امریکہ اور ایران کے براہ راست مذاکرات طویل مذاکرات کے بعد بھی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔



 12 اپریل 2026 کی شام، اسلام آباد کے سرینا ہوٹل سے ایک مایوس کن خبر سامنے آئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 40 سال میں پہلی براہ راست مذاکرات، جو 12 گھنٹے سے زائد جاری رہے، کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ یہ مذاکرات، جنہیں مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا جا رہا تھا، اب ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔

‎مذاکرات کا پس منظر اور اہمیت

‎یہ مذاکرات 11 اپریل 2026 کو پاکستان میں شروع ہوئے تھے، جو 40 روزہ امریکا-ایران جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت کا موقع تھا۔ امریکی نائب صدر JD وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد شرکت کر رہا تھا، جبکہ ایران کی طرف سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔

‎صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ سفارتی کوششیں شروع ہوئی تھیں۔ پاکستان نے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا۔

‎مذاکرات میں سامنے آنے والے اختلافات

‎مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ واضح طور پر سامنے آیا۔ امریکا کا 15 نکاتی تجویز یورینیم افزودگی، بیلسٹک میزائلوں، پابندیوں میں کمی اور ہارمز آواجہی کی دوبارہ کھولی پر مرکوز تھی۔

‎ایران نے 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا جس میں ہارمز آواجہی پر کنٹرول، جہازوں سے عوارض وصولی، علاقے میں تمام فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور پابندیوں کا مکمل خاتمہ شامل تھا۔

‎اہم تنازعات میں لبنان بھی شامل تھا۔ ایران کا موقف تھا کہ اعلان کردہ جنگ بندی لبنان کو بھی شامل کرتی ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس دعوے کو مسترد کرتے تھے۔ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے تھے۔

‎مذاکرات کے نتائج اور اگلے مراحل

‎12 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات کے باوجود دونوں فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ امریکی وفد نے اعلان کیا کہ مذاکرات "تعمیری" رہے، لیکن عملی نتائج صفر رہے۔ ایران کی طرف سے بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

‎صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو "فائرنگ شروع ہوگی، پہلے سے بڑی، بہتر اور مضبوط"۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی ہارمز آواجہی کے متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے۔

‎بین الاقوامی ردعمل

‎یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کا جا کالاس نے مذاکرات کی ناکامی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے کہا ہے کہ یہ "ایک کھویا ہوا موقع" ہے۔

‎اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید مذاکرات جاری رکھیں اور جنگ کے راستے سے گریز کریں۔

‎مستقبل کے امکانات

‎مذاکرات کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ امریکا نے خلیج میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنے بیلسٹک میزائلوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔

‎پاکستان، جو ثالث کے طور پر ابھرا تھا، اب ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں فریقین سے مزید بات چیت کی اپیل کی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا