ایرانی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے طریقہ کار کا اعلان کرے گا، فیس جمع کرے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دنیا کی معیشت، عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ایک حساس موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کے حالیہ بیان نے نہ صرف خطے میں تشویش کی نئی لہر پیدا کی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران جلد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کروائے گا، جس کے تحت بحری جہازوں سے فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان بظاہر ایک اقتصادی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں جغرافیائی سیاست، عالمی دباؤ اور طاقت کے توازن کی ایک بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والا تیل اور گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل تجارت اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والی معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں آ جاتی ہیں، اور عالمی سفارت کاری میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے علاقائی حقوق اور سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسا نظام لا سکتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔ اگرچہ اس منصوبے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، مگر یہ بیان کافی تھا کہ عالمی میڈیا، تیل کی منڈیاں اور مغربی حکومتیں متحرک ہو جائیں۔
ایران کا مؤقف یہ ہے کہ وہ برسوں سے شدید اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ تہران کے حکام اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر عالمی طاقتیں ایران کی تیل برآمدات محدود کر سکتی ہیں تو ایران بھی اپنے جغرافیائی اثرورسوخ کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز اسی اثرورسوخ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی اس قسم کے بیانات کو عالمی تجارت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ واشنگٹن بارہا واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے اور وہاں کسی ایک ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی بحریہ کئی برسوں سے خلیج میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگر ایران واقعی کوئی نیا فیس سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے خطے میں عسکری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس صورتحال میں خلیجی ممالک بھی تشویش کا شکار ہیں۔ خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک کی معیشتیں بڑی حد تک تیل برآمدات پر منحصر ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت مہنگی یا غیر یقینی ہو جاتی ہے تو ان ممالک کے لیے اقتصادی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں بظاہر خاموش رہتے ہوئے بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
چین، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ایشیائی ممالک بھی اس معاملے میں براہِ راست دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ ان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی تیل سے پورا ہوتا ہے۔ اگر ایران کی جانب سے کسی قسم کی نئی فیس یا پابندی نافذ ہوتی ہے تو اس کے اثرات ایشیائی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ چین خاص طور پر اس صورتحال کو احتیاط سے دیکھ رہا ہے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات بھی رکھتا ہے اور خلیجی تیل پر انحصار بھی کرتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران اس بیان کے ذریعے صرف اقتصادی فائدہ حاصل کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ عالمی طاقتوں کو ایک سیاسی پیغام بھی دینا چاہتا ہے۔ تہران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ خطے کے اہم ترین تجارتی راستے کو اپنے اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اس قسم کی حکمت عملی ماضی میں بھی ایران کی جانب سے اشاروں کی صورت میں سامنے آتی رہی ہے، مگر حالیہ بیان نسبتاً زیادہ واضح اور براہِ راست سمجھا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بعض علاقائی ممالک، خصوصاً پاکستان، قطر اور عمان، خاموش سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ اسلام آباد کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ خلیج میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، توانائی ضروریات اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر پڑ سکتا ہے۔
اگر ایران واقعی آبنائے ہرمز کے لیے کوئی نیا فریم ورک متعارف کرواتا ہے تو اس کے قانونی اور بین الاقوامی پہلو بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ عالمی سمندری قوانین کے مطابق بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ نقل و حرکت ایک بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ سیکیورٹی، نگرانی یا علاقائی انتظامات کے نام پر مخصوص فیس لینا اس کا حق ہے۔ یہی قانونی بحث مستقبل میں ایک بڑے سفارتی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں نے بھی اس بیان پر فوری ردعمل دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کاروں نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کیا۔ کیونکہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات یورپ، ایشیا اور امریکا تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
موجودہ حالات اس حقیقت کو دوبارہ واضح کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ آج بھی عالمی سیاست کا سب سے حساس خطہ ہے۔ یہاں دیے گئے بیانات، کیے گئے فیصلے اور ہونے والی معمولی جھڑپیں بھی دنیا کی معیشت اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ایران کا حالیہ بیان بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ ہے جہاں طاقت، معیشت، سفارت کاری اور جغرافیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران واقعی اس منصوبے کو عملی شکل دیتا ہے یا یہ صرف ایک سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آبنائے ہرمز آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کے مرکز میں رہے گی، اور اس کے گرد ہونے والی ہر پیش رفت دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھے گی۔

Comments