ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں کیا شامل ہے؟



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف چند سفارتی فیصلوں کا رہ گیا ہے۔ ایران سے متعلق جاری کشیدگی، چاہے وہ امریکہ کے ساتھ ہو، اسرائیل کے ساتھ ہو یا خلیجی ممالک کے ساتھ، اب صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور انسانی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا راستہ بن سکتے ہیں۔

‎ایران کے حوالے سے جاری مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ اس کے جوہری پروگرام کا ہے۔ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو محدود کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف اشارہ دیتے ہوں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت ایٹمی توانائی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔

‎یہی اختلاف کئی برسوں سے کشیدگی کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن سمجھا گیا تھا، مگر بعد میں امریکہ کی علیحدگی اور پابندیوں کی واپسی نے حالات کو دوبارہ خراب کر دیا۔ اب نئے مذاکرات میں ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد معاشی پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ اس کی کمزور معیشت دوبارہ سنبھل سکے۔

‎ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور عوامی بے چینی نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران مذاکرات میں صرف سکیورٹی معاملات ہی نہیں بلکہ اقتصادی ریلیف کو بھی مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اس کی تیل کی برآمدات بحال ہوں، بینکنگ نظام عالمی مالیاتی نیٹ ورک سے دوبارہ جڑ سکے اور غیر ملکی سرمایہ کاری واپس آئے۔

‎دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ وہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لیے مذاکرات میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ ایران خطے میں اپنے عسکری اتحادیوں کی سرگرمیوں کو محدود کرے۔

‎یہ معاملہ ایران کے لیے نہایت حساس ہے کیونکہ تہران خود کو خطے میں ایک بڑی طاقت سمجھتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور اتحادیوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل اور امریکہ کی موجودگی خطے میں مسلسل بڑھ رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات صرف ایٹمی پروگرام تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن سے جڑے ہوئے ہیں۔

‎ان مذاکرات کا ایک اور اہم پہلو جنگ بندی اور سمندری راستوں کا تحفظ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مذاکرات میں یہ کوشش بھی شامل ہے کہ خلیج میں کشیدگی کم ہو اور عالمی تجارت محفوظ رہے۔

‎انسانی پہلو بھی اس بحران میں بہت اہم ہے۔ جنگوں کا سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایران میں پہلے ہی اقتصادی مشکلات نے عوام کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی عدم استحکام کے خوف میں مبتلا ہیں۔ اگر جنگ پھیلتی ہے تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور عالمی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

‎اسی لیے اقوامِ متحدہ، چین، روس اور یورپی ممالک بھی سفارتی کوششوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ چین خاص طور پر خطے میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ سے وابستہ ہیں۔ روس بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپی ممالک کی کوشش ہے کہ ایک ایسا معاہدہ ہو جو نہ صرف جنگ کو روکے بلکہ طویل مدتی استحکام کی بنیاد بھی بن سکے۔

‎تاہم مذاکرات کی راہ آسان نہیں۔ دونوں جانب اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔ ایران کو خدشہ ہے کہ اگر اس نے بڑی رعایتیں دیں تو مستقبل میں دوبارہ پابندیوں یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ ایران واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

‎یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ مذاکرات کے بعد امید اور مایوسی دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے، اور کبھی ایک بیان یا حملہ پورے عمل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم چیز سیاسی ارادہ ہے۔ اگر تمام فریق واقعی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں لچک دکھانا ہوگی۔

‎دنیا اس وقت مزید جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یوکرین سے غزہ تک پہلے ہی عالمی نظام دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے میں ایران کے حوالے سے کسی بڑے تصادم کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔

‎ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات دراصل صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن، معیشت اور انسانی مستقبل کا سوال ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو شاید خطے میں ایک نئی شروعات ممکن ہو سکے۔ لیکن اگر ناکامی ہوئی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

‎آج دنیا کو توپوں سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے، کیونکہ جنگیں صرف شہر تباہ نہیں کرتیں، وہ نسلوں کے خواب بھی جلا دیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا