ایران کا سیکیورٹی چیف کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم اسرائیل نے وسطی بیروت پر حملہ کیا۔



 لبنان کی سرزمین ایک بار پھر آگ اور خون میں نہا گئی۔ اسرائیل نے وسطی بیروت پر ایک ہولناک حملہ کر دیا جس میں ایران کے سیکیورٹی چیف سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک محتاط انداز میں کیا گیا تھا، لیکن اس کے نتائج پورے خطے میں زلزلے کی طرح محسوس ہوئے۔ ایران نے فوری طور پر بدلہ لینے کا عزم ظاہر کر دیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے۔

‎یہ واقعہ بیروت کے ایک مصروف علاقے میں پیش آیا جہاں ایران کی سیکیورٹی کمانڈ کے اہم عہدیدار ایک خفیہ اجلاس میں شریک تھے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس مقام کو نشانہ بنایا اور فضا سے میزائل برسائے۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور آس پاس کی گاڑیاں آگ کے گولے بن گئیں۔

‎ہلاک ہونے والے ایرانی سیکیورٹی چیف ایران کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اپریٹس کے سربراہ تھے۔ وہ لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور حزب اللہ کی معاونت کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کا قتل ایران کے لیے ایک سنگین صدمہ ہے، نہ صرف فوجی نقصان کی وجہ سے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ اسرائیل کی جاسوسی اور آپریشنل صلاحیت کا مظہر ہے۔

‎ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ تہران کے اعلیٰ حکام نے اس حملے کو "سراسر جارحیت" قرار دیا اور بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل خاموشی سے نہیں جائے گا۔

‎اسرائیل نے حملے کی کوئی باقاعدہ تصدیق نہیں کی، جو ان کی "امبیگوئٹی" پالیسی کا حصہ ہے۔ لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی جاسوسی ایجنسیوں نے اسرائیلی ملوثیت کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیل کا یہ طریقہ کار نیا نہیں، وہ اکثر ایسے آپریشنز کرتے ہیں جن کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، لیکن پیغام واضح ہوتا ہے۔

‎یہ حملہ لبنان میں اسرائیل اور ایران کے درمیان پوشیدہ جنگ کا ایک اور اضافہ ہے۔ دونوں ممالک براہ راست جنگ نہیں کرتے، لیکن لبنان، شام، یمن، اور عراق جیسے ممالک میں ان کی پراکسی جنگ جاری ہے۔ حزب اللہ لبنان میں ایران کا سب سے مضبوط اتحادی ہے، جبکہ اسرائیل امریکہ کا قریبی ساتھی ہے۔

‎بیروت میں عام شہریوں کی ہلاکتوں نے ایک نیا انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں نہ صرف ایرانی عہدیدار تھے بلکہ لبنانی شہری بھی شامل تھے۔ ایک بچی جو اسکول جا رہی تھی، ایک دوکاندار جو اپنی روزی کما رہا تھا، ایک ماں جو گھر کا سامان خریدنے نکلی تھی، سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہ انسانیت کا ایک اور سیاہ دھبہ ہے۔

‎لبنانی حکومت نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیروت کے گورنر کا کہنا تھا کہ یہ ان کے شہر پر ایک بزدلانہ حملہ ہے۔ لبنان پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام، اور 2020 کے بندرگاہ دھماکے کے زخموں سے چور ہے۔ اس نئی تباہی نے ان زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔

‎عالمی برادری کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر فریقین کو تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ روس اور چین نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہے۔

‎اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کے پاس کئی آپشنز ہیں۔ وہ براہ راست اسرائیل پر حملہ کر سکتے ہیں، حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، یا خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہر صورت میں نتائج تباہ کن ہوں گے۔

‎اسرائیل بھی مکمل تیاری میں ہے۔ انھوں نے اپنی فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ ایران کا بدلہ کسی بھی وقت آسکتا ہے، اور وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

‎اس حملے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا مشرق وسطیٰ میں کبھی امن ممکن ہے؟ دہائیوں سے یہاں خون بہہ رہا ہے، ایک نسل دوسری نسل کو دشمن سمجھتی ہے، اور انتقام کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ فلسطین کا مسئلہ، ایران اسرائیل کشیدگی، اور فرقہ واریت نے اس خطے کو جہنم بنا دیا ہے۔

‎ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ جنگ صرف فوجی نہیں، بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ ایران اسرائیل کو ایک غاصب ریاست سمجھتا ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔ اسرائیل ایران کو اپنی وجود کے لیے سنگین ترین خطرہ سمجھتا ہے۔ دونوں کے درمیان یہ کشیدگی کسی بھی وقت مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے۔

‎اسرائیل کی جانب سے یہ حملہ ایک پیغام بھی تھا امریکہ کے لیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ لیکن اسرائیل نے یہ حملہ کر کے دکھا دیا کہ وہ امریکہ کی اجازت کے بغیر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کرتا ہے۔

‎خلیج فارس کے عرب ممالک بھی پریشان ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر جانتے ہیں کہ اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشیدگی کم ہو، لیکن ان کا اثر محدود ہے۔

‎اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی منڈیوں میں خدشات پیدا ہوئے کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو تیل کی سپلائی متاثر ہو گی۔ یہ عام شہریوں پر بھی اثر انداز ہو گا کیونکہ پیٹرول، بجلی، اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔

‎انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ وہ ایک آزاد تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جاسکے۔

‎اسرائیل کے اندر بھی اس حملے پر بحث ہو رہی ہے۔ کچھ حلقے اسے ایک ضروری قدم سمجھتے ہیں جو ایران کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔ دوسرے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایران کو مزید جارحانہ بنا دے گا۔ اسرائیل کی سیاست میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا "ایڈوانٹج" لینا بہتر ہے یا "روک تھام" کرنا۔

‎ایران کے اندر بھی یہ حملہ ایک قومی صدمے کی طرح لیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں شہید کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں اور لوگوں میں انتقام کا جذبہ بھڑکایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت اسے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کا ایک موقع بھی سمجھ سکتی ہے۔

‎اس حملے نے لبنان میں حزب اللہ کی پوزیشن کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر ایران کے اتنے بڑے عہدیدار لبنان میں محفوظ نہیں تھے، تو عام کارکنوں کی کیا حفاظت ہو سکتی ہے؟ یہ سوال حزب اللہ کے ارکان میں تشویش پیدا کر سکتا ہے۔

‎آنے والے دنوں میں صورتحال کس طرف جائے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر ایران فوری بدلہ لیتا ہے تو جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ اگر وہ انتظار کرتا ہے تو اسرائیل مزید حملے کر سکتا ہے۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ دونوں طرف سے محدود کارروائیاں ہوں اور جنگ سے گریز کیا جائے۔

‎اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ جنگ براہ راست نہیں، بلکہ سائے کی جنگ ہے۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی، سائبر حملے، اور ٹارگٹڈ کِلنگز کرتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی بھی مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے، خاص طور پر اگر کوئی غلطی یا غلط فہمی ہو۔

‎اس واقعے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کوششوں کو بھی متاثر کرے گا۔ اگر ایران انتقامی کارروائیوں میں مشغول ہوتا ہے تو مغربی ممالک اسے مزید تنہا کر دیں گے۔ اس سے معاشی پابندیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔

‎آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وسطی بیروت کا یہ حملہ انسانیت کے لیے ایک اور المیہ ہے۔ اس میں جو لوگ مارے گئے، وہ صرف فوجی نہیں، انسان تھے۔ ان کے پیچھے خاندان تھے، خواب تھے، زندگیاں تھیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو گا جب انتقام کی لہریں رکیں گی اور بات چیت کی جگہ بنے گی۔ دعا یہی ہے کہ عقلمندی غلبہ پائے اور خونریزی کا یہ سلسلہ رک جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا