ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کا بیان: کیا 24 ارب ڈالر امن مذاکرات کو بچا سکتے ہیں؟



 ایران کے سپریم لیڈر کے ایک مشیر کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن مذاکرات کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں 24 ارب ڈالر جاری کرنا ہوں گے۔ یہ بیان نہ صرف سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے بلکہ اس نے عالمی سفارت کاری کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

‎یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں استحکام کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف طویل عرصے سے یہ رہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہے تو محض بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔

‎24 ارب ڈالر کی رقم دراصل ایک علامتی اور عملی دونوں طرح کی اہمیت رکھتی ہے۔ ایرانی حلقوں کے مطابق یہ رقم ان معاشی نقصانات کا ایک حصہ ہے جو پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے باعث ایران کو برداشت کرنا پڑا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر امریکہ کسی مالیاتی اقدام کے ذریعے حسن نیت کا مظاہرہ کرے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو کسی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔

‎دوسری جانب امریکی سیاسی حلقوں میں اس مطالبے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی انتظامیہ کے لیے اتنی بڑی مالیاتی رعایت دینا سیاسی طور پر آسان نہیں ہوگا۔ امریکہ میں ایران کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والے سیاستدان ایسے کسی اقدام کی مخالفت کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو مالی فوائد دینے کے بجائے پہلے اس سے مزید ضمانتیں حاصل کرنا ضروری ہوں گی۔

‎عالمی سفارت کاری میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی رہا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے وعدوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔ ایک طرف ایران کا کہنا ہے کہ ماضی میں کیے گئے معاہدوں سے امریکہ پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ دوسری طرف واشنگٹن ایران کی بعض پالیسیوں اور سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کا ہر دور امید اور خدشات دونوں کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

‎خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، یورپی ممالک، چین اور روس سب چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی شکل میں کشیدگی کم ہو۔ کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بحری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت سب اس تنازعے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

‎عام ایرانی شہریوں کے لیے بھی یہ مسئلہ محض سفارت کاری تک محدود نہیں۔ اقتصادی پابندیوں نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنایا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل نے عوام پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اسی لیے ایران کے اندر بھی بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا راستہ نکلے جس سے معاشی حالات بہتر ہو سکیں اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے۔

‎اسی طرح امریکہ میں بھی کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ مسلسل کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لیں تو کسی درمیانی حل تک پہنچنا ممکن ہے۔ تاہم یہ عمل آسان نہیں ہوگا کیونکہ کئی دہائیوں کی بداعتمادی ایک ہی معاہدے یا ایک ہی مالیاتی پیکج سے ختم نہیں ہو سکتی۔

‎24 ارب ڈالر کے مطالبے کو بعض ماہرین ایک سفارتی حکمت عملی بھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ایران اس طرح مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط اور ترجیحات کو واضح کرنا چاہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ حتمی معاہدہ اسی رقم یا اسی شکل میں ہو، لیکن یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کا خواہاں ہے۔

‎آخرکار سوال یہ نہیں کہ 24 ارب ڈالر دیے جائیں گے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور امریکہ ایک ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں جہاں مذاکرات کامیاب ہوں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے تنازعات صرف طاقت سے نہیں بلکہ صبر، سفارت کاری اور باہمی مفادات کو سمجھنے سے حل ہوتے ہیں۔

‎آج دنیا ایک بار پھر اس امید کے ساتھ ایران اور امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں کوئی ایسا راستہ نکل آئے جو جنگ کے خطرات کو کم کرے، خطے میں استحکام لائے اور لاکھوں لوگوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکے۔ امن کی قیمت ہمیشہ جنگ سے کم ہوتی ہے، اور یہی حقیقت ہر سنجیدہ سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد ہونی چاہیے

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا