پاکستان: ہرمز کا پل
پاکستان: ہرمز کی کشیدگی میں پل کا کردار
جب پڑوسیوں کی لڑائی میں دانشمندی سے کام لینا پڑے
خلیج فارس میں جو ہوا، وہ کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ ایک لمحے میں ہر چیز بدل گئی۔ ایران کی جانب سے ہرمز آبنائے بند کرنے کا اعلان، اور پھر دنیا بھر میں جو ہلچل مچی، وہ تاریخ میں رقم ہو گئی۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک ملک نے ایسی دانشمندی کا مظاہرہ کیا جو شاید کسی کو نظر نہیں آئی — وہ تھا پاکستان۔
جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو الزام دے رہی تھیں، جب تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، جب جنگ کی آہٹیں سنائی دے رہی تھیں — تب پاکستان نے ایک خاموشی سے، لیکن پوری سنجیدگی سے، اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
کیوں پاکستان؟
یہ سوال بہتوں کے ذہن میں آتا ہے۔ ایران کے پڑوس میں، خلیج کے قریب، اور ایک ایسا ملک جو خود کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے — اس نے یہ ذمہ داری کیوں لی؟
جواب دراصل پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں نہیں، بلکہ اس کی سفارتی روایت میں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سے تنازعات کے حل میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے افغانستان کا مسئلہ ہو، یا مشرق وسطیٰ کی کشیدگی — پاکستان نے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔
اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ جب متحدہ عرب امارات (USE) نے بین الاقوامی فورس پر زور دیا، جب عالمی برادری حیران کھڑی تھی — تب پاکستان نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
وہ اہم فون کال
کہانی کی شروعات ایک فون کال سے ہوئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر سے بات کی۔ یہ کوئی عام گفتگو نہیں تھی۔ گھنٹوں چلی اس گفتگو میں دو اہم نکتے سامنے آئے:
ایران کا موقف تھا کہ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ خطے میں ان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انھیں لگا کہ ان کے خلاف سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ اس لیے انھوں نے ہرمز آبنائے بند کرنے کا یہ قدم اٹھایا — جیسے ایک آخری دھمکی۔
دوسری طرف، پاکستان نے سمجھایا کہ یہ راستہ درست نہیں۔ "آپ پوری دنیا کو اپنے خلاف کر لیں گے۔ آپ کے اپنے شہری متاثر ہوں گے۔ آپ کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ اور سب سے بڑھ کر — جنگ کسی کا حل نہیں۔"
یہ گفتگو سادہ نہیں تھی۔ دونوں جانب سے دلائل آئے، احساسات شدت اختیار کر گئے، لیکن پاکستان نے صبر نہیں کھویا۔
## علاقائی طاقتوں کی میزبانی کا فیصلہ
اس گفتگو کے بعد پاکستان نے ایک اور اہم قدم اٹھایا — علاقائی طاقتوں کی میزبانی کا اعلان۔ یہ فیصلہ اتنا اہم تھا کہ کئی ممالک نے پہلے تو حیرت کا اظہار کیا، پھر تسلیم کیا۔
پاکستان نے دعوت دی سعودی عرب، ترکی، قطر، عراق، اور متحدہ عرب امارات کو۔ مقصد واضح تھا — ایران کی تشویشات سمجھنا، اور ایک ایسا حل نکالنا جو سب کو قابل قبول ہو۔
اس کانفرنس کی تیاریاں رات دن چلیں۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ہوٹلوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے۔ اور سب سے اہم بات — پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایران کو یہ محسوس نہ ہو کہ اسے "عدالت" میں لایا جا رہا ہے۔ یہ ایک دوستانہ مشاورت ہو گی، نہ کہ کوئی الزام تراشی۔
وہ تاریخی دن
جب کانفرنس شروع ہوئی، تو فضا میں کشیدگی تھی۔ ایران کے وفد کے چہروں پر تحفظات تھے۔ USE کے نمائندے سخت لہجے میں بول رہے تھے۔ لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ نے جس انداز میں بات شروع کی، وہ سب کچھ بدل گیا۔
انھوں نے کہا: "ہم یہاں ایک دوسرے کے دشمن بننے نہیں آئے۔ ہم یہاں اس لیے آئے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، اور پڑوسیوں کی لڑائی میں گھر جلتے ہیں۔ ہرمز آبنائے بند ہے — اس سے ایران کو نقصان ہے، USE کو نقصان ہے، سعودی عرب کو نقصان ہے، اور پوری دنیا کو نقصان ہے۔ تو کیوں نہ مل کر اس کا حل نکالیں؟"
یہ باتیں سادہ تھیں، لیکن دل میں اتر گئیں۔
مذاکرات کی گہما گہمی
اگلے دو دن جو ہوا، وہ تاریخی تھا۔ کمرے میں جو گفتگو ہوئی، اس کے بارے میں بہت کچھ نہیں بتایا جا سکتا — کیونکہ وہ خفیہ تھی۔ لیکن جو باتیں سامنے آئیں، ان سے پتا چلا کہ پاکستان نے کس طرح دونوں طرف کو قریب لایا۔
ایران نے اپنے تحفظات بیان کیے — امریکہ کی پابندیوں کے بارے میں، اسرائیل کی دھمکیوں کے بارے میں، اور خطے میں اپنی سلامتی کے بارے میں۔
USE اور سعودی عرب نے اپنے خدشات بتائے — تیل کی ترسیل کے راستوں کی بندش، معاشی نقصان، اور علاقائی استحکام کے بارے میں۔
پاکستان نے درمیان میں رہ کر ایک ایسی تجویز پیش کی جو شاید کسی اور کو نظر نہیں آئی تھی۔
پاکستان کی تجویز
پاکستان نے تجویز دی کہ ہرمز آبنائے فوری طور پر کھول دیا جائے، لیکن اس کے بدلے میں کچھ شرائط بھی ہوں:
پہلی شرط — امریکہ ایران پر نئی پابندیاں نہ لگائے، اور جو موجودہ پابندیاں ہیں، ان میں نرمی کی جائے۔
دوسری شرط — خلیج کے ممالک ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کریں، اور تجارتی راستے کھولیں۔
تیسری شرط — ایک علاقائی سلامتی کا ادارہ بنایا جائے جس میں ایران بھی شامل ہو، تاکہ مستقبل میں ایسی کشیدگی نہ ہو۔
یہ تجویز سننے میں آسان تھی، لیکن عمل درآمد مشکل۔ پھر بھی، پاکستان نے دونوں طرف کو راضی کرنے کی کوشش کی۔
ایران کی رضامندی
ایران نے پہلے تو ہچکچاہٹ ظاہر کی۔ انھیں لگا کہ شاید یہ ان کی کمزوری سمجھی جائے گی۔ لیکن پاکستان نے سمجھایا کہ یہ کمزوری نہیں، بلکہ دانشمندی ہے۔
"آپ نے ہرمز بند کر کے دنیا کو بتایا کہ آپ کسی سے کم نہیں۔ اب اسے کھول کر یہ ثابت کریں کہ آپ دانشمند بھی ہیں۔"
یہ بات ایران کے سپریم لیڈر تک پہنچائی گئی۔ رات بھر مشاورت چلی۔ اگلے دن صبح، ایران نے ہرمز آبنائے کھولنے کا اعلان کر دیا — لیکن شرط کے ساتھ کہ پاکستان کی تجاویز پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
عالمی برادری کا ردعمل
جب یہ خبر پوری دنیا میں پھیلی، تو ہر طرف سے پاکستان کی تعریف ہوئی۔ USE نے شکریہ ادا کیا۔ سعودی عرب نے تعاون کا یقین دلایا۔ امریکہ نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا۔
لیکن پاکستان نے اس سب کو بہت سادگی سے لیا۔ ان کا کہنا تھا: "یہ ہمارا فرض تھا۔ ہم اس خطے کا حصہ ہیں، اور اگر ہم امن نہیں لائیں گے تو کون لائے گا؟"
اب کیا ہوگا؟
ہرمز آبنائے تو کھل گیا، لیکن مسائل ختم نہیں ہوئے۔ اب پاکستان کی تجاویز پر عمل درآمد ہونا ہے۔ امریکہ کیا واقعی پابندیوں میں نرمی کرے گا؟ خلیج کے ممالک کیا ایران سے تعلقات بحال کریں گے؟ علاقائی سلامتی کا ادارہ بن پائے گا؟
یہ سوالات ابھی باقی ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے — پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف ایک جوہری طاقت ہے، بلکہ ایک ذمہ دار طاقت بھی ہے۔
عام پاکستانی کی نظر سے
اس سارے واقعے کو جب عام پاکستانی دیکھتا ہے، تو اسے فخر محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود معاشی مشکلات کا شکار ہے، جو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے، جو اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے — وہ پھر بھی پڑوسیوں کے مسائل حل کرنے نکل پڑتا ہے۔
یہ پاکستان کی خاصیت ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نوازی میں یقین رکھتے ہیں، اور یہ مہمان نوازی صرف کھانا پینا نہیں، بلکہ مشکل وقت میں کندھے دینا بھی ہے۔
اسلام آباد کی سڑکوں پر جب یہ خبر سنی گئی، تو لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی لسانی فرق، کوئی مذہبی تفریق — سب ایک ہو گئے۔ کیونکہ سب کو پتا تھا کہ یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔
خاتمہ
ہرمز آبنائے کی کشیدگی نے دنیا کو ایک نیا پاکستان دکھایا — دانشمند، ذمہ دار، اور امن پسند۔ یہ وہ پاکستان ہے جو ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن کئی بار نظر انداز کر دیا گیا۔
متحدہ عرب امارات نے جو بین الاقوامی فورس مانگی تھی، پاکستان نے اسے علاقائی سطح پر فراہم کیا۔ اور شاید یہی درست راستہ تھا — پہلے پڑوسیوں میں بات بنے، پھر دنیا آگے بڑھے۔
اب جب ہرمز آبنائے سے بحری جہاز گزر رہے ہیں، تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو گئی ہے، اور عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم ہو گئی ہیں — تب پاکستان خاموشی سے اپنی سرزمین پر بیٹھا ہے، جانتا ہے کہ اس نے اپنا کام کیا ہے۔
اور شاید یہی سبق ہے — بڑی طاقتیں ہتھیاروں سے نہیں، دانشمندی سے بنتی ہیں۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا۔
.jpg)
Comments