پاکستان کی ثالثی کے عمل کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن وہ فعال ہے: ایران کا عراقچی



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎دنیا کی سیاست میں بعض اوقات خاموش سفارت کاری، بلند آواز بیانات سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک نازک لمحے میں ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے پاکستان کے کردار کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اگرچہ کئی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اسلام آباد اب بھی سرگرم اور متحرک ہے۔ یہ بیان صرف ایک سفارتی جملہ نہیں، بلکہ اس خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا اعتراف بھی ہے۔

‎مشرقِ وسطیٰ اس وقت مسلسل بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خلیجی ممالک کے تحفظات، اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اقدامات، اور عالمی طاقتوں کی پراکسی سیاست نے پورے خطے کو ایک بار پھر خطرناک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف دونوں فریقوں سے تعلقات رکھتا ہے بلکہ ایک متوازن سفارتی حیثیت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

‎ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران پاکستان کی کوششوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ثالثی کا راستہ آسان نہیں۔ کئی علاقائی اور عالمی رکاوٹیں موجود ہیں، مختلف قوتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کر رہی ہیں، اور اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان مسلسل رابطوں، مذاکرات اور سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

‎پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ایک توازن پر مبنی رہی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی اور اقتصادی روابط بھی بہت گہرے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جو کشیدگی کو کم کر سکے۔

‎وزیراعظم Shehbaz Sharif اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar نے حالیہ مہینوں میں متعدد عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے۔ پاکستان کی کوشش رہی کہ خطے میں جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ کیونکہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنوبی ایشیا بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

‎پاکستان کو اس معاملے میں کئی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ پہلی بڑی مشکل یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ امریکا ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں کسی تیسرے فریق کے لیے اعتماد پیدا کرنا ایک انتہائی مشکل کام بن جاتا ہے۔

‎دوسری اہم رکاوٹ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اسرائیل، ترکی اور چین جیسے ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ ہر ملک چاہتا ہے کہ خطے میں اس کا اثر قائم رہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو نہایت محتاط سفارت کاری کرنا پڑ رہی ہے تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت کا تاثر نہ ابھرے۔

‎پاکستان کے لیے ایک اور چیلنج داخلی معاشی صورتحال بھی ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی مسائل کے باوجود اسلام آباد سفارتی محاذ پر فعال دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو دوبارہ اہمیت ملنا شروع ہوئی ہے۔

‎عراقچی کا بیان دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان اب بھی خطے میں ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کو یہ احساس ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک پڑوسی ملک ہے بلکہ ایک ایسا مسلم ملک بھی ہے جو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔

‎دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی کم کرنے کی بات کی ہے۔ چاہے وہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ہوں، افغانستان کا بحران ہو، یا امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ — اسلام آباد نے اکثر مصالحتی کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کے نتائج ہمیشہ فوری طور پر سامنے نہیں آتے، لیکن سفارت کاری میں مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

‎ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی موجودہ کوششیں فوری معاہدے تک شاید نہ پہنچ سکیں، لیکن یہ رابطے مستقبل میں کسی بڑے بحران کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جنگیں اکثر اس وقت رکتی ہیں جب پس پردہ سفارت کاری خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتی ہے۔

‎چین بھی اس پورے منظرنامے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ بیجنگ خطے میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ اس کے اقتصادی مفادات مشرقِ وسطیٰ سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان چونکہ چین کا قریبی اتحادی ہے، اس لیے اسلام آباد بعض معاملات میں ایک سفارتی پل کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔

‎اس تمام صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم چیز اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا ہے۔ اگر پاکستان کسی ایک فریق کے بہت قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کی ثالثی کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی قیادت محتاط بیانات اور متوازن پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

‎آج کی دنیا میں جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، خطے غیر مستحکم ہوتے ہیں، اور عام لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دے رہا ہے۔ عراقچی کے حالیہ بیان نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اگرچہ راستہ مشکل ہے، لیکن پاکستان کی کوششیں اب بھی جاری اور مؤثر سمجھی جا رہی ہیں۔

‎وقت بتائے گا کہ یہ سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ پاکستان اس وقت خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا تصادم کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، پاکستان کا مذاکرات پر زور دینا ایک مثبت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا