تہران کا کویت پر حملہ؛ حماس کا غزہ سے متعلق امن منصوبے کے مسودے پر اتفاق
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ان دنوں انتہائی متضاد اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، جہاں تہران نے کویت پر حملہ کر کے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھا دیا ہے، تو دوسری جانب غزہ کے محاذ پر ایک نسبتاً مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے تحت تیار کیے گئے امن منصوبے کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر حملوں کے بعد آئی آر جی سی نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے تہران نے واضح طور پر ایک انتقامی کارروائی قرار دیا۔ اس حملے میں کویت کے شمالی علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا، جبکہ اردن نے بھی اپنی سرزمین کی جانب داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی خطے کے چھوٹے ممالک، جو براہِ راست اس تنازعے کا حصہ نہیں، اب اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں، غزہ کے معاملے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حماس نے ایک ایسے مجوزہ خا...