ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔
ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔
جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 25 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کے چہرے پر وہی پراسرار مسکراہٹ تھی جو سفارت کاروں کو اس وقت آتی ہے جب وہ ایک ایسے کھیل میں اتر رہے ہوں جس کے قواعد صرف وہی جانتے ہوں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا، لیکن یہ رسمی جلوس دراصل ایک ایسے خطے کی نازک سفارت کاری کا آغاز تھا جہاں ہر قدم پر دہشت گردی، جوہری تنازعات اور بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا سایہ منڈلاتا ہے۔
اسلام آباد میں عراقچی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اپنی تاریخی کمزوری کا شکار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں "جلدی" نہیں کریں گے، اور اسرائیل-لبنان جنگ بندی کی توسیع کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار ایک اہم ترین "پل" کا بن جاتا ہے — ایک ایسا ملک جو ایران کا پڑوسی ہے، امریکہ کا قدیم اتحادی ہے، اور چین کا "سب سے قریب ترین دوست" بھی کہلاتا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استقبال کے بعد ایک مختصر بیان میں کہا، "ہمارا مقصد خطے میں امن اور استحکام ہے۔ ایران کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ تناؤ مذاکرات کے ذریعے حل ہو۔" لیکن ان کے الفاظ کے پیچھے ایک گہری تشویش تھی۔ پاکستان خود ایک ایسے معاشی بحران کا شکار ہے جہاں مہنگائی 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، اور اسے امریکی امداد اور چین کی سرمایہ کاری دونوں کی سخت ضرورت ہے۔ ایران کے ساتھ تیل کی تجارت اور گیس پائپ لائن کے منصوبے پاکستان کے لیے معاشی طور پر اہم ہیں، لیکن امریکہ کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی تلوار ہمیشہ سر پر لٹکتی رہتی ہے۔
عراقچی نے اپنے بیان میں کہا، "پاکستان ایک اہم ملک ہے اور ہم اس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، لیکن ہماری سرزمین پر کسی کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔" یہ بیان دراصل ایران کی "دوہرے اصول" والی پالیسی کا عکاس تھا — ایک طرف مذاکرات کی پیش کش، دوسری طرف سخت گیرانہ رhetoric۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں کہا تھا، "ایران میں کوئی 'سخت گیر' یا 'معتدل' نہیں ہے۔ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔" یہ بیان ایران کی داخلی یکجہتی کا اظہار تھا، لیکن بیرونی دنیا کے لیے یہ ایک خبردار کن اشارہ بھی تھا۔
پاکستان میں یہ دورہ ایک سیاسی پیچیدگی کا حامل بھی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت پہلے ہی اپوزیشن سے گھری ہوئی ہے، اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں۔ ایسی صورت حال میں، حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ایک فعال کردار ادا کرے تاکہ عوامی توجہ اندرونی بحران سے ہٹ سکے۔ لیکن یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر پاکستان ایران کا "باضابطہ ثالث" بننے کی کوشش کرے تو امریکہ کی جانب سے سفارتی یا معاشی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا ایجنڈا واضح طور پر تین نکات پر مرکوز تھا: پہلا، ایران کی جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ جاری تناؤ میں پاکستان کی ثالثی کا کردار؛ دوسرا، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرے سے بچاؤ؛ اور تیسرا، پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد پر دہشت گردی کے مسائل، خاص طور پر بلوچستان میں جیش العدل اور دیگر گروپوں کی سرگرمیاں۔
ایران نے حال ہی میں پاکستان کی سرحد کے قریب بلوچستان میں ایک کارروائی کی تھی جس میں اس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ پاکستان نے اس کارروائی کی مذمت کی تھی، لیکن دونوں ممالک جانتے ہیں کہ ان کی مشترکہ سرحد ایک ایسی زخمی جگہ ہے جہاں افغانستان کا عدم استحکام، بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں، اور مقامی علیحدگی پسند تحریکیں ایک خطرناک آمیزش بناتی ہیں۔
ایران کے لیے پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ "چین-پاکستان اقتصادی راہداری" (CPEC) کا حصہ ہے، جس میں ایران کی شمولیت ایک طویل عرصے سے زیر غور ہے۔ اگر ایران امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں مزید الجھتا ہے تو چین پاکستان کے ذریعے ایران تک ایک "متبادل راہ" تلاش کر سکتا ہے — نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ سفارتی طور پر بھی۔
لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس کھیل میں "کھلاڑی" بن سکتا ہے یا صرف ایک "میدان" رہ جائے گا؟ امریکہ نے حال ہی میں ایران پر مزید سخت پابندیاں لگائی ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ "ایران کی فوجی صلاحیتیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔" ایسے میں، اگر پاکستان ایران کا باضابطہ ثالث بننے کی کوشش کرے تو وہ امریکہ کی "عدم تعاون" کی فہرست میں آسکتا ہے۔
دوسری طرف، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات — جو پاکستان کے اہم مالی امداد دہندہ ہیں — ایران کے سخت مخالف ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب نے امریکہ سے فضائی دفاعی نظام خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو واضح طور پر ایران کے خلاف ہے۔ پاکستان کو ان تمام طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا، جو ایک ایسا کام ہے جو شاید اس کی موجودہ کمزور حکومت کے بس میں نہ ہو۔
عراقچی کے دورے کے ایک روز قبل ہی، ایران نے ہرمز کی آبی گزرگاہ میں تین کارگو جہازوں پر حملے کیے تھے، جن میں سے دو کو قبضے میں لے لیا گیا۔ یہ کارروائی ایک واضح پیغام تھا کہ ایران اب بھی ایک علاقائی طاقت ہے جو اپنے مفادات کے لیے فوجی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرتی۔ پاکستان کے لیے یہ پیغام اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کی اپنی بندرگاہیں — گوادر اور کراچی — اسی خطے میں واقع ہیں جہاں ایران کی "آبی گہرائیوں" کی پالیسی کا اثر پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ایک دلچسپ منظر دیکھنے میں آیا جب عراقچی نے لیاقت باغ میں قائم ایران کے بانی امام خمینی کی یادگار پر حاضری دی۔ یہ ایک سمبولک عمل تھا جو پاکستان میں ایران کی "نرم طاقت" کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی شیعہ آبادی — جو تقریباً 20 فیصد ہے — ایران کے لیے ایک اہم سیاسی اثاثہ ہے، لیکن یہی اثاثہ سعودی عرب کے لیے ایک خدشہ بھی ہے۔ پاکستان کو اس "مذہبی کارڈ" کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا ہوگا۔
مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے "خطے میں امن اور استحکام" کی اہمیت پر زور دیا، لیکن کوئی konkreet اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ خاموشی دراصل ایک سفارتی حکمت عملی تھی — کوئی بھی فریق امریکہ یا اسرائیل کو "پریشان" نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن پیغام واضح تھا: پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، کم از کم سفارتی طور پر۔
جب عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک "پاکستانی پیغام" بھی گیا — شاید ایک خفیہ خط، شاید ایک زبانی یقین دہانی، یا شاید صرف ایک امید کی کرن۔ لیکن خطے میں امن کے لیے یہ دورہ ایک نازک قدم ضرور تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قدم ایک پل کی طرف لے جائے گا، یا ایک اور گہری کھائی کی طرف؟
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پہلے ہی بہت کمزور ہے، اور اسرائیل کی "سبز بتی" کا انتظار ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ پاکستان کا کردار ابھی تک "دوستانہ مشیر" تک محدود ہے، لیکن اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ "زبردستی کا ثالث" بن سکتا ہے — ایک ایسی حالت جو شاید کسی کے مفاد میں نہ ہو، لیکن جس سے کوئی بچ نہیں سکے گا۔
.jpg)
Comments