ٹرمپ نے ایران میں جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے ایرانی حکومت کو 'سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ' کا حوالہ دیا۔



۔تصور کیجئے ایک ایسے گھر کو جہاں دیواریں ہر طرف سے دھمکیوں کی لہریں محسوس کر رہی ہوں۔ یہ گھر ایران ہے، اور اس کی دیواریں اب ٹرمپ کے الفاظ سے لرز رہی ہیں۔ "سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ" — یہ نہیں، صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں، یہ ایک ایسی دھمکی ہے جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے ۔
‎میں سوچتا ہوں ان لوگوں کے بارے میں جو تہران کی تباہ حال گلیوں میں چل رہے ہیں۔ 50 دنوں بعد پہلی بار ایران ایئر کی اندرونی پروازیں دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہیں ۔ یہ ایک امید کی کرن ہے، لیکن ٹرمپ کا بیان اس امید پر بھی سایہ ڈال دیتا ہے۔ ایک بزرگ جو اپنے نواسے کے ساتھ تہران کے ایک تباہ شدہ مکان کو دیکھ رہا ہے — کیا وہ سمجھ پائے گا کہ "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کا مطلب کیا ہے؟ 
‎ٹرمپ نے جو کچھ کہا، اس کے پیچھے ایک دردناک حقیقت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے "ایران کی بحریہ، فضائیہ اور رہنماؤں کو تباہ کر دیا ہے" ۔ یہ الفاظ سننے میں عام لگ سکتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کتنے گھروں کے چراغ بجھے ہیں، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو کھویا ہے، کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں؟
‎لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ جنگ بندی، جو 8 اپریل 2026 کو شروع ہوئی تھی، اب ایک "جنگ بندی" رہ گئی ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دھمکی دی: "ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدان جنگ پر نئے کارڈ ظاہر کرنے کی تیاری کی ہے" ۔ یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے ہیں جو کونے میں کھڑا ہو اور آخری سانس تک لڑنے کا عزم کر چکا ہو۔
‎پاکستان، جو اس کشیدگی کا ثالث بننے کی کوشش کر رہا ہے، اب خود ایک مشکل صورت حال میں ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ ترار نے کہا: "ایران کی جانب سے اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا باضابطہ جواب ابھی تک موصول نہیں ہوا" ۔ یہ انتظار، یہ بے یقینی، یہ وہ لمحے ہیں جب تاریخ فیصلہ کرتی ہے کہ آگے کیا ہونا ہے۔
‎ٹرمپ نے ایک CNBC انٹرویو میں کہا: "میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے" ۔ لیکن کیا ان کے پاس واقعی وقت ہے؟ یا یہ وقت ان لاکھوں انسانوں کا ہے جو ہر روز خوف میں جاگتے ہیں؟ جب انہوں نے کہا کہ "ہماری فوج حملے کے لیے بے تاب ہے" ، تو کیا انہوں نے ان فوجیوں کے بارے میں سوچا جو میدان میں جانے والے ہیں؟ یا ان ماؤں کے بارے میں جو اپنے بیٹوں کا انتظار کریں گی؟
‎اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ "سفارت کاری کے لیے ایک اہم موقع" ہے ۔ لیکن جب ایک طرف "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں اور دوسری طرف ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان ہو، تو یہ موقع کتنا "اہم" رہ جاتا ہے؟
‎میں آخر میں صرف اتنا کہوں گا: تاریخ ہمیشہ بڑے رہنماؤں کے فیصلوں کو یاد رکھتی ہے، لیکن ان فیصلوں کی اصل قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ "سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ" ایک سیاسی تشخیص ہوسکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے وہ انسان چھپے ہیں جن کی زندگیاں اب بھی امید اور خوف کے درمیان لڑکھڑا رہی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا