آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔
آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے حساس ترین سمندری راستے، یعنی آبنائے ہرمز، میں حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی نازک جنگ بندی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالمی طاقتیں پہلے ہی خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، توانائی کے بحران اور فوجی محاذ آرائی کے امکانات سے پریشان تھیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والا ہر چھوٹا واقعہ بھی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاست پر فوری اثر ڈالتا ہے۔ حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اب بھی انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکی بحریہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری یونٹس کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب چند مشتبہ کشتیوں کی نقل و حرکت پر دونوں جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ ابتدا میں یہ صرف ایک معمول کی نگرانی سمجھی جا رہی تھی، مگر چند ہی لمحوں میں صورتحال خطرناک رخ اختیار کر گئی اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ اگرچہ دونوں جانب سے فوری طور پر بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن اس واقعے نے پورے خطے میں خوف اور بے چینی کی لہر دوڑا دی۔
امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس کے بحری یونٹس نے اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا، جبکہ ایران نے امریکی موجودگی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ خلیجی پانیوں میں غیر ملکی فوجی موجودگی ہی اصل کشیدگی کی جڑ ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ عالمی تجارت اور بحری آزادی کے تحفظ کے لیے وہاں موجود ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کئی سفارتی کوششیں کی گئی تھیں۔ خفیہ مذاکرات، علاقائی ثالثی اور پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی قائم ہوئی تھی، جس نے خطے میں وقتی سکون پیدا کیا۔ مگر آبنائے ہرمز میں ہونے والی اس جھڑپ نے اس پورے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
عالمی منڈیوں نے بھی اس صورتحال پر فوری ردِعمل دیا۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں خلیج میں جنگی ماحول عالمی معیشت کے لیے ایک نئے طوفان کا آغاز بن سکتا ہے۔
خطے کے ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں کسی بھی بڑے تصادم کے ممکنہ اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر فوری رابطے تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز غیر محفوظ ہوتی ہے تو عالمی تجارت، شپنگ انڈسٹری اور توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں کھلی جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معمولی غلطی بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
اس ساری صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ بندی برقرار رہ سکے گی؟ بظاہر دونوں ممالک مکمل جنگ سے گریز چاہتے ہیں، کیونکہ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ میدان میں موجود فوجی طاقتیں بعض اوقات سیاسی قیادت کی سفارتی کوششوں سے مختلف انداز میں ردِعمل دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے واقعات بھی بڑی جنگ کا سبب بن جاتے ہیں۔
ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہے۔ پابندیوں، داخلی مسائل اور علاقائی دباؤ نے تہران کے لیے حالات پیچیدہ بنا دیے ہیں۔ دوسری جانب امریکا بھی مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی طویل جنگ میں الجھنے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن کی ترجیح اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان توازن اور اندرونی سیاسی استحکام ہے۔ مگر اس کے باوجود خلیجی پانیوں میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں خطرات کو مسلسل بڑھا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں بھی اس واقعے نے شدید توجہ حاصل کی ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے ایک وقتی جھڑپ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ماہرین کے مطابق یہ آنے والے بڑے بحران کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کئی بڑی جنگیں ایسے ہی محدود واقعات سے شروع ہوئیں جنہیں ابتدا میں معمولی سمجھا گیا تھا۔
اگر آنے والے دنوں میں سفارتی رابطے مؤثر ثابت نہ ہوئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر کسی بھی جانب سے جارحانہ بیان بازی یا مزید فوجی کارروائی سامنے آئی تو خطہ ایک بار پھر کھلے تصادم کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ فائرنگ کا تبادلہ صرف ایک فوجی واقعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک خطرناک موڑ کی علامت ہے۔ دنیا اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں علاقائی تنازعات لمحوں میں عالمی بحران بن سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران اگر دانشمندی، سفارت کاری اور تحمل کا راستہ اختیار نہ کر سکے تو اس کشیدگی کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے جھٹکے محسوس کرے گی۔
.jpg)
Comments