‎ہرمز میں امریکی حملہ



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎آج کا مطلع ابر آلود نہیں، بلکہ بارود کی بو سے بوجھل ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جو صدیوں سے عالمی معیشت کی شہ رگ اور بین الاقوامی پانیوں کا ایک پرامن راستہ رہی ہے، آج ایک بار پھر خون اور آگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکی عسکری طاقت کے حالیہ حملے نے نہ صرف خطے کے پانیوں کو سرخ کر دیا ہے، بلکہ ان تمام دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے جو عالمی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے نام پر کیے جاتے تھے۔

‎یہ کوئی عام فوجی کارروائی نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور بے قابو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ جب گرجتے ہوئے امریکی طیاروں اور بحری جہازوں سے داغے گئے میزائل ہرمز کے پانیوں پر گرے، تو ان کا نشانہ صرف چند فوجی یا سٹریٹجک اہداف نہیں تھے، بلکہ اس حملے نے خطے کے کروڑوں انسانوں کے امن، سکون اور مستقبل کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

‎طاقت کا تکبر اور مظلومیت کی چیخیں

‎کسی بھی ملک کی خودمختاری پر اس طرح کا ننگا جارحانہ حملہ کرنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ کیا طاقتور ہونا ہی اس دنیا میں انصاف کا اکلوتا معیار بن چکا ہے؟ عالمی طاقتیں جب چاہیں، جہاں چاہیں، کسی بھی غریب یا ترقی پذیر خطے کو اپنی جنگی ہوس کا نشانہ بنا لیتی ہیں۔ ہرمز میں ہونے والا یہ حملہ اسی سامراجی تکبر کی ایک بدترین مثال ہے۔

‎جب بم دھماکے ہوتے ہیں، تو ان کی گونج واشنگٹن کے بند کمروں یا پینٹاگون کے ایئر کنڈیشنڈ ہالز تک شاید اس طرح نہیں پہنچتی، لیکن ان کی تپش ان ماؤں کے کلیجے جھلسا دیتی ہے جن کے لختِ جگر ان ساحلوں پر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں یا اپنی دھرتی کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔ اس حملے کے بعد سمندر کی لہروں پر تیرتا ہوا دھواں اور انسانی چیخیں یہ سوال کر رہی ہیں کہ آخر اس بے گناہ بہتے لہو کا حساب کون دے گا؟ کیا اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی غیرت صرف چند مخصوص ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے جاگتی ہے؟

‎سٹریٹجک گیم اور معاشی دہشت گردی

‎اگر تزویراتی (Strategic) اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے، تو آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے حساس ترین گزرگاہ ہے۔ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ اسی تنگ راستے سے گزرتا ہے۔ یہاں بارود کا ایک بھی گولا چلنے کا مطلب ہے:

‎عالمی معیشت کا دھڑام سے نیچے گرنا۔

‎غریب ممالک میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آنا جو غریب کے منہ سے نوالہ تک چھین لے۔

‎امریکہ نے یہ حملہ کر کے صرف ایک مخصوص ہدف کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اس نے عالمی معاشی استحکام پر خودکش حملہ کیا ہے۔

‎یہ کیسی سفارت کاری ہے جہاں مذاکرات کی میز کو لات مار کر بارود کی زبان میں بات کی جاتی ہے؟ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی دہائیوں سے جنگ و جدل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ شام، یمن، عراق اور فلسطین کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ اب ہرمز کے پانیوں کو ایک نیا میدانِ جنگ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس حملے کے پیچھے کارفرما ذہنیت وہی پرانی "تقسیم کرو اور راج کرو" کی پالیسی ہے، جہاں خطے کے ممالک کو آپس میں لڑا کر اپنے اسلحے کے کارخانے چلائے جاتے ہیں اور تیل کے ذخائر پر قبضہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

‎انسانی المیہ: اعداد و شمار کے پیچھے چھپا درد

‎میڈیا کی سرخیوں میں یہ خبریں آئیں گی کہ "اتنے سٹریٹجک مقامات کو تباہ کر دیا گیا" یا "اتنے فیصد اہداف حاصل کر لیے گئے"۔ لیکن کوئی ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپے انسانی المیے کو نہیں دکھائے گا۔

‎وہ نوجوان فوجی جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا، اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

‎وہ بوڑھا باپ جو اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا، اب اس کا جنازہ اٹھائے گا۔

‎* وہ بچے جو سمندر کی لہروں کو دیکھ کر مسکراتے تھے، اب بموں کے دھماکوں کی ہولناک آواز سے راتوں کو ڈر کر اٹھ جاتے ہیں۔

‎یہ انسانیت کا وہ قتلِ عام ہے جسے "کولیسٹرل ڈیمیج" (Collateral Damage) جیسے خوبصورت اور بے حس لفظوں کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مظلوموں کا بہنے والا ایک ایک قطرہ وقت آنے پر بڑی سے بڑی سلطنتوں کے تکبر کو بہا لے جاتا ہے۔ امریکہ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جنگیں کبھی بھی امن کا راستہ نہیں ہوسکتیں؛ بارود صرف نفرتیں پیدا کرتا ہے، اور نفرتوں کی فصل ہمیشہ تباہی لاتی ہے۔

‎عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی

‎اس نازک گھڑی میں عالمی برادری، خاص طور پر مغربی ممالک کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ جب بھی کوئی طاقتور ملک کسی کمزور پر حملہ کرتا ہے، تو دنیا کی بڑی طاقتیں مصلحت پسندی کی چادر اوڑھ کر سو جاتی ہیں۔ بیانات جاری کیے جاتے ہیں کہ "دونوں فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں"۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں ظالم اور مظلوم کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے؟ ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں سے لیس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنی بقا اور خودمختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

‎اگر آج اس جارحیت کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی، تو کل کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کا یہ سلسلہ اگر یوں ہی چلتا رہا، تو دنیا میں صرف "جنگل کا قانون" رہ جائے گا، جہاں طاقتور کو ہر ظلم کی اجازت ہوگی اور کمزور کا صرف سانس لینا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔

‎ردِعمل کی چنگاری: کیا ہوگا اگلا قدم؟

‎تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب آپ کسی کو دیوار سے لگا دیتے ہیں، تو پھر اس کے پاس پیچھے ہٹنے کا راستہ نہیں بچتا۔ ہرمز پر اس حملے کے بعد خطے کی غیور عوام اور قوتوں کے دلوں میں انتقام اور نفرت کی جو آگ بھڑکی ہے، اسے بجھانا اب کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اس حملے کا ردِعمل صرف سفارتی مذمتوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے دور رس اور ہولناک اثرات خود امریکی مفادات پر بھی پڑیں گے۔

‎جب لہریں بپھرتی ہیں، تو وہ ساحلوں پر موجود مضبوط ترین کشتیوں کو بھی غرقاب کر دیتی ہیں۔ ہرمز کے غیرت مند عوام اور وہاں کی قیادت اس ظلم کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی۔ یہ حملہ امن کی ہر کوشش کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

‎آخری لفظ: بارود کے ڈھیر پر بیٹھی دنیا

‎ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں، غربت اور بیماریاں انسانیت کے بڑے چیلنجز ہیں، لیکن افسوس کہ عالمی طاقتوں کی ترجیح انسانوں کو بچانا نہیں، بلکہ انہیں مارنے کے نئے اور مہلک طریقے ڈھونڈنا ہے۔

‎امریکہ کا ہرمز پر یہ حملہ تاریخ کے سیاہ ابواب میں لکھا جائے گا۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ دنیا کے منصف اور عالمی طاقتیں ہوش کے ناخن لیں۔ جنگ کے اس جنون کو روکا جائے، ورنہ ہرمز سے اٹھنے والے یہ شعلے صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کی لپیٹ میں وہ ایوان بھی آئیں گے جہاں بیٹھ کر ان حملوں کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ امن کا راستہ صرف اور صرف برابری، احترام اور انصاف سے ہو کر گزرتا ہے، بارود اور تکبر سے نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا