امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔



 امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

 آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: جب مذاکرات کی کشتی ڈوبی

 ایک انسانی داستان اقتدار کی لالچ اور عوام کے زخموں کی

‎13 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج آبنائے ہرمز کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ ٹرمپ کا اعلان ہوا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔

‎یہ وہی آبنائے تھا جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا تھا، جہاں سے یورپ کی factories چلتی تھیں، جہاں سے ایشیا کی ترقی کی سانسیں آتی تھیں۔ آج وہیں پر امریکی بحریہ کی طلوار لہرا رہی تھی، اور ایران کے بندرگاہوں میں کھڑے جہازوں پر تالے لگنے لگے تھے ۔

‎اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ اختتام تھا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹے تک ایرانی وفد سے بات چیت کی، لیکن جب صبح ہوئی، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان تھا ۔ وینس نے کہا—"ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا" ۔

‎لیکن کیا یہ شرائط انسانی تھیں؟ ٹرمپ کا مطالبہ تھا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے، یورینیم افزودگی بند کر دے، اپنے جوہری ادارے ڈھا دے، اور ہرمز آبادی ہر جہاز کے لیے کھول دے ۔ یہ وہ مطالبات تھے جو کسی غاصب کی طرح تھے، نہ کہ کسی دوست کے۔

‎ٹرمپ نے کہا—"صرف ایک چیز اہم ہے—ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کو تیار نہیں!" ۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانا امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے اپنے پاؤں تلے روندتا آیا ہے۔ انھوں نے دھمکی دی کہ "جہازوں کو جنت میں بھیج دیا جائے گا"، اور کہا کہ "میں ایران کو ایک دن میں، ایک گھنٹے میں ختم کر سکتا ہوں" ۔

‎لیکن ایران نے جواب میں کیا کہا؟ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو خود مذاکراتی وفد کے سربراہ تھے، نے ٹرمپ کے نام پیغام دیا—"اگر تم لڑو گے، ہم لڑیں گے" ۔ یہ وہی ایران تھا جو چار ہفتوں کی بمباری کے بعد بھی سر نہیں جھکا تھا۔

‎ایران کے انقلابی گارڈز نے اعلان کیا کہ "ہرمز آبادی پر قریب آنے والے جنگی جہازوں کا شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا" ۔ انھوں نے باب المندب آبادی بند کرنے کی بھی دھمکی دی، جو یمن اور افریقہ کے سینگ کے درمیان ہے، اور سویز نہری کا راستہ ہے ۔

‎اب سوال یہ تھا—یہ ناکہ بندی کسے نقصان پہنچائے گی؟ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں ۔ یورپ میں ہوائی اڈوں نے خبردار کیا کہ تین ہفتوں میں "نظامتی جیٹ ایندھن کی قلت" ہو سکتی ہے ۔ دنیا کے 20 فیصد تیل کی رسد خطرے میں تھی، لیکن ٹرمپ کو کوئی پروا نہیں تھی۔ انھوں نے کہا—"مجھے پرواہ نہیں، وہ واپس آئیں یا نہ آئیں" ۔

‎یہ انسانیت کی تذلیل تھی۔ ایک طرف وہ صدر تھا جو "امن" کے نعروں پر منتخب ہوا، آج وہی "مکمل طور پر تیار اور لوڈ" ہونے کی دھمکیاں دے رہا تھا ۔ دوسری طرف وہ قوم تھی جو کہہ رہی تھی—"ہم نے کبھی جنگ نہیں چاہی، لیکن اگر وہ میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، اسے مذاکرات میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، تو یہ بالکل ناقابل قبول ہے" ۔

‎فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے "آزاد بحری بحالی" کے لیے ایک امن مشن کی تیاری کا اعلان کیا ۔ برطانیہ نے ناکہ بندی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے "تناؤ" کا شکار تھا ۔ یورپی یونین نے مزید سفارتی کوششوں کی اپیل کی۔ لیکن ٹرمپ نے سب کو نظر انداز کر دیا۔

‎اسلام آباد میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے مذاکرات کی میزبانی کی، لیکن ناکامی کا غم ان کے چہروں پر بھی تھا ۔ 21 گھنٹے کی بات چیت میں "دو تین اہم نکات" پر اتفاق نہ ہوسکا، جن میں ہرمز آبادی، جوہری پروگرام، اور پابندیوں کا خاتمہ شامل تھا ۔

‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا—"جب ہم 'اسلام آباد مفاہمت نامے' سے محض انچ دور تھے، تو ہمیں انتہا پسندی، ہدفوں کی تبدیلی، اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا" ۔ انھوں نے کہا—"نیک نیتی نیک نیتی پیدا کرتی ہے، دشمنی دشمنی پیدا کرتی ہے" ۔

‎یہ کہانی صرف ایران اور امریکا کی نہیں تھی، یہ انسانیت کی کہانی تھی۔ ایک طرف وہ طاقت تھی جو اپنے ہتھیاروں کے زور پر دنیا کو اپنے مطابق چلانا چاہتی تھی، دوسری طرف وہ قوم تھی جو اپنی آزادی کے لیے آخری دم تک لڑنے کو تیار تھی۔ ہرمز آبادی کی ناکہ بندی صرف جہازوں کی ناکہ بندی نہیں تھی، یہ انسانیت کی آزادی کی ناکہ بندی تھی۔

‎ٹرمپ نے کہا تھا کہ "ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی" ۔ لیکن کیا انھیں معلوم تھا کہ اس تیل سے کتنے گھر روشن ہوتے ہیں، کتنی factories چلتی ہیں، کتنے بچے سکول جاتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ سیاستدانوں کو صرف "فتح" نظر آتی ہے، عوام کے زخم نہیں۔

‎جنگ کے 40 دنوں میں ایران میں 3,000 افراد ہلاک ہوئے، لبنان میں 2,055، اسرائیل میں 23 ۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ انسانیت کے زخم تھے۔ لیکن ٹرمپ کے لیے یہ سب "فتح" تھی—"ہم نے ان کا پورا ملک مٹا دیا ہے" ۔

‎گھڑی کی ٹک ٹک جاری تھی، اور 22 اپریل تک کی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف نو دن باقی تھے ۔ دنیا انتظار کر رہی تھی کہ کیا یہ ناکہ بندی جنگ کی شروعات ہوگی، یا پھر کوئی معجزہ ہوگا۔ لیکن ایک بات طے تھی—جب تک طاقت کے نشے میں چور رہنما ہوں گے، تب تک آبنائے ہرمز کے پانی خون سے لال ہوتے رہیں گے۔

‎یہ "امن" تھا یا "غاصبانہ قبضہ"؟ شاید تاریخی بتائے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن ٹرمپ نے ناکہ بندی کا اعلان کیا، اس دن انسانیت نے ایک اور قدم پسپائی کی طرف بڑھایا، اور "آزادی کے پانیوں" پر تالے لگ گئے۔

‎20 تصویر بنائیں 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا