جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان امریکی ایران ڈپلومیسی کو بچانے کے لیے لڑ رہا ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان، امریکی۔ایران ڈپلومیسی کو بچانے کے لیے متحرک
دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں بارود کی بو پھیل رہی ہے، سفارتی راہداریوں میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے، اور عالمی طاقتیں ایک ایسی کشمکش کے گرد جمع ہو رہی ہیں جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے نے نہ صرف خطے کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی سفارت کاری کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایسے حساس وقت میں پاکستان ایک بار پھر خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مکمل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ٹوٹتے ہوئے سفارتی پل کو کسی نہ کسی طرح قائم رکھا جائے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال صرف ایک خارجی معاملہ نہیں۔ اس بحران کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، سلامتی، توانائی اور خطے میں اس کے سفارتی کردار پر پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قیادت اس معاملے کو محض دور بیٹھ کر دیکھنے کے بجائے پسِ پردہ متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے حالیہ دنوں میں مختلف عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے تیز کیے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ایک نہایت محتاط توازن پر کھڑی ہے۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات ہیں، جنہیں پاکستان مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر سکتا، جبکہ دوسری طرف ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ جغرافیہ، مذہب، تجارت اور سرحدی سلامتی کے گہرے تعلقات موجود ہیں۔
یہی توازن پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔
پاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت واشنگٹن اور تہران دونوں سے بات کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عالمی مبصرین اسلام آباد کو ممکنہ “بیک چینل ڈپلومیسی” کے لیے ایک قابلِ قبول فریق قرار دے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کسی کھلی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ ماضی میں بھی جب خلیج میں تناؤ بڑھا، پاکستان نے ثالثی یا کم از کم کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی۔ اس بار بھی اسلام آباد کا پیغام واضح دکھائی دیتا ہے: “خطہ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔”
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ سکتی ہیں، عالمی معیشت دباؤ میں آ سکتی ہے، خلیجی ریاستوں میں بے چینی بڑھ سکتی ہے، اور سب سے اہم یہ کہ جنوبی ایشیا بھی عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
پاکستان اس وقت پہلے ہی معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور سلامتی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ پاکستان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں، پاکستان کی معیشت ترسیلاتِ زر پر انحصار کرتی ہے، جبکہ توانائی کے بحران میں مزید اضافہ ملک کو نئی آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔
اسی لیے پاکستانی پالیسی ساز اس بحران کو صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ سمجھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس وقت اس کی “غیر جانبدارانہ سفارت کاری” ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد نہ تو مکمل طور پر کسی ایک فریق کے کیمپ میں کھڑا نظر آنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ خطے میں تنہائی کا شکار ہونا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی بیانات میں احتیاط، توازن اور مذاکرات پر زور نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان واقعی اتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے کہ امریکا اور ایران جیسے بڑے مخالفین کے درمیان اعتماد بحال کر سکے؟
اس سوال کا جواب آسان نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اکیلا اس بحران کو حل نہیں کر سکتا، لیکن وہ کشیدگی کم کرنے میں ایک معاون کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔ بعض اوقات عالمی سیاست میں مکمل کامیابی سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ تباہی کو کچھ دیر کے لیے روکا جا سکے، رابطے کا دروازہ بند نہ ہونے دیا جائے، اور جنگ کے بجائے بات چیت کے امکان کو زندہ رکھا جائے۔
پاکستان غالباً اسی مقصد کے لیے سرگرم ہے۔
ادھر عالمی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین، روس، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستیں سب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں یہ بحران پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو خاموشی سے سراہا بھی جا رہا ہے، کیونکہ بہت کم ممالک ایسے رہ گئے ہیں جو دونوں فریقوں کے ساتھ قابلِ قبول رابطہ رکھتے ہوں۔
اس بحران نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ پرانے اتحاد بدل رہے ہیں، نئی صف بندیاں بن رہی ہیں، اور درمیانی طاقتوں کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان اگر دانشمندی سے قدم اٹھائے تو وہ صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے۔
لیکن اس راستے میں خطرات بھی کم نہیں۔
اگر کشیدگی مزید بڑھی تو پاکستان پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے کہ وہ کسی ایک جانب زیادہ واضح پوزیشن اختیار کرے۔ یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں اسلام آباد کی سفارتی مہارت کا اصل امتحان شروع ہوگا۔
ابھی تک پاکستان کی حکمتِ عملی یہی دکھائی دیتی ہے کہ جنگ سے بچاؤ، مذاکرات کی بحالی، اور خطے میں استحکام کو ترجیح دی جائے۔ یہی پالیسی نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے بھی امید کی ایک کرن بن سکتی ہے۔
دنیا اس وقت طاقت کے بجائے تدبر کی منتظر ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان واقعی سفارتی پل کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف ایک علاقائی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ عالمی سیاست میں اسلام آباد کی اہمیت کو بھی ایک نئی شناخت مل سکتی ہے۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں خاموش سفارت کاری، بلند نعروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو۔

Comments