آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، ایران سے یورینیم واپس لے لیں گے، ٹرمپ
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عرب سے ملانے والی یہ تنگ سمندری پٹی عالمی تیل تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور قطر کی توانائی برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔
ٹرمپ کے بیان کو صرف ایک سیاسی نعرہ قرار دینا شاید درست نہ ہو، کیونکہ اس کے پیچھے خطے میں جاری وہ کشیدگی موجود ہے جو کئی برسوں سے امریکا اور ایران کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے خدشات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکا مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے یورینیم ذخائر کا ذکر کر کے دراصل اسی پرانے تنازعے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہ صرف خطے میں اپنی عسکری برتری برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو ایران کے جوہری مواد تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا انداز ہمیشہ جارحانہ اور غیرروایتی رہا ہے۔ وہ اکثر سخت الفاظ استعمال کر کے اپنے مخالفین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم اس بار ان کے الفاظ نے عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایران کے لیے یہ بیان براہِ راست چیلنج تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ تہران اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کے بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماضی میں بھی ایرانی حکام کئی بار ایسی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اگرچہ مکمل بندش کبھی عمل میں نہیں آئی، لیکن معمولی کشیدگی نے بھی عالمی تیل قیمتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کی بحری طاقت یقیناً خطے میں بہت مضبوط ہے۔ خلیج میں امریکی بحری بیڑے، جدید جنگی جہاز، آبدوزیں اور فضائی نگرانی کا وسیع نظام موجود ہے۔ اسی عسکری موجودگی کی بنیاد پر ٹرمپ نے “مکمل کنٹرول” کا دعویٰ کیا۔ لیکن دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز ایک حساس اور محدود جغرافیائی علاقہ ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے سے بڑا تصادم جنم لے سکتا ہے۔
اقتصادی اعتبار سے بھی یہ صورتحال دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتیں بلند ہو سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے اور کمزور معیشتوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسی صورتحال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی اور معاشی بحران کو بڑھاتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات دراصل امریکی داخلی سیاست سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امریکا میں انتخابی ماحول شدت اختیار کر رہا ہے اور ٹرمپ اپنی روایتی “طاقت کے مظاہرے” والی سیاست کے ذریعے اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے حامی اکثر ایسے بیانات کو امریکی طاقت اور قومی مفادات کے دفاع کے طور پر دیکھتے ہیں۔
دوسری طرف ایران بھی اس قسم کے دباؤ کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی پالیسی جاری رکھنے کا عندیہ دیتا رہا ہے۔ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ سخت مؤقف اختیار کیے بغیر وہ خطے میں اپنا اثرورسوخ برقرار نہیں رکھ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ اکثر خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک ایران کے ساتھ سفارتی اور معاشی روابط رکھتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک خطے میں استحکام چاہتے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ اسی لیے عالمی برادری کی کوشش یہی ہے کہ کشیدگی کسی کھلی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں چھوٹے واقعات بھی بڑے بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایک بیان، ایک حملہ یا ایک غلط فہمی پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں ذمہ دارانہ سفارت کاری، مذاکرات اور تحمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اگرچہ سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑے تصادم کی متحمل ہو سکتی ہے؟ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہے، جبکہ کئی خطے جنگ اور عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ ایسی صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معیشت، سیاست، انسانی زندگیوں اور عالمی امن تک پھیل جاتے ہیں۔ دنیا کو اس وقت اشتعال انگیز بیانات نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو خطے میں استحکام اور امن کی راہ ہموار کر سکیں۔
.jpg)
Comments