پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔



 پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔

‎15 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ اس میں بیٹھے تھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، اپنے ہمراہ پوری قوم کی امیدیں لے کر۔ ان کا پہلا پڑاؤ ریاض تھا، جہاں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان منتظر تھے ۔

‎یہ صرف ایک دورہ نہیں تھا، یہ "شٹل ڈپلومیسی" کا ایک اہم مرحلہ تھا—ایسا رقص سفارت کاری کا جو ایک دارالحکومت سے دوسرے میں، ایک ملک کے درد کو دوسرے کے کانوں تک پہنچاتا ہے۔ شہباز شریف کا مشن واضح تھا—امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا، خطے کو جنگ کی آگ سے بچانا ۔

‎لیکن اس سے پہلے، ایک اور کردار ادا ہو چکا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، پہلے ہی "شٹل کمیونیکیشن" کا سلسلہ شروع کر چکے تھے ۔ وہ سعودی عرب میں تھے جب جنگ شروع ہوئی، اور فوری طور پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔

‎ڈار نے عراقچی سے کہا—"ہمارا سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہے" ۔ عراقچی نے جواب دیا—"یقینی بنائیں کہ سعودی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو" ۔ یہ الفاظ نہیں تھے، یہ دو مسلم ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد تھی، اور پاکستان اس کی تعمیر کا آئینہ تھا۔

‎ڈار نے بتایا کہ اس "شٹل کمیونیکیشن" کے نتیجے میں "سعودی عرب پر جنگ کا کم از کم اثر" ہوا ۔ یہ سفارت کاری کی کامیابی تھی—بغیر کسی گولی چلائے، بغیر کسی جہاز اڑائے، صرف بات چیت سے، صرف رابطے سے، صرف "شٹل" سے۔

‎اب شہباز شریف کا دورہ اس سلسلے کو آگے بڑھا رہا تھا۔ ریاض میں، وہ سعودی قیادت سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ انٹالیا میں، وہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے، جہاں دنیا کے رہنما جمع ہوں گے ۔

‎لیکن اس کہانی کا ایک اور کردار بھی ہے—چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) جنرل سہیر شمشاد مرزا۔ وہ تہران گئے، ایران کی فوجی قیادت سے ملے، دفاعی تعاون کے نئے راستے تلاش کیے۔ یہ "شٹل" کا فوجی پہلو تھا—جہاں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ، فوجی اعتماد بھی تعمیر ہو۔

‎یہ تینوں کردار—وزیراعظم، وزیر خارجہ، اور CJCSC—ایک ساتھ مل کر ایک پیغام دے رہے تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک "پل" بننا چاہتا تھا، بلکہ ایک "گھر" بھی—جہاں دونوں طرف کے مہمان محفوظ محسوس کریں۔

‎لیکن اس شٹل ڈپلومیسی کے پیچھے انسان تھے۔ ڈار نے بتایا کہ "لاکھوں پاکستانی مختلف عرب ممالک میں رہتے ہیں" ۔ ان میں سے ایک، یو اے ای میں، میزائل حملے میں شہید ہوا ۔ 650 پاکستانی ایران سے نکالے جا چکے تھے، 792 واپس آ چکے تھے ۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ انسان تھے—بیٹے، بھائی، باپ، جو جنگ کی آگ میں پھنسے ہوئے تھے۔

‎ایران کے بندر عباس بندرگاہ پر 15 پاکستانی ملاح پھنسے ہوئے تھے، جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری تھیں ۔ یہ وہی "شٹل" تھی جو اب انسانی جانیں بچا رہی تھی—سفارت کاری کا جہاز جو سیاست سے اٹھ کر، انسانیت کی فضا میں پرواز کر رہا تھا۔

‎شہباز شریف کے دورے کا مقصد واضح تھا—"امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانا" ۔ لیکن یہ آسان نہیں تھا۔ ایک طرف وہ امریکا تھا جو "ناکہ بندی" کی دھمکیاں دے رہا تھا، دوسری طرف وہ ایران تھا جو "جنگ بندی کی خلاف ورزی" کا اعلان کر چکا تھا ۔

‎پاکستان کا کردار یہاں نازک تھا۔ ڈار نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے امریکا کے مطالبے—یورینیم افزودگی بند کرنے کے—کا اعتراض کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ "جوہری توانائی کا پرامن استعمال ایک جائز حق" ہے ۔ لیکن ساتھ ہی، ایران کو یہ یقین دلایا کہ "دو سے تین ممالک کی نگرانی" پر اتفاق ہو سکتا ہے ۔

‎یہ "شٹل" کی کامیابی تھی—دونوں طرف کی بات سمجھنا، دونوں طرف کی فکر رکھنا، اور پھر ایک ایسا راستہ تلاش کرنا جہاں دونوں چل سکیں۔

‎سعودی عرب اور ایران کے درمیان یہ فاصلہ صرف جغرافیائی نہیں تھا، یہ تاریخی تھا، یہ مذہبی تھا، یہ سیاسی تھا۔ لیکن پاکستان، جو خود سنی اور شیعہ دونوں کا گھر تھا، یہ پیغام دے رہا تھا—"ہم ایک ہیں، اور ہم ایک رہیں گے"۔

‎شہباز شریف کا طیارہ جب ریاض سے انٹالیا، پھر قطر، اور شاید آگے تہران کی طرف بڑھے گا، تو وہ صرف ایک وزیراعظم نہیں ہوں گے، وہ ایک "پیغام بر" ہوں گے—امید کا، امن کا، اعتماد کا۔

‎یہ "شٹل ڈپلومیسی" تھی یا "امن کی پرواز"؟ شاید دونوں۔ لیکن ایک بات طے ہے—جس دن پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان یہ پل بنایا، اس دن مشرق وسطیٰ نے ایک نئی سانس لی، اور لاکھوں انسانوں کو ایک نئی امید ملی۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا