاصہ
امریکہ کا WHO چھوڑنا ایک تاریخی قدم ہے۔ اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے آئے ہیں:
مثبت:
- کچھ لوگ کہتے ہیں امریکہ اب اپنی صحت پالیسیوں اور وسائل کا بہتر استعمال کر سکے گا۔
- اس فیصلے نے ادارے کی اصلاحات کا سوال پھر سے اٹھایا ہے، کہ WHO کو زیادہ شفاف اور غیر سیاسی ہونا چاہیے۔
منفی:
- عالمی صحت کے ردعمل میں ایک بڑا خلا آ گیا ہے۔
- معلومات اور تعاون کا سسٹم کمزور ہو گیا ہے۔
- غریب ملکوں کے لیے امداد اور مدد میں واضح کمی آئی ہے۔
یہ فیصلہ عالمی صحت کی دنیا کو بدل رہا ہے۔ اس کے اثرات آنے والے سالوں میں بہت نمایاں ہوں گے۔

Comments