ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان اگلے مالی سال کے لیے معاشی تخمینے بہتر کر سکتا ہے: اورنگزیب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی کے بعد پاکستان کے لیے معاشی امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے مالی سال کے لیے حکومت اپنے معاشی اہداف اور تخمینوں کو پہلے سے زیادہ مثبت انداز میں ترتیب دینے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم موقع ہے، کیونکہ عالمی حالات کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتیں، درآمدی اخراجات، سرمایہ کاری اور تجارت جیسے شعبے علاقائی امن سے جڑے ہوئے ہیں۔
ماضی میں جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی، اس کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک پر دیکھنے کو ملے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے مسائل نے معیشت کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اب اگر خطے میں امن قائم رہتا ہے تو پاکستان کو کئی شعبوں میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
سب سے بڑا اثر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام سے درآمدی بل کم ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور عام شہریوں کو بھی ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاک ایران اقتصادی تعلقات کے لیے بھی نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ سرحدی تجارت میں اضافہ، توانائی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی رابطوں کے منصوبے دوبارہ تیز رفتار پکڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطے میں امن سے تجارت کے مواقع بڑھتے ہیں اور ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط ہوتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بہتر عالمی ماحول پاکستان کے معاشی اشاریوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر توانائی کے اخراجات کم ہوتے ہیں اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے تو صنعتی سرگرمیوں، روزگار اور معاشی ترقی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی حکومت پرامید ہے۔ ایک پرامن خطہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے، جس سے پاکستان میں نئے منصوبوں کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔ چین، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ معاشی تعاون میں بھی مزید پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔
تاہم وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ صرف بیرونی حالات بہتر ہونے سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو اپنی اندرونی معاشی اصلاحات بھی جاری رکھنا ہوں گی۔ ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے اداروں کے مسائل حل کرنا اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی امن پاکستان کے لیے ایک موقع ضرور فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس موقع کو کامیابی میں بدلنے کے لیے مضبوط پالیسی، سیاسی استحکام اور مستقل معاشی فیصلے ضروری ہوں گے۔
اگر حکومت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والا مالی سال پاکستان کے لیے معاشی بہتری کی نئی امید لے کر آ سکتا ہے۔

Comments