ٹرمپ نے ایران امن مذاکرات کے لیے وٹ کوف اور کشنر کا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ خبر بظاہر ایک سادہ سفارتی فیصلہ لگ سکتی ہے، مگر اس کے اندر چھپی کہانی کہیں زیادہ پیچیدہ، گہری اور معنی خیز ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اپنے قریبی ساتھیوں—اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر—کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا محض ایک شیڈول کی تبدیلی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کے شطرنج بورڈ پر ایک اہم چال ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک طے شدہ سفارتی قدم اچانک روک دیا گیا؟ کیا یہ واقعی وقتی حکمت عملی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی پالیسی تبدیلی چھپی ہوئی ہے؟
واشنگٹن میں اس وقت جو فضا ہے، وہ غیر یقینی، دباؤ اور توازن کے درمیان جھول رہی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات ہمیشہ سے امریکہ کے لیے ایک حساس معاملہ رہے ہیں۔ ایک طرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش، اور دوسری طرف داخلی سیاسی دباؤ—یہ دونوں عوامل ہمیشہ فیصلہ سازی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ٹرمپ، جو اپنی غیر روایتی اور بعض اوقات غیر متوقع پالیسیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، اس بار بھی ایک ایسا قدم اٹھا چکے ہیں جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
پاکستان کا کردار اس پوری صورتحال میں نہایت اہم تھا۔ ماضی میں بھی پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان “خاموش سفارت کاری” میں پل کا کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد کو ایک ایسے مقام کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جہاں دونوں فریق کسی حد تک اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وٹ کوف اور کشنر کا مجوزہ دورہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔
لیکن اس دورے کی منسوخی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو پس پردہ کچھ ایسا ہو رہا ہے جس کے بارے میں عوام کو نہیں بتایا جا رہا، یا پھر امریکہ نے اپنی حکمت عملی میں اچانک تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کو روک کر یہ پیغام دیا جا رہا ہو کہ امریکہ جلد بازی میں نہیں ہے اور وہ اپنی شرائط پر ہی بات چیت چاہتا ہے۔ اس طرح کا رویہ ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں سے میل کھاتا ہے، جہاں وہ اکثر آخری لمحے میں فیصلے بدل کر مخالف فریق کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیتے تھے۔
دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کے اندرونی سیاسی حالات اس فیصلے کی اصل وجہ ہوں۔ انتخابی سیاست، کانگریس کا دباؤ، اور مختلف طاقتور حلقوں کی رائے—یہ سب عوامل خارجہ پالیسی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو امریکہ میں ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور شاید یہی وجہ ہو کہ اس وقت کوئی بڑا قدم اٹھانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ایران کی طرف سے بھی ردعمل دلچسپ ہو سکتا ہے۔ تہران ہمیشہ سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ امریکہ قابلِ اعتماد نہیں ہے، اور ایسے فیصلے اس بیانیے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اگر مذاکرات کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی رک جائے، تو اعتماد کی فضا کیسے قائم ہو سکتی ہے؟
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ ایک طرف یہ ملک عالمی سفارت کاری میں اپنا کردار مزید مضبوط کر سکتا ہے، دوسری طرف اسے محتاط رہنا ہوگا کہ وہ کسی بڑی طاقت کی کشمکش میں غیر ضروری طور پر نہ الجھ جائے۔ اسلام آباد کی پالیسی ہمیشہ توازن پر مبنی رہی ہے، اور موجودہ حالات میں بھی اسی توازن کو برقرار رکھنا سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔
یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پہلے ہی انتہائی نازک ہے۔ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی، اور علاقائی طاقتوں کے درمیان رقابت—یہ سب عوامل کسی بھی وقت بڑے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کا منسوخ ہونا ایک مثبت پیش رفت نہیں سمجھا جا سکتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ دورہ کیوں منسوخ ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک وقفہ ہے یا کسی بڑی تبدیلی کا آغاز؟ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا دروازہ بند ہو رہا ہے یا یہ صرف نئی شرائط کے ساتھ دوبارہ کھلنے کی تیاری ہے؟
ٹرمپ کی سیاست کو سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتے ہیں جو بظاہر متضاد لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک مخصوص حکمت عملی ہوتی ہے۔ اس فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا—ایک ایسا قدم جو فوری طور پر الجھن پیدا کرتا ہے، مگر شاید طویل مدت میں کسی بڑے مقصد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دنیا ایک بار پھر انتظار کی کیفیت میں ہے۔ سب کی نظریں واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد پر ہیں۔ ایک فیصلہ، ایک بیان، یا ایک ملاقات پورے خطے کی سمت بدل سکتی ہے۔
سیاست کے اس کھیل میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ آج جو راستہ بند نظر آتا ہے، کل وہی سب سے اہم راستہ بن سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگلی چال کون چلے گا—اور کب۔
یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ شاید ابھی شروع ہوئی ہے۔
.jpg)
Comments