پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی توقع ہے 'جلد کی بجائے': ایف او



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ کم اور اشارے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ سفارتی بیانات بظاہر مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر چھپی ہوئی حکمت عملی پورے خطے کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے حالیہ بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی توقع ہے، لیکن یہ پیش رفت “جلد کی بجائے” وقت لے سکتی ہے۔

‎یہ صرف ایک سفارتی جملہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ، عالمی طاقتوں، توانائی کی سیاست اور خطے کے امن سے جڑی کئی پرتیں موجود ہیں۔ اسلام آباد بخوبی جانتا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، خصوصاً پاکستان پر بھی براہِ راست پڑتے ہیں۔

‎پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے نہایت محتاط انداز میں اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس عمل میں جلد بازی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اس بیان میں دراصل سفارتی حقیقت پسندی جھلکتی ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

‎ایران اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ مسلسل بداعتمادی، پابندیوں، دھمکیوں اور خفیہ مذاکرات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی مذاکرات کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں، تو کبھی اچانک کوئی واقعہ پورا ماحول خراب کر دیتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، اسرائیل کے تحفظات، خلیجی ممالک کی تشویش اور مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی تنازعات — یہ سب عوامل اس مسئلے کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

‎پاکستان اس تمام صورتحال میں ایک نہایت حساس مقام رکھتا ہے۔ ایک طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکا طویل عرصے سے پاکستان کا اہم شراکت دار رہا ہے۔ اسلام آباد ہمیشہ کوشش کرتا آیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔

‎اسی لیے پاکستان کا حالیہ بیان نہ صرف محتاط بلکہ انتہائی متوازن بھی سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے نہ تو غیر ضروری خوش فہمی ظاہر کی اور نہ ہی مایوسی۔ بلکہ اس نے ایک حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کی راہ کھلی رہنی چاہیے، مگر اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔

‎اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوگی۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ پابندیوں میں نرمی آنے سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا۔ پاکستان جیسے ممالک، جو توانائی درآمد کرتے ہیں، اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

‎دوسری اہم بات علاقائی سلامتی کی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کئی بار خطرناک سطح تک پہنچی۔ آبنائے ہرمز، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی تلخی، یمن اور شام کے تنازعات — یہ سب دنیا کو بڑے تصادم کے قریب لے گئے۔ اگر امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔

‎پاکستان اس امکان کو اپنے مفاد میں بھی دیکھتا ہے۔ اسلام آباد اچھی طرح جانتا ہے کہ خطے میں جنگ یا شدید کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سلامتی اور سفارتی ماحول پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔

‎تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ راستہ آسان نہیں۔ امریکا کے اندر بھی ایران کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ کچھ حلقے سخت پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی جاری رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ اسی طرح ایران کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔

‎یہ بداعتمادی کئی ماضی کے واقعات سے جڑی ہوئی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے ماضی میں جوہری معاہدے کی شرائط پوری کیں، مگر امریکا نے بعد میں معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ دوسری جانب امریکا ایران کے علاقائی کردار اور عسکری سرگرمیوں پر تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے۔

‎پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں اپنے تعلقات کو متوازن رکھے۔ چین، امریکا، خلیجی ممالک اور ایران — یہ سب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے دور رہتے ہوئے امن اور استحکام کی حمایت کی جائے۔

‎سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا حالیہ بیان دراصل ایک “خاموش سفارت کاری” کی مثال ہے۔ اسلام آباد کھل کر کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا نظر آنے کے بجائے ایک ایسے کردار میں رہنا چاہتا ہے جو کشیدگی کم کرنے میں معاون ہو۔

‎یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے مہینوں میں پسِ پردہ مذاکرات میں تیزی آئے۔ دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ بعض اوقات بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے معاہدے اچانک ممکن ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے سیاسی ارادہ، اعتماد سازی اور مستقل سفارت کاری ضروری ہوتی ہے۔

‎پاکستان کی جانب سے “جلد کی بجائے” والا جملہ دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی بھی معاہدہ فوری طور پر سامنے نہیں آئے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور تزویراتی بھی ہیں۔

‎اس کے باوجود امید کی ایک کرن موجود ہے۔ دنیا اس وقت پہلے ہی کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ یوکرین جنگ، عالمی معاشی دباؤ، توانائی کا بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال — ان حالات میں عالمی طاقتیں شاید مزید بڑے تصادم سے بچنا چاہیں۔

‎پاکستان کی خواہش بھی یہی ہے کہ خطہ ایک نئے بحران کی طرف نہ بڑھے۔ کیونکہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں، ان کے اثرات معیشتوں، عوام اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

‎آج جب دنیا غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان کا محتاط مگر مثبت مؤقف یہ پیغام دیتا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو مستقبل میں خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا