ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین میں ایران پر ممکنہ حملے کا مقدمہ پیش کیا۔


 
امریکی سیاست کے سب سے طاقتور اسٹیج پر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کو محض داخلی کامیابیوں کی فہرست تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عالمی سیاست کے ایک نہایت حساس باب—ایران—کو بھی اپنی تقریر کا مرکز بنا دیا۔ اس کی الفاظ انہوں نے مانوس جارحانہ اعتماد ظاہر, لیکن اس وقت نیا خوابے نے بلائے تونھے ان لوگوں شروع کرنے نیا ایسا انہوں نقاب چھپاتےی چھپاتے۔ یہ محض بیان نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں ٹرمپ نے امریکی عوام اور قانون سازوں کے سامنے ایران کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی.

‎ٹرمپ نے ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی “مرکزی طاقت” قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف اپنے جوہری عزائم کے ذریعے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے کشیدگی کو ہوا بھی دے رہا ہے۔ اس بیانیے میں ٹرمپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ اگر آج فیصلہ کن اقدام نہیں کرتا تو کل اس کی قیمت زیادہ بھاری ہو سکتی ہے۔ ان کے خطاب نے ایک دفاعی موقف سے باہر نکلنے نیا طور پر پیشگی کارروائی کے امکان کو جنم دیا.

‎خطاب کے دوران ٹرمپ نے بار بار “قومی سلامتی” کا حوالہ دیا۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ نرمی یا تاخیر دراصل امریکی کمزوری کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ جنگ کا خواہاں نہیں, مگر اگر اس کے مفادات یا اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ یہ جملہ بظاہر محتاط تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک واضح پیغام چھپا تھا: ایران کے خلاف فوجی آپشن میز پر موجود ہے۔

‎امریکی کانگریس کے ایوان میں بیٹھے ارکان کے ردعمل نے بھی اس لمحے کی نزاکت کو اجاگر کیا۔ کچھ قانون سازوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، جبکہ کئی چہروں پر تشویش صاف دکھائی دی۔ امریکی کانگریس کے لیے یہ خطاب محض ایک تقریر نہیں بلکہ آنے والے دنوں کے فیصلوں کا پیش خیمہ تھا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ ٹرمپ کیا کہنا چاہتے ہیں، بلکہ یہ تھا کہ کیا امریکہ واقعی ایک اور بڑے تصادم کے لیے تیار ہے؟

‎ٹرمپ کے ناقدین کا مؤقف اس کے برعکس تھا۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف سخت زبان دراصل داخلی سیاست کا ایک ہتھیار ہے۔ اسٹیٹ آف دی یونین جیسے موقع پر بیرونی خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک پرانی سیاسی روایت ہے، جس کا مقصد عوامی حمایت سمیٹنا ہوتا ہے۔ ناقدین نے یہ بھی یاد دلایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج فوری نہیں بلکہ طویل المدت اور پیچیدہ ہوتے ہیں، جن کا خمیازہ صرف خطہ ہی نہیں بلکہ خود امریکہ کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

‎ایران کے تناظر میں ٹرمپ کا خطاب عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا۔ یورپی ممالک، جو اب بھی سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں، اس جارحانہ مؤقف سے خائف دکھائی دیتے ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک کے لیے یہ تقریر اس بات کا اشارہ تھی کہ واشنگٹن تنہا فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ اس طرح اسٹیٹ آف دی یونین کا یہ خطاب صرف امریکی داخلی سیاست تک محدود نہ رہا بلکہ عالمی سفارتی بساط پر بھی ایک نئی چال بن گیا۔

‎دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جنگ کا اعلان نہیں کیا، مگر جنگ کے لیے ذہنی فضا ضرور ہموار کی۔ انہوں نے اعداد و شمار، خفیہ اطلاعات کے اشارے اور اخلاقی دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اگر امریکہ نے سخت قدم اٹھایا تو وہ دفاعی اور ناگزیر ہوگا۔ یہی وہ انداز ہے جسے ادراکی صحافت میں “مقدمہ سازی” کہا جاتا ہے—یعنی فیصلہ بعد میں، جواز پہلے۔

‎آخر میں، اس خطاب کا سب سے اہم پہلو شاید یہی تھا کہ اس نے سوالات کو جنم دیا۔ کیا ایران واقعی فوری خطرہ ہے؟ کیا فوجی کارروائی مسائل کا حل ہوگی یا نئے بحرانوں کو جنم دے گی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا امریکی عوام ایک اور طویل اور مہنگی کشمکش کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں؟ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین میں ان سوالات کے حتمی جواب نہیں دیے، مگر ایک بات واضح کر دی: ایران کا معاملہ اب محض سفارت کاری تک محدود نہیں رہا، بلکہ طاقت کے سائے میں داخل ہو چکا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا