ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں کیونکہ ڈیڈ لائن کم ہے۔



 ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں کیونکہ ڈیڈ لائن کم ہے۔

‎واشنگٹن میں آج کل ایک عجیب سی ہلچل ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان دیا ہے جس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی کیونکہ وقت بہت کم ہے۔ یہ سن کر ایک امریکی شہری نے کافی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے اپنے دوست سے کہا، "ٹرمپ پھر وہی کر رہے ہیں جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، سب کو حیران کر دیتے ہیں۔"

‎ٹرمپ نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ جو ڈیڈ لائن مقرر تھی اس میں اب صرف چند دن باقی ہیں۔ "میں کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا جو صرف کاغذ پر اچھا لگے،" ان کے یہ الفاظ میں وہی پرانا ٹرمپ تھا جو ہمیشہ سخت فیصلے کرتا نظر آتا ہے۔ ان کی آواز میں وہ یقین تھا جو کسی بھی بحث کو ختم کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو کسی نئے منصوبے کی نشانی دیتی ہے۔

‎نیویارک کے ایک کاروباری شخص نے اس بیان پر اپنی رائے دی۔ "ٹرمپ جانتے ہیں کہ وقت کم ہے، لیکن شاید وہ کچھ اور سوچ رہے ہیں،" اس نے کہا۔ اس کی بات میں وہ تجربہ تھا جو سالوں کی کاروباری چالوں سے سیکھا جاتا ہے۔ وہ ٹرمپ کو اچھی طرح جانتا تھا، دونوں نے ایک ہی شہر میں دہائیوں گزارے تھے۔ "وہ ہمیشہ آخری لمحے تک انتظار کرتے ہیں، پھر کوئی حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہیں،" اس نے مزید کہا۔

‎فلسطین میں ایک بوڑھی خاتون نے یہ خبر سنی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "ہمارے بچے پھر مریں گے،" اس نے رو کر کہا۔ وہ 2014 کی یاد کرتی ہے جب ایک مختصر جنگ بندی کے بعد پھر بمباری شروع ہوئی تھی۔ اس وقت اس کا پوتا زخمی ہوا تھا جو آج تک ٹانگ سے معذور ہے۔ "یہ لوگ ہمارے بارے نہیں سوچتے، وہ صرف اپنی سیاست سوچتے ہیں،" اس کے یہ الفاظ میں سالوں کی تکلیف تھی۔

‎اسرائیل میں ایک نوجوان سپاہی نے اپنے والد سے فون پر بات کی۔ "اب کیا ہوگا؟" اس نے پوچھا۔ اس کا والد، جو خود 1973 کی جنگ میں لڑ چکا تھا، نے کہا، "بیٹا، سیاستدانوں کے فیصلوں پر ہمارا کوئی قابو نہیں۔" اس کی آواز میں وہ تھکاوٹ تھی جو تین نسلوں کی جنگوں سے آتی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ ایک اور جنگ کا مطلب کیا ہے، مزید لاشیں، مزید یتیم، مزید بربادی۔

‎ٹرمپ کے اس بیان کا اثر تیل کی منڈی میں فوری نظر آیا۔ ایک تاجر نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا، "قیمتیں پھر بڑھ گئی ہیں، لوگ پریشان ہیں۔" اس کی دکان پر آنے والے گاہک پہلے سے کم خوش نظر آ رہے تھے۔ "ایک عام آدمی کیا کرے؟ وہ تو صرف اپنی روٹی روزگار چاہتا ہے،" تاجر نے افسوس سے کہا۔ اسے یاد تھا 2008 کا وہ سال جب تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پوری دنیا کو مہنگائی کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

‎واشنگٹن میں ایک سابق سفارت کار نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے سوچا، "کیا ٹرمپ واقعی نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے؟" اس نے مشرق وسطیٰ میں تیس سال گزارے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ ایک جنگ بندی کی کتنی قیمت ہوتی ہے، کتنی جانیں بچتی ہیں۔ "نہیں، وہ سب جانتے ہیں،" اس نے خود ہی جواب دیا، "لیکن ان کی سیاست مختلف ہے۔" اس کی بات میں وہ مایوسی تھی جو ایک سفارت کار کو تبدیل ہوتی سیاست دیکھ کر ہوتی ہے۔

‎ٹرمپ کے ایک قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "وہ ایک بڑی ڈیل سوچ رہے ہیں۔" اس کے مطابق ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایک جامع امن معاہدہ ہو جو صرف جنگ بندی نہ ہو بلکہ مستقل حل نکالے۔ "لیکن اس کے لیے دونوں فریقین کو بہت کچھ دینا ہوگا،" اس نے کہا۔ یہ بات واضح تھی کہ ٹرمپ کوئی چھوٹا سا کام نہیں چاہتے، وہ ہمیشہ کی طرح "دی گریٹ ڈیل" چاہتے ہیں۔

‎ایک فلسطینی لکھاری نے اپنے بلاگ پر لکھا، "ہمیں ان کے الفاظ نہیں، ان کے عمل دیکھنے چاہئیں۔" اس کی تحریر میں وہ درد تھا جو ایک قوم کو جب اپنے گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔ "ٹرمپ نے 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا درجہ دیا تھا، اب ہم ان سے کیا امید رکھیں؟" اس کا یہ سوال ہر فلسطینی کے ذہن میں تھا جو آج کل رات کو نیند نہیں آتی۔

‎اقوام متحدہ کے دفتر میں ایک سفارت کار نے اپنے ہم منصب سے کہا، "ہمیں انھیں سمجھانا ہوگا۔" لیکن اسے خود معلوم تھا کہ ٹرمپ کو کون سمجھا سکتا ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جو اپنی مرضی کے مطابق چلتے تھے۔ "شاید ہمیں عوامی دباؤ بڑھانا ہوگا،" دوسرے سفارت کار نے تجویز دی۔ لیکن عوامی دباؤ کا اثر ٹرمپ پر کتنا ہوتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔

‎امریکہ کے ایک چھوٹے شہر میں ایک سابق فوجی نے ٹی وی پر یہ خبر دیکھی تو اپنے پاؤں کے نیچے زمین نکلتی محسوس کی۔ "میں عراق گیا تھا، میں جانتا ہوں جنگ کیا ہے،" اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں وہ خوفناک منظر تھے جو بیس سال پہلے اس نے دیکھے تھے۔ "اگر یہ جنگ بندی ختم ہوئی تو اور بہت سے نوجوان وہی منظر دیکھیں گے جو میں نے دیکھے،" اس کی آواز میں کانپنا تھا۔

‎ٹرمپ کے حامیوں میں ایک مختلف رائے ہے۔ ٹیکساس میں ایک کاروباری شخص نے کہا، "وہ ہمارے لیے درست کام کر رہے ہیں۔" اس کا خیال تھا کہ کسی بھی قیمت پر ایک کمزور معاہدہ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ "اگر ہمیں ایک اچھا معاہدہ نہیں ملتا تو بہتر ہے کہ کوئی معاہدہ نہ ہو،" اس نے زور دے کر کہا۔ اس کی بات میں وہی امریکی فخر تھا جو ہمیشہ سخت فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔

‎لیکن ایک امریکی ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، "میں نہیں چاہتی کہ تو کسی اور جنگ میں جائے۔" اس کا بیٹا فوج میں بھرتی ہونے والا تھا۔ "ٹرمپ کو کیا پتہ، ان کے بچے تو محفوظ ہیں،" اس کے یہ الفاظ میں وہی غصہ تھا جو ہر ماں کو اپنے بچے کو خطرے میں دیکھ کر آتا ہے۔ وہ یاد کرتی تھی ویت نام کا وہ دور جب امریکہ نے کتنی مائوں کے بیٹے کھو دیے تھے۔

‎اب سب کی نظریں آنے والے چند دنوں پر لگی ہیں۔ کیا ٹرمپ واقعی جنگ بندی ختم ہونے دیں گے؟ یا پھر آخری لمحے کوئی حیرت انگیز اعلان کریں گے؟ یہ سوال ہر زبان پر ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ جو بھی ہو، عام لوگوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔ وہی لوگ جو کسی جنگ میں نہیں گئے، وہی لوگ جو صرف امن چاہتے ہیں۔

‎خلیج فارس کے کنارے ایک ماہی گیر نے اپنے جال پھینکے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ "اللہ جانے کیا ہوگا،" اس نے سر ہلایا۔ اس کی زندگی میں اتنی جنگیں آ چکی ہیں کہ اب وہ ہر خبر پر صرف سر ہلاتا ہے۔ "ہم تو صرف مچھلیاں پکڑنا چاہتے ہیں،" اس نے افسوس سے کہا۔ لیکن اسے معلوم ہے کہ سیاستدانوں کے فیصلوں کی لہریں سمندر تک آتی ہیں اور اس کے جال خالی رہ جاتے ہیں۔

‎واشنگٹن میں آج رات ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ سفارت کار سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ کل صبح جو بھی خبر آئے گی، وہ کسی نہ کسی کی زندگی بدل دے گی۔ ٹرمپ شاید اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے سوچ رہے ہوں گے، "اب اگلا قدم کیا ہو؟" اور پوری دنیا ان کے اگلے قدم کا انتظار کر رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا