ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل-لبنان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع، لیکن وہ ایران کے معاہدے میں 'جلدی' نہیں کریں گے



 جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے ساتھ ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع ہوگی، تو یہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی انتہا پر تھی۔ اس اعلان نے نہ صرف لبنان میں ہزاروں جانیں بچانے کا امکان پیدا کیا، بلکہ امریکہ کے ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے تناظر میں ایک نئی سفارت کاری کی راہ بھی دکھائی۔

‎یہ دوسرا موقع تھا جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے۔ پہلا دور 14 اپریل کو ہوا تھا، جو 1993 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت تھا۔  ٹرمپ نے اس ملاقات کو "تاریخی" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون جلد ہی وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کریں گے۔ 

‎لیکن اس خوشخبری کے پیچھے ایک سرد جنگ جاری ہے۔ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ جمعرات کے روز ہی، جب مذاکرات وائٹ ہاؤس میں جاری تھے، حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جو اسرائیلی دفاعی نظام نے روک لیے۔  اسرائیل نے بھی جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے، جن میں ایک صحافی سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ 

‎ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو حزب اللہ کی مالی معاونت بند کرنا ہوگی۔ "یہ ضروری ہے،" ان کا کہنا تھا۔  امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے حزب اللہ کا موازنہ ایک ایسے شرارتی بچے سے کیا جو پتھر پھینکتا رہتا ہے، اور کہا کہ اگر یہ بچہ رک جائے تو پڑوسی امن سے رہ سکتے ہیں۔ 

‎دوسری طرف، ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا رویہ زیادہ محتاط اور سخت دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، "میں خود کو جلدی میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں بہترین معاہدہ چاہتا ہوں، میں ابھی معاہدہ کر سکتا ہوں، لیکن میں ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہوں جو ہمیشہ کے لیے قائم رہے۔"  ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ نے پہلے چار ہفتوں میں ایران کی فوجی صلاحیتیں "تباہ" کر دی ہیں، اور اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران کیا پیشکش لاتا ہے۔ 

‎ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی، جو پہلے ہی غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دی گئی تھی، بہت زیادہ کمزور دکھائی دے رہی تھی۔ ایران نے ہرمز کی آبی گزرگاہ میں تین کارگو جہازوں پر حملے کیے اور دو کو قبضے میں لے لیا، جسے امریکی بحری ناکامندی کا بدلہ قرار دیا۔  جواب میں، ٹرمپ نے امریکی فوج کو حکم دیا کہ "ہر اس کشتی کو گولی مار کر ہلاک کریں جو ہرمز کی آبی گہرائی میں بارودی سرنگیں بچھا رہی ہو۔" 

‎ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کی قیادت "انتشار" کا شکار ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، "ایران کو یہ سمجھنے میں بہت مشکل ہو رہی ہے کہ ان کا لیڈر کون ہے! وہ صرف نہیں جانتے! سخت گیروں اور معتدلوں کے درمیان لڑائی پاگل پن ہے!"  لیکن ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک جمعیتی ردعمل دیتے ہوئے کہا، "ایران میں کوئی 'سخت گیر' یا 'معتدل' نہیں ہے۔ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔" 

‎اس پس منظر میں، اسرائیل-لبنان جنگ بندی کی توسیع ایک سانس کی جگہ ضرور فراہم کرتی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی unanswered ہے کہ کیا یہ امن پائیدار ہوگا؟ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ امریکیوں کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لیے "تھوڑی دیر" تیار رہنا ہوگا۔  تیل کی قیمتیں پھر سے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

‎اسرائیل کے دفاعی وزیر اسرائیل کatz نے ایک ویڈیو بیان میں دھمکی دی کہ "اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم امریکہ سے سبز بتی کا انتظار کر رہے ہیں۔"  یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں جنگ بندی کتنی نازک ہے۔

‎ٹرمپ کا "جلدی نہیں" کا نعرہ ایک طرف تو سفارت کاری کی دانشمندی دکھاتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اس لڑائی میں ایک طاقتور پوزیشن محسوس کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران کی "انتشار زدہ" قیادت اس دباؤ کو کب تک برداشت کر سکے گی؟ اور کیا لبنان میں امن، جو دراصل ایران اور اسرائیل کی لڑائی کا ایک محاذ ہے، بغیر ایک بڑے علاقائی معاہدے کے ممکن ہے؟

‎جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی سفیر ندا حمادہ معوض کی طرف سے "لبنان کو دوبارہ عظیم بنانے" کی امید کا اظہار سنا، تو شاید انہیں یاد آیا کہ امن ہمیشہ جنگ سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔  تین ہفتوں کی یہ جنگ بندی ایک موقع ہے، لیکن مواقع اکثر ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، خاص طور پر جب ہرمز کی آبی گہرائی میں بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی ہوں اور راکٹ جنوبی لبنان سے اسرائیل کی طرف اڑ رہے ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا