آبنائے کھولنے کے لیے ٹرمپ کو مشکل ترین مسائل کو بعد میں چھوڑنا پڑا



 بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر کامیابی کا راستہ تو کھول دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات مستقبل میں بڑے بحرانوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ سابق امریکی صدر Donald Trump کی خارجہ پالیسی بھی کچھ ایسی ہی پیچیدگیوں سے بھرپور رہی۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ان کی حکمتِ عملی نے کئی مواقع پر فوری نتائج تو دیے، لیکن بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل کرنے کے بجائے مؤخر کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات کے دوران بھی یہی منظرنامہ دیکھنے میں آیا۔

‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے گزرنے والا تیل اور گیس عالمی معیشت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں بلکہ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھی تو عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

‎اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آیا طاقت کا استعمال کیا جائے یا سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ ابتدا میں ٹرمپ نے سخت بیانات دیے، ایران پر معاشی پابندیاں بڑھائیں اور امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا۔ لیکن جلد ہی یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہوئی تو اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

‎اسی لیے ٹرمپ کو اپنی حکمتِ عملی میں لچک پیدا کرنا پڑی۔ انہوں نے فوری بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے بعض پیچیدہ مسائل کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیا۔ ایران کے ساتھ ایٹمی تنازع، خطے میں پراکسی جنگیں، یمن اور شام کی صورتحال، اور اسرائیل و فلسطین تنازع جیسے بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود رہے، مگر توجہ اس بات پر مرکوز رکھی گئی کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے اور عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

‎یہ فیصلہ وقتی طور پر کامیاب دکھائی دیا۔ عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا، تیل کی قیمتوں میں استحکام آیا اور بحری راستوں پر خوف کی فضا کسی حد تک کم ہوئی۔ لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک عارضی حل تھا۔ اصل تنازعات کو جوں کا توں چھوڑ دینا مستقبل میں مزید بڑے بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔

‎ٹرمپ کی پالیسی میں ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اکثر فوری سیاسی فائدے کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ امریکی عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ امریکا طاقتور ہے اور عالمی معاملات پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم حقیقت یہ تھی کہ مشرقِ وسطیٰ جیسے پیچیدہ خطے میں صرف دباؤ یا معاشی پابندیوں کے ذریعے دیرپا استحکام پیدا کرنا آسان نہیں۔

‎ایران بھی اس تمام صورتحال میں خاموش تماشائی نہیں تھا۔ تہران نے واضح پیغام دیا کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے واشنگٹن کو محتاط رہنے پر مجبور کیا۔ امریکا جانتا تھا کہ کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔

‎دوسری جانب خلیجی ممالک بھی ایک عجیب مخمصے کا شکار تھے۔ وہ ایک طرف امریکی حمایت چاہتے تھے، جبکہ دوسری طرف خطے میں جنگ کے خطرات سے بھی خوفزدہ تھے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادی ممالک کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ توانائی کی سپلائی جاری رہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے۔

‎ٹرمپ نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نسبتاً محتاط راستہ اختیار کیا۔ اگرچہ ان کے بیانات میں سختی برقرار رہی، مگر عملی طور پر مکمل تصادم سے گریز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی تجزیہ کاروں نے کہا کہ ٹرمپ نے “مشکل ترین مسائل کو بعد کے لیے چھوڑ دیا” تاکہ فوری بحران پر قابو پایا جا سکے۔

‎یہ حکمتِ عملی صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں تھی بلکہ ٹرمپ کے سیاسی انداز کا حصہ بھی سمجھی جاتی تھی۔ وہ اکثر پیچیدہ معاملات کو طویل مذاکرات یا مستقل حل کے بجائے فوری ڈیلز اور وقتی انتظامات کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس انداز نے بعض مواقع پر وقتی کامیابیاں ضرور دیں، لیکن کئی مسائل بعد میں مزید شدت اختیار کرتے گئے۔

‎آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بنیادی تنازعات حل کیے بغیر مکمل امن ممکن نہیں۔ آبنائے ہرمز وقتی طور پر کھلی رہ سکتی ہے، تجارت جاری رہ سکتی ہے اور عالمی منڈیاں پرسکون دکھائی دے سکتی ہیں، مگر اگر خطے میں اعتماد کا فقدان برقرار رہے تو خطرات دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔

‎دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ فوری بحرانوں کے ساتھ ساتھ دیرپا حل کی طرف بھی توجہ دیں۔ صرف وقتی استحکام کافی نہیں ہوتا۔ اگر بنیادی اختلافات، سیاسی عدم اعتماد اور علاقائی رقابتوں کو حل نہ کیا جائے تو ہر چند سال بعد نیا بحران جنم لیتا رہے گا۔

‎ٹرمپ کی پالیسی نے یہ ضرور ثابت کیا کہ بعض اوقات عالمی قیادت کو فوری تباہی سے بچنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہمیشہ موجود رہے گا کہ آیا مسائل کو مؤخر کرنا واقعی دانشمندی تھی یا صرف وقت حاصل کرنے کی کوشش۔

‎مشرقِ وسطیٰ کی سیاست آج بھی اسی سوال کے گرد گھوم رہی ہے۔ دنیا انتظار کر رہی ہے کہ آیا مستقبل کی قیادتیں ان پیچیدہ مسائل کا مستقل حل تلاش کر پائیں گی یا پھر وقتی سمجھوتوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا