چین کے اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ امریکہ اور ایران سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں چین کے اعلیٰ سفارت کار کا یہ بیان کہ “امید ہے امریکہ اور ایران کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے” ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بیان محض رسمی سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ مزید جنگ، معاشی تباہی اور سیاسی بحران کا شکار نہ ہو۔
چین نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے جو تنازعات کے بجائے مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے نہ صرف معاشی میدان میں اپنی طاقت بڑھائی بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی زیادہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کی ثالثی نے دنیا کو حیران کیا تھا۔ اب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے چین کی دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنی معاشی اور سیاسی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ انتہائی پیچیدہ رہی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی مسلسل بڑھتی گئی۔ اقتصادی پابندیاں، جوہری پروگرام، خلیج میں فوجی کشیدگی اور پراکسی جنگوں نے اس تعلق کو مزید خراب کیا۔ 2015 میں جوہری معاہدہ ایک بڑی پیش رفت سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں امریکہ کی معاہدے سے علیحدگی نے صورتحال کو دوبارہ کشیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد ایران پر سخت پابندیاں لگیں جبکہ ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام میں پیش رفت تیز کر دی۔
آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کسی بھی غلط فیصلے کے اثرات عالمی معیشت پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت، خلیجی سلامتی اور توانائی کی سپلائی سب اس تنازع سے جڑی ہوئی ہیں۔ چین چونکہ دنیا کا سب سے بڑا توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے خلیج میں استحکام اس کے لیے صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین بار بار مذاکرات اور سمجھوتے کی حمایت کر رہا ہے۔
چینی سفارت کار کے بیان کو بعض تجزیہ کار ایک مثبت سفارتی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین دراصل امریکہ اور ایران دونوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آسکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کا فائدہ دنیا بھر کی معیشتوں کو ہوگا جو اس وقت مہنگائی اور توانائی بحران سے نبرد آزما ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ پر تحفظات رکھتا ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے ماضی میں معاہدوں کی پاسداری نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی ہر کوشش کسی نہ کسی مرحلے پر تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔
تاہم عالمی حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ روس یوکرین جنگ، عالمی معاشی دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بڑی طاقتوں کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ امریکہ بھی شاید ایک اور بڑے تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ ایران بھی شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں چین جیسے طاقتور ملک کی ثالثی یا سفارتی حمایت مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
عوامی سطح پر بھی لوگ جنگ کے بجائے امن کی امید رکھتے ہیں۔ ایران کے عام شہری برسوں کی پابندیوں اور مہنگائی سے پریشان ہیں جبکہ امریکہ میں بھی مسلسل بیرونی تنازعات پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ اگر کوئی نیا معاہدہ سامنے آتا ہے تو اس سے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
جذباتی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے خوف، جنگ اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر بار جب سفارت کاری کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے تو لوگوں کے دلوں میں ایک نئی روشنی جاگ اٹھتی ہے۔ چین کے سفارت کار کا حالیہ بیان بھی اسی امید کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا شاید اب مزید تباہی نہیں بلکہ استحکام چاہتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ صرف بیانات سے مسائل حل نہیں ہوتے، لیکن بعض اوقات ایک جملہ بھی عالمی سیاست میں نئے دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران واقعی مذاکرات کی میز پر سنجیدگی سے بیٹھتے ہیں تو یہ صرف دو ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اپنے پرانے اختلافات بھلا کر آگے بڑھ سکیں گے؟ کیا چین کی سفارتی کوششیں واقعی کوئی بڑا نتیجہ دے سکیں گی؟ اور کیا دنیا ایک نئے بحران سے بچ جائے گی؟ یہ سوالات ابھی مستقبل کے پردے میں ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت واشنگٹن، تہران اور بیجنگ پر جمی ہوئی ہیں۔

Comments