چین کے ژی نے 'اٹوٹ' تعلقات کی تعریف کی، وزیر اعظم شہباز سے ملاقات کے دوران ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عالمی سیاست میں بعض تعلقات وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں، لیکن کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا تعلق بھی انہی لازوال رشتوں میں شمار ہوتا ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت اکثر “آہنی بھائی چارہ” اور “اٹوٹ دوستی” قرار دیتی ہے۔ حالیہ ملاقات میں چینی صدر Xi Jinping نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif بھی موجود تھے، جبکہ گفتگو میں خطے کی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور ایران سے متعلق امن کوششوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
چینی صدر نے خاص طور پر ایران کے معاملے میں پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی فضا قائم رکھنے کے لیے نہایت ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ مسلسل تناؤ کا شکار ہے، پاکستان نے ایک ایسے ملک کے طور پر خود کو پیش کیا ہے جو تصادم کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے۔
یہ ملاقات صرف رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ اس کے کئی گہرے سیاسی اور معاشی پہلو بھی ہیں۔ چین اس وقت عالمی سطح پر اپنی معاشی اور تزویراتی پوزیشن مزید مستحکم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی China-Pakistan Economic Corridor، اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی ستون سمجھی جاتی ہے۔
صدر ژی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین پاکستان کی خودمختاری، ترقی اور استحکام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں مزید قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر تجارت، انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک مستقبل میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں چین کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عالمی فورمز پر بھی ہمیشہ پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان “ون چائنا پالیسی” پر مکمل یقین رکھتا ہے اور چین کے بنیادی مفادات کے تحفظ کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایران کے معاملے پر گفتگو اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو تصور کیا جا رہا ہے۔ خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے مسلسل کوشش کی کہ معاملات جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف جائیں۔ پاکستان کی یہی پالیسی چین کو بھی متاثر کرتی دکھائی دی۔ چین خود بھی مشرقِ وسطیٰ میں استحکام چاہتا ہے کیونکہ خطے میں بدامنی عالمی تجارت اور توانائی کے منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوئی بلکہ یہ پیغام بھی گیا کہ پاکستان اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا ایک نئی جغرافیائی تقسیم کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی معیشت کے مسائل نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو بھی محتاط حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان اس صورتحال میں چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کر کے معاشی اور سیاسی استحکام حاصل کرنا چاہتا ہے۔
چین نے حالیہ برسوں میں پاکستان میں توانائی، سڑکوں، بندرگاہوں اور صنعتی منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ گوادر بندرگاہ کو خطے کی اہم تجارتی گزرگاہ بنانے کا خواب بھی دونوں ممالک کی مشترکہ سوچ کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں قیادتیں اس شراکت داری کو صرف دوطرفہ تعلق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک اتحاد قرار دیتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھتا ہے تو وہ مستقبل میں مزید اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ چین کی حمایت اس حوالے سے پاکستان کے لیے ایک بڑی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن قائم رکھنے میں پاکستان کی پوزیشن کافی حساس مگر اہم ہے۔
اس ملاقات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات وقتی سیاسی مفادات سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف اقتصادی ترقی میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی سیاست میں بھی ایک دوسرے کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی ملاقات کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات آنے والے برسوں میں مزید گہرے ہوں گے۔
عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے، مگر پاکستان اور چین کی دوستی اب بھی استحکام، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ صدر ژی جن پنگ کی جانب سے پاکستان کے امن کردار کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
.jpg)
Comments