امریکی بحری جہاز کے قبضے پر کشیدگی کے درمیان تہران مذاکرات کو چھوڑ سکتا ہے۔



 ‎تہران کی سڑکوں پر آج کل ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر وہی پرانی پریشانی نظر آتی ہے جو ہر بار کشیدگی بڑھنے پر دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں ایک خبر نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی۔ ایک امریکی بحری جہاز کو ایرانی فورسز نے روک لیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے۔

‎ایران کے وزیر خارجہ نے ٹی وی پر آ کر جو کچھ کہا، اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔ "اگر امریکہ نے ہمارے پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ہم میز مذاکرات سے اٹھ جائیں گے۔" ان کی آواز میں وہ سختی تھی جو کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کرتی نظر آ رہی تھی۔ یہ وہی وزیر خارجہ تھے جو چند ہفتے قبل مذاکرات کے امکان پر امید ظاہر کر رہے تھے۔

‎تہران کے ایک کافی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے ایرانی نے اپنی رائے دی۔ "امریکہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔ ایک طرف ہاتھ ملانے آتا ہے، دوسری طرف جیب میں چاقو چھپائے بیٹھا ہوتا ہے۔" اس کے الفاظ میں وہ ناراضگی تھی جو عام ایرانیوں میں امریکہ کے بارے عام ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں 1953 کا وہ سال جب امریکی مداخلت نے ان کی جمہوریت کو تباہ کردیا تھا۔

‎واشنگٹن میں بھی اس واقعے پر غور و فکر جاری ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان کا جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا۔ لیکن ایران کا دعویٰ مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاز ان کے قانونی دائرہ اختیار میں داخل ہوگیا تھا۔ یہ دو مختلف کہانیاں ہیں جن میں سچائی کس کی ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔

‎ایران کے صدر نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ "ہم غلامی قبول نہیں کرتے،" ان کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔ بہت سے نوجوان ایرانیوں نے ان کی حمایت کی۔ لیکن کچھ نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مذاکرات چھوڑنا ان کے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

‎ایک ایرانی ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، "میں ہر رات سوتے وقت ڈرتی ہوں کہ کل صبح کیا خبر آئے گی۔" اس کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو ہر ماں کو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے ہوتا ہے۔ وہ 1980 کی یاد کرتی ہے جب ایران اور عراق کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ اس وقت بھی ایسی ہی خبریں آتی تھیں اور پھر سالوں تک خونریزی جاری رہی۔

‎خلیج فارس کے کنارے بیٹھے ہوئے ایک ماہی گیر نے بتایا کہ وہ امریکی جہازوں کو روزانہ دیکھتا ہے۔ "وہ بہت بڑے ہوتے ہیں،" اس نے کہا، "لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا ملک بھی کمزور نہیں۔" اس کی بات میں وہ فخر تھا جو ایک عام شہری کو اپنی فوج پر ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جنگ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

‎تیل کی منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ایک تاجر نے بتایا کہ قیمتیں اچانک بڑھ گئی ہیں۔ "لوگ خرید رہے ہیں جیسے کل تیل ختم ہونے والا ہو،" اس نے مذاق میں کہا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں وہی تشویش تھی جو ہر تاجر کو غیر یقینی صورت حال میں ہوتی ہے۔ اسے یاد ہے 2019 کا وہ سال جب تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی تھیں۔

‎ایران کے پاس آبنائے ہرمز ایک خطرناک ہتھیار کی طرح ہے۔ اگر اسے بند کردیا گیا تو دنیا کا ایک تہائی تیل رک جائے گا۔ تصور کریں کہ جہاز اڑنا بند ہوجائیں، بحری جہاز بندرگاہوں پر کھڑے رہ جائیں، اور فیکٹریاں خاموش ہوجائیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو کسی بھی معیشت کے لیے ڈراؤنا ہے۔

‎امریکہ میں بیٹھے ہوئے ایک سابق فوجی افسر نے اپنی یادیں تازہ کیں۔ "میں 1988 میں یہاں تھا جب ہمارا جہاز غلطی سے ایرایئیر بس شوٹ ڈاؤن ہوا تھا،" اس نے بتایا۔ "290 بے گناہ لوگ مارے گئے۔" اس کی آواز میں وہ افسوس تھا جو سالوں بعد بھی نہیں مٹا۔ وہ جانتا ہے کہ اس خطے میں ایک چھوٹی سی غلطی کتنی بڑی تباہی لاسکتی ہے۔

‎تہران کے یونیورسٹی میں ایک پروفیسر نے طلباء سے بات کی۔ "ہمیں سمجھداری سے کام لینا ہوگا،" انہوں نے کہا۔ "جنگ کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔" لیکن ایک نوجوان طالب علم نے پوچھا، "اگر دوسرا ہاتھ آگے بڑھائے بغیر ہاتھ ملانے آئے تو کیا کریں؟" یہ سوال آج کل ہر ایرانی کے ذہن میں ہے۔

‎اقوام متحدہ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے ایک سفارت کار نے اپنے ہم منصب سے کہا، "ہمیں انھیں بات چیت پر لانا ہوگا۔" لیکن اسے معلوم ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ دونوں فریقین اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

‎ایران کے ایک گاؤں میں بیٹھی ہوئی ایک بوڑھی خاتون نے دعا مانگی۔ "یا اللہ، ہمارے بچوں کو بچالے،" اس نے کہا۔ اس کی دعا میں وہ تمام مائیں شامل تھیں جو کسی بھی ملک میں اپنے بچوں کی سلامتی چاہتی ہیں۔ اسے نہیں معلوم کہ تہران اور واشنگٹن میں کیا فیصلے ہورہے ہیں۔ اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ جنگ سے ہمیشہ عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

‎اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر لگی ہیں۔ کیا مذاکرات ہوں گے یا نہیں؟ کیا کشیدگی کم ہوگی یا بڑھے گی؟ یہ سوال ہر زبان پر ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ خلیج فارس کے پانیوں میں اب ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ وہ خاموشی جو طوفان سے پہلے ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا