جیسا کہ ہندوستان، متحدہ عرب امارات آرام دہ ہے، خلیج میں پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جیسے جیسے بھارت اور متحدہ عرب امارات قریب آ رہے ہیں، خلیج میں پاکستان کے تعلقات دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں
دنیا کی سیاست میں تعلقات کبھی مستقل نہیں ہوتے، بلکہ مفادات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج خلیجی خطے میں ایک نئی سفارتی صف بندی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نہ صرف معاشی میدان میں نمایاں ہو رہی ہے بلکہ اس کے سیاسی اور اسٹریٹجک اثرات بھی پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا خلیج میں اس کے روایتی تعلقات پہلے جیسے مضبوط رہ سکیں گے یا وقت کے ساتھ ان میں کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر معمولی انداز میں مضبوط کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ دفاعی تعاون، مذہبی ہم آہنگی، فوجی روابط اور لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کی موجودگی نے پاکستان اور خلیجی دنیا کو ایک دوسرے کے قریب رکھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے ہو رہے ہیں۔ بھارتی کمپنیاں دبئی اور ابوظہبی میں بڑے منصوبوں کا حصہ بن رہی ہیں جبکہ اماراتی سرمایہ بھارت کی بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور انفراسٹرکچر میں تیزی سے داخل ہو رہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی شراکت داری نے عالمی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ خلیج میں طاقت کے توازن میں ایک نئی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ خلیجی ممالک ہمیشہ اسلام آباد کی معیشت کے لیے اہم ستون رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے مختلف اوقات میں پاکستان کو مالی امداد، تیل کی سہولیات اور سرمایہ کاری فراہم کی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر خلیجی ممالک کی ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں تو اس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ بھارت نے گزشتہ برسوں میں اپنی معاشی طاقت کو سفارتی اثرورسوخ میں تبدیل کیا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشت بننے کی دوڑ میں شامل بھارت خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور اربوں صارفین کی منڈی نے بھارت کو خلیجی قیادت کے لیے ایک پرکشش شراکت دار بنا دیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سکیورٹی مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی سفارتی رفتار نسبتاً سست دکھائی دیتی ہے۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان خلیج میں اپنی اہمیت مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب بھی مسلم دنیا میں ایک اہم عسکری قوت سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون آج بھی قائم ہے۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور تربیتی پروگرام کئی عرب ممالک میں فعال ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی کم نہیں ہوئی، کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ مستقبل میں خطے کی تجارت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سفارت کاری میں خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اگر پاکستان اپنی معاشی اور سفارتی پوزیشن کو مزید مضبوط نہیں کرتا تو بھارت اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے پالیسی ساز اب نئی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو صرف مذہبی یا تاریخی بنیادوں پر نہ رکھا جائے بلکہ انہیں جدید معاشی تعاون، ٹیکنالوجی، تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مزید مضبوط بنایا جائے۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ پہلے بھی آتے رہے ہیں، مگر دونوں ممالک نے ہمیشہ تعلقات کو مکمل خرابی سے بچایا۔ حالیہ برسوں میں اماراتی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے کئی منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ یہ اشارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیجی ممالک پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم وہ اب زیادہ عملی اور مفاداتی انداز میں فیصلے کر رہے ہیں۔
یہاں ایک اہم پہلو چین کا بھی ہے۔ چین اور پاکستان کی قریبی شراکت داری بعض خلیجی ممالک کے لیے معاشی مواقع پیدا کرتی ہے، جبکہ بھارت امریکا اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس طرح خلیج ایک ایسے خطے میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ پاکستان کو اس پیچیدہ صورتحال میں انتہائی متوازن سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
عوامی سطح پر بھی پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان گہرے تعلقات موجود ہیں۔ لاکھوں پاکستانی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف دونوں خطوں کے درمیان معاشی پل ہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی رابطوں کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ اسی لیے خلیجی قیادت پاکستان کے ساتھ مکمل فاصلے کی پالیسی اختیار کرنے سے گریز کرتی ہے۔
مستقبل قریب میں غالب امکان یہی ہے کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کو بھی اپنی سفارتی ترجیحات کو نئے انداز میں ترتیب دینا ہوگا۔ اگر اسلام آباد معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور فعال خارجہ پالیسی پر توجہ دیتا ہے تو وہ خلیج میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اندرونی کمزوریاں برقرار رہیں تو خطے میں اس کا اثرورسوخ بتدریج کم ہو سکتا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے، اتحاد بدل رہے ہیں، اور مفادات کی سیاست پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے تاریخی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔ کیونکہ آج صرف جذبات نہیں، بلکہ معیشت، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک مفادات ہی عالمی تعلقات کی اصل بنیاد بن چکے ہیں۔

Comments