بحری جہازوں کے قبضے کی اطلاع سے امن مذاکرات پر نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
بحری جہازوں کے قبضے کی اطلاع سے امن مذاکرات پر نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
تصور کیجئے ایک ایسے کپتان کو جو رات کے اندھیرے میں اپنے جہاز کو ہرموز آبنائے سے گزار رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک خاندان ہے جو اس کی آمد کا انتظار کر رہا ہے، اس کے سامنے ایک ایسا سمندر جو اب دشمن بن چکا ہے۔ اچانک، اندھیرے سے نکلتی ہیں IRGC کی گن بوٹس، اس کے برج پر فائرنگ کرتی ہیں، اور اسے "خلاف ورزی" کا مجرم قرار دیتے ہوئے قبضے میں لے لیتی ہیں۔ یہ نہیں، کوئی فلم کا منظر نہیں، یہ 22 اپریل 2026 کی رات تھی، جب MSC Francesca اور Epaminondas کے عملے نے موت کا سامنا کیا۔
صرف چند گھنٹے قبل، صدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ پر لکھا تھا کہ وہ "امن" کی خاطر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں۔ لیکن اس "امن" کے اعلان کے بعد جو ہوا، اس نے کروڑوں دلوں میں امید کی بجائے خوف کا بیج بویا۔ کیونکہ ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ناکہ بندی جاری رہے گی — وہی ناکہ بندی جو ایران کے لیے "جنگ کا فعل" ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو تہران کی تباہ حال گلیوں میں روٹی کے ایک ٹکڑے کی تلاش میں ہے، یہ "امن" کیا معنی رکھتا ہے؟
میں سوچتا ہوں ان ماؤں کے بارے میں جو بندر عباس کے بندرگاہوں پر کھڑی ہوتی ہیں، اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ نہیں جانتیں کہ "سمندری خلاف ورزی" کیا ہوتی ہے، وہ نہیں سمجھتیں کہ "جنگ بندی" اور "ناکہ بندی" میں کیا فرق ہے۔ وہ صرف اتنا جانتی ہیں کہ ان کا گھر ٹوٹ چکا ہے، ان کا بیٹا سمندر پر ہے، اور کسی "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کی دھمکی ان کے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔
اور پھر وہ امریکی بحری جہاز Tosca کا واقعہ یاد آتا ہے، جسے 19 اپریل کو امریکی بحریہ نے قبضے میں لیا تھا۔ ایران نے اسے "سمندری دہشت گردی" قرار دیا تھا۔ میں سوچتا ہوں ان بحری جہازوں کے عملے کے بارے میں جو اب IRGC کی حراست میں ہیں — کیا انھیں معلوم ہے کہ وہ دو سپر طاقتوں کی چال بازی کا محض پتھر بن چکے ہیں؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی اب "مذاکرات" کی میز پر ایک کارڈ بن کر استعمال ہو رہی ہے؟
جب امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کا اسلام آباد جانے کا منصوبہ تحلیل ہوا، تو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کتنی ناامیدی محسوس کی ہوگی۔ وہ جو ثالث بننے کی کوشش کر رہے تھے، اب دیکھ رہے ہیں کہ ان کی میز پر بیٹھنے والے کھلاڑی ہی میز اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر قالیباف نے جو "نئے کارڈ" ظاہر کرنے کی دھمکی دی تھی، کیا وہ یہی تھا؟ ایک ایسا کارڈ جو عام انسانوں کے خون سے رنگا ہوا ہے؟
معیشت کا وہ منظر دیکھیے جو اس غیر یقینی صورتحال نے پیدا کیا۔ برینٹ کروڈ تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔ جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے 20,000 پروازیں منسوخ کر دیں۔ ایک عام خاندان جو یورپ سے ایشیا سفر کرنا چاہتا تھا، اب اسے دوگنا کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔ ایک کسان جو ٹریکٹر کے لیے ڈیزل خریدتا تھا، اب سوچتا ہے کہ کیا اس کی فصل اس قیمت پر قابل فروخت ہوگی۔ یہ نہیں، کوئی دور کی بات نہیں، یہ آج ہماری دنیا ہے جہاں کسی "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کی سیاسی دھمکی ہمارے ناشتے کی میز تک پہنچ جاتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا: "میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے"۔ لیکن کیا انھیں معلوم ہے کہ اس "وقت" کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ وہ بچہ جو تہران کے ایک تباہ شدہ اسکول میں پڑھنے جاتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اس کے والدین اس کے اسکول کی فیس کیسے ادا کریں گے جب روپیہ روزانہ گر رہا ہے؟ وہ نوجوان جو بندر عباس کی بندرگاہ پر مزدوری کرتا تھا، اب بے روزگار ہے کیونکہ ناکہ بندی نے تجارت کو ٹھپ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے "اہم موقع" کی بات کی۔ لیکن جب ہرموز آبنائے میں گن بوٹس گشت کر رہی ہوں، جب تیل کے ٹینکر موڑے جا رہے ہوں، جب کپتانوں کو حراست میں لیا جا رہا ہو — یہ "موقع" کس کے لیے ہے؟ کیا یہ ان ماؤں کے لیے ہے جو اپنے بیٹوں کی تصویریں سینے سے لگائے بیٹھی ہیں؟ یا یہ ان سیاست دانوں کے لیے ہے جو ٹی وی سکرین پر "فتح" کے اعلان کرتے ہیں؟
میں آخر میں صرف ایک بات کہوں گا: بحری جہازوں کے قبضے کی خبریں، ناکہ بندی کے اعلانات، اور "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کے بیانات — یہ سب ایک بڑے کھیل کے چھوٹے موہرے ہیں۔ لیکن اس کھیل کی بساط پر بیٹھے وہ نہیں جو اعلان کرتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو چپ چاپ ادا کرتے ہیں۔ وہ کپتان جسے حراست میں لیا گیا، وہ ماں جو انتظار میں ہے، وہ بچہ جو اسکول نہیں جا سکتا، وہ کسان جو اپنی فصل نہیں بچا سکتا — یہ ہیں اصل کھلاڑی، اور یہ ہیں اصل ہارنے والے۔
تاریخ ایک دن اس جنگ کا حساب لگائے گی، لیکن وہ حساب کاغذوں پر نہیں، دلوں پر لکھا جائے گا۔ اور وہ دل، جو آج ہرموز آبنائے کے اندھیرے میں ڈرتے ہیں، وہی کل کے "امن" کا فیصلہ کریں گے — اگر وہ زندہ بچے تو۔
.jpg)
Comments