ایران کی 'توسیع' ناکہ بندی کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمت $120 سے بڑھ گئی



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎السلام علیکم

‎دیکھیں، بات بہت سیدھی ہے… مگر اثر بہت بڑا ہے۔

‎ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں توسیع کی بات کی، اور تیل کی قیمت سیدھی $120 سے اوپر چلی گئی۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر ہر انسان کی جیب پر پڑتا ہے۔

‎تیل مہنگا ہوتا ہے تو سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے۔

‎پیٹرول مہنگا → کرایہ مہنگا → سبزی مہنگی → زندگی مہنگی۔

‎یہ ایک چین ری ایکشن ہے، اور اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

‎اب ذرا سمجھیں کہ ایران ایسا کیوں کر رہا ہے۔

‎ایران پر کافی عرصے سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس کی معیشت دباؤ میں ہے، اور اسے عالمی سطح پر زیادہ سپورٹ نہیں مل رہی۔ ایسے میں اس کے پاس ایک ہی بڑا کارڈ ہے—آبنائے ہرمز۔

‎یہ وہ جگہ ہے جہاں سے دنیا کا بہت سا تیل گزرتا ہے۔ اگر ایران یہاں تھوڑا سا بھی مسئلہ پیدا کرے، تو پوری دنیا ہل جاتی ہے۔

‎اور یہی ہوا۔

‎صرف خبر آئی کہ ناکہ بندی بڑھ سکتی ہے… اور مارکیٹ گھبرا گئی۔ قیمت اوپر چلی گئی۔ یعنی کبھی کبھی اصل نقصان عمل سے نہیں، بلکہ "خوف" سے ہوتا ہے۔

‎اب ذرا اپنے ملک کو دیکھیں۔

‎پاکستان پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے۔ اگر تیل مزید مہنگا ہو گیا، تو حکومت کے لیے بھی مشکل ہو جائے گا اور عوام کے لیے بھی۔ بجلی، پیٹرول، ہر چیز کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔

‎اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

‎اگر حالات ایسے ہی رہے، تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

‎اگر کوئی بڑا ملک بیچ میں آیا، تو کشیدگی اور بڑھ سکتی ہے۔

‎اور اگر کوئی حل نکل آیا، تو شاید قیمتیں نیچے بھی آ جائیں۔

‎لیکن ابھی جو صورتحال ہے، وہ غیر یقینی ہے۔

‎اور سچ یہ ہے… دنیا اس وقت ایک ایسے کھیل میں ہے جہاں ہر چال کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔

‎ایران اپنی بقا کے لیے کھیل رہا ہے۔

‎امریکہ اپنی طاقت کے لیے۔

‎اور ہم جیسے عام لوگ… صرف اثر برداشت کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا