وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔



 وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔

‎مشرق وسطیٰ کے تازہ ترین خطے میں ایک نیا باب کھلنے کو ہے جب امریکی نائب صدر JD وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ اہم مذاکرات کا آغاز کر سکیں۔ تاہم، یہ سفارتی مشن ایک ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

‎مذاکرات کا پس منظر

‎یہ مذاکرات 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جو کہ ایک غیر متوقع ثالث کی حیثیت سے پاکستان کی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، جو کہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

‎یہ مذاکرات ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد شروع ہو رہے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو کیا تھا۔ تاہم، اس جنگ بندی کی نوعیت اور دائرہ کار کو لے کر امریکا اور ایران کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔

‎لبنان: جنگ بندی کا تنازعہ

‎ایران کا موقف ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان کو بھی شامل کرتی ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ اسرائیل نے گزشتہ روز لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 250 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے بیروت سمیت لبنان کے متعدد شہروں میں کیے گئے۔

‎ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ "وقت ختم ہو رہا ہے" اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے "واضح اخراجات اور سخت جوابات" ہوں گے۔ انہوں نے لبنان اور علاقائی پراکسیز کو "مکمل مزاحمت محور کا لازمی حصہ" قرار دیا۔

‎امریکی حکمت عملی

‎صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے فون پر بات چیت کی اور انہیں لبنان میں حملوں کو کم کرنے کا مشورہ دیا تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔ نائب صدر وینس نے بھی اسرائیل سے "تھوڑا خود پر قابو پانے" کی درخواست کی ہے۔

‎تاہم، نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی نہیں مانتا اور وہ "حزب اللہ کو بھرپور طاقت سے نشانہ بنانا جاری رکھے گا"۔ انہوں نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور "ایک تاریخی اور پائیدار امن معاہدہ" حاصل کرنا ہے۔

‎بین الاقوامی ردعمل

‎یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کا جا کالاس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لبنان میں حملے "خود دفاع" کے دائرے میں آنا مشکل ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے بھی اسرائیل کی "شدت" پر تنقید کی ہے، جو کہ امن عمل کو ناکام بنا سکتی ہے۔

‎برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں کو "گہری نقصان دہ" قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی لبنان تک پھیلائی جائے۔

‎ہارمز کی آواجہی

‎جنگ بندی کے باوجود ہارمز آواجہی پوری طرح سے کھلی نہیں ہے۔ صرف پانچ جہاز گزشتہ روز گزرے، جبکہ عام طور پر روزانہ 110 جہاز گزرتے ہیں۔ ایران نے متبادل shipping راستوں کا اعلان کیا ہے، جو کہ اب بھی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

‎مستقبل کے امکانات

‎ایران نے 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں یورینیم افزودگی کا حق برقرار رکھنا اور خطے میں امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو "فائرنگ شروع ہوگی، پہلے سے بڑی، بہتر اور مضبوط"۔

‎وینس کے اس مشن کی کامیابی نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات پر بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالے گی۔ تاہم، لبنان میں جاری تشدد اس سفارتی کوششوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

‎لبنان میں ایک خاندان کی کہانی

‎علی نے جب سنا کہ امریکی نائب صدر پاکستان جا رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ امن کی بات چیت کر سکیں، تو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ٹوٹے ہوئے کھلونے کو دیکھا۔ اس کے گھر کی دیواریں اب ملبے کا ڈھیر ہیں۔ اس کے والد کل ہی اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ "کیا وہ ہمارے بارے میں بھی بات کریں گے؟" اس نے اپنی ماں سے پوچھا۔

‎اس کے جواب میں صرف خاموشی تھی۔

‎ایک امید کی کرن، ایک گہری تشویش

‎10 اپریل 2026 کی صبح، جب JD وینس اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے، تو پورا مشرق وسطیٰ سانس روکے ہوئے تھا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان صرف دو دن پہلے ہوا تھا۔

‎لیکن علی کے لیے، اس جنگ بندی کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں۔ گزشتہ روز، جب امریکی اور ایرانی وفود اپنے ہوٹلوں میں آرام کر رہے تھے، اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر بم برسائے۔ کم از کم 250 افراد ہلاک ہوئے۔

‎دو مختلف واقعات، ایک ہی دن

‎صدر ٹرمپ نے ٹی وی پر کہا کہ اسرائیل "پیچھے ہٹ رہا ہے"۔ لیکن علی کے گھر کے سامنے، ملبے سے ابھی بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کی ماں فاطمہ کہتی ہیں: "وہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ بندی ہے؟ میرے لیے تو یہ جنگ ہے۔ میرے بچوں کے لیے یہ خوف ہے۔"

‎ایران کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان کو بھی شامل کرتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کہتے ہیں کہ نہیں۔ اور علی کے خاندان کے لیے، یہ بحث صرف لفظوں کی جنگ ہے جبکہ حقیقت میں ان کا گھر تباہ ہو رہا ہے۔

‎ایک بوڑھے کا انتظار

‎عبداللہ 75 سال کے ہیں۔ وہ بیروت کے ایک کیمپ میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے 1982 کی جنگ دیکھی، 2006 کی جنگ دیکھی، اور اب 2026 کی تباہی دیکھ رہے ہیں۔ "میں نے سوچا تھا کہ شاید یہ آخری بار ہوگا،" وہ کہتے ہیں، "لیکن میں غلط تھا۔"

‎وہ بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ امریکی نائب صدر آ رہے ہیں، تو انہوں نے ایک چھوٹی سی دعا کی۔ "میں نے سوچا، شاید وہ ہمارے لیے بھی کچھ کریں گے۔ لیکن پھر میں نے ٹی وی پر دیکھا، وہ صرف ایران کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم تو جیسے نظر انداز ہو گئے۔"

‎بچوں کے کھوئے خواب

‎نور 12 سال کی ہے۔ اس کا خواب تھا کہ وہ استاد بنے گی۔ اب اس کا سکول ملبے کا ڈھیر ہے۔ "میرے دوست کہاں ہیں؟" وہ بار بار پوچھتی ہے۔ اس کے والدین کے پاس کوئی جواب نہیں۔ وہ صرف اسے گلے لگا کر روتے ہیں۔

‎یونیسیف کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 سے لبنان میں 600 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ نور جیسی بچیوں کی کہانیاں ہیں جن کے خواب ٹوٹ چکے ہیں۔

‎ایک ماں کی دہائی

‎فاطمہ نے جب سنا کہ وینس پاکستان پہنچ چکے ہیں، تو اس نے ایک ہاتھ اٹھایا۔ "میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں، کیا آپ کے بچے سکول جاتے ہیں؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ میرا بیٹا کل رات سو نہیں سکا کیونکہ اسے ہوائی جہازوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں؟"

‎وہ رو پڑتیں۔ "وہ کہتے ہیں کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے امن کیا ہے؟ یہاں تو صرف موت ہے، خوف ہے، اور انتظار ہے۔"

‎سفارت کاری اور حقیقت

‎اسلام آباد میں، وینس کی ٹیم ایران کے نمائندوں سے ملے گی۔ وہ بات چیت کریں گے، شرائط طے کریں گے، اور شاید ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ لیکن بیروت میں، علی کے والد اب بھی ہسپتال میں زخمی ہیں۔

‎ایران کے ایک عہدیدار نے دھمکی دی ہے: "میزائل لانچ کرنے کے لیے تیار ہیں" اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو۔ لیکن علی کے لیے، یہ دھمکیاں اور وعدے سب ایک جیسے لگتے ہیں — لفظ جو حقیقت کو نہیں بدلتے۔

‎ایک امید کی آخری کرن؟

‎شام ہوتی ہے۔ فاطمہ اپنے بچوں کو سلاتی ہے۔ علی اب بھی اپنے ٹوٹے ہوئے کھلونے کو دیکھ رہا ہے۔ "کیا کل بہتر ہو گا؟" وہ پوچھتا ہے۔

‎اس کے لیے، اور لبنان کے لاکھوں بچوں کے لیے، یہ سوال اب بھی بغیر جواب ہے۔ وینس کے مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے — جب تک لبنان میں خون بہتا رہے گا، کوئی بھی جنگ بدی مکمل نہیں ہو سکتی۔

‎فاطمہ نے آخری بار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ "شاید وہ ہمارے بارے میں بھی سوچیں گے،" وہ سرگوشی میں کہتی ہیں۔ "شاید۔"

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا