پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ایٹمی بجلی گھر پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔



 بسم اللہ الرحمن الرحیم


دنیا ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایک معمولی عسکری کارروائی بھی پورے خطے کو بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ حالیہ دنوں متحدہ عرب امارات کے ایک ایٹمی بجلی گھر پر ہونے والے ڈرون حملے نے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی برادری کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا۔


پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حساس تنصیبات، خصوصاً ایٹمی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی سلامتی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں اور ان کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔


یہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی، پراکسی تنازعات اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ، اسرائیل کی علاقائی حکمت عملی، یمن کی صورتحال اور خلیجی ممالک کے تحفظات نے پورے خطے کو حساس بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ایٹمی بجلی گھر کو نشانہ بنانا صرف ایک ملک پر حملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔


پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان خود ایک ایٹمی طاقت ہے اور وہ ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کی حساسیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ مؤقف اپنایا ہے کہ ایٹمی تنصیبات کو جنگی تنازعات سے دور رکھا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف حملے کی مذمت کی بلکہ تمام فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی۔


وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور حساس انفراسٹرکچر پر حملوں کی مخالفت کرتا ہے، کیونکہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں بلکہ ماحولیات اور عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایٹمی بجلی گھر کو بڑا نقصان پہنچے تو اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتے۔ تابکاری، ماحولیاتی آلودگی اور انسانی صحت کے بحران کئی دہائیوں تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ دنیا ماضی میں چرنوبل اور فوکوشیما جیسے سانحات دیکھ چکی ہے، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایٹمی تنصیبات میں معمولی خرابی بھی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ایٹمی تنصیبات کو خصوصی تحفظ دیا جاتا ہے۔


پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کی مذمت دراصل ایک وسیع سفارتی پیغام بھی ہے۔ پاکستان یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے بارہا یہ کوشش کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم ہو اور مسلم دنیا کے اندر محاذ آرائی کے بجائے تعاون کو فروغ ملے۔


متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے تعلقات تاریخی، معاشی اور دفاعی بنیادوں پر قائم ہیں۔ لاکھوں پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کی فوری مذمت اور حمایت کو سفارتی حلقوں میں اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام چاہتا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جو امن کو خطرے میں ڈالے۔


عالمی برادری کی جانب سے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے حساس تنصیبات پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے عالمی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اب کم لاگت اور نسبتاً آسان حملے بھی بڑے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں سیکیورٹی پالیسیوں پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔


پاکستان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن کا قیام صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل سفارت کاری، اعتماد سازی اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ اگر کشیدگی کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، تجارت اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔


یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن صرف ایک علاقائی ضرورت نہیں بلکہ عالمی ضرورت بن چکا ہے۔ خلیجی خطہ دنیا کی توانائی سپلائی کا اہم مرکز ہے، اور یہاں پیدا ہونے والا عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان سمیت کئی ممالک اب زور دے رہے ہیں کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔


پاکستان کی مذمت دراصل صرف ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایٹمی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو تنازعات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ موجودہ حالات میں دنیا کو محاذ آرائی نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک غلط قدم پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا