ٹرمپ نے ایران جنگ بندی پر فیصلہ کرنے کے لیے صورتحال کے کمرے کا اجلاس طلب کر لیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رات کے اندھیرے میں جب وائٹ ہاؤس کے صورتحال کے کمرے کی روشنیاں جلتی ہیں تو دنیا بھر کے لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگ بندی کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، اور یہ خبر صرف سیاسی حلقوں میں نہیں بلکہ عام انسانوں کے دلوں میں بھی تشویش پیدا کر رہی ہے۔
جنگ کا لفظ ہمیشہ خوف لے کر آتا ہے۔ یہ صرف ہتھیاروں کی گھن گرج نہیں ہوتی بلکہ ماں کی بے چینی، بچوں کی سسکیاں اور مستقبل کے خوابوں کا بکھر جانا بھی ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا بوجھ اٹھا چکا ہے، اور وہاں کے لوگ مزید تباہی نہیں چاہتے۔
آج جب امریکی قیادت ایک اہم فیصلے کے دہانے پر کھڑی ہے تو دنیا دعا کر رہی ہے کہ عقل، بردباری اور امن کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات نئے نہیں، مگر ہر تنازعے کے باوجود امید ہمیشہ زندہ رہی ہے۔ امید کہ ایک دن مذاکرات بندوقوں پر غالب آئیں گے، اور سفارت کاری دشمنی کی دیواروں کو گرا دے گی۔ یہی امید آج بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں میں موجود ہے۔
اگر جنگ بندی مضبوط ہوتی ہے تو یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ان ماؤں کی جیت ہوگی جو اپنے بیٹوں کو محفوظ دیکھنا چاہتی ہیں، ان بچوں کی جیت ہوگی جو بموں کی آواز کے بغیر سونا چاہتے ہیں، اور ان خاندانوں کی جیت ہوگی جو امن کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ ہر آنکھ واشنگٹن کی طرف لگی ہوئی ہے، ہر دل امن کی دعا مانگ رہا ہے، اور ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ آنے والی صبح جنگ کے سائے نہیں بلکہ امید کی روشنی لے کر آئے۔
تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو نسلوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ شاید یہ لمحہ بھی انہی میں سے ایک ہو۔ دنیا کی خواہش صرف اتنی ہے کہ اس بار انسانیت جیت جائے اور جنگ ہار جائے۔
.jpg)
Comments