پاکستان اور برطانیہ انسداد دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت پر تعاون بڑھانے پر متفق
سلام آباد / لندن: پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی، انٹیلیجنس شیئرنگ اور غیر قانونی ہجرت (Illegal Migration) کی روک تھام سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور سیکیورٹی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔
دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں روایتی اتحادیوں کے درمیان قریبی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انسانی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم عالمی برادری کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن چکے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی: مشترکہ خطرات کے خلاف متحدہ محاذ
مذاکرات کا ایک بڑا اور اہم ترین ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام تھا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی اپنی عظیم قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کا تفصیلی احاطہ کیا، جسے برطانوی حکام نے کھلے دل سے تسلیم کیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، قومیت یا سرحد نہیں ہوتی، اور اس ناسور سے نمٹنے کے لیے درج ذیل شعبوں میں عملی تعاون بڑھایا جائے گا:
· انٹیلیجنس شیئرنگ (معلومات کا تبادلہ): دونوں ممالک کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس، ان کی مالی معاونت (Terror Financing) اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلائی جانے والی انتہا پسندی پر نظر رکھنے کے لیے فوری طور پر معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
· تکنیکی معاونت اور تربیت: برطانیہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس (CTDs) کو جدید فرانزک سائنس، سائبر سیکیورٹی اور دہشت گردوں کے آن لائن پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے جدید ترین آلات اور تکنیکی مہارت فراہم کرے گا۔
· علاقائی استحکام: افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے علاقائی سیکیورٹی پر اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک پرامن اور مستحکم پڑوس کی ضرورت پر زور دیا۔
غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ: ایک سنگین چیلنج کا حل
حالیہ برسوں میں پاکستان سے برطانیہ اور یورپ کی طرف غیر قانونی طریقوں (ڈنکی لگانے اور انسانی اسمگلرز کے ہتھے چڑھ کر) ہجرت کرنے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ متعدد بحری حادثات میں قیمتی پاکستانی جانوں کا زیاں ہو چکا ہے، جس کے بعد دونوں حکومتوں نے اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے ایک جامع فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ہے جس کے بنیادی نکات یہ ہیں:
1۔ انسانی اسمگلرز اور مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن
سرحد پار فعال انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس، بین الاقوامی نیٹ ورکس اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) مل کر ان مجرموں کے مالی اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کے لیے کارروائی کریں گی۔
2۔ واپسی کا عمل اور قانونی فریم ورک
وہ افراد جو غیر قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم ہیں، ان کی باعزت اور قانونی طریقے سے وطن واپسی (Repatriation) کے عمل کو تیز اور آسان بنایا جائے گا۔ دونوں ممالک نے اس بات کو یقینی بنانے کا عزم کیا کہ اس عمل کے دوران انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کا پورا احترام کیا جائے۔
3۔ قانونی ہجرت کے راستوں کا فروغ
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کو تب ہی مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے جب نوجوانوں کو قانونی اور محفوظ راستے فراہم کیے جائیں۔ برطانیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ پاکستانی طلبہ، ہنر مند افراد (جیسے آئی ٹی پروفیشنلز اور ہیلتھ کیئر ورکرز) کے لیے ویزا کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنائے گا تاکہ لوگ مجرموں کے ہتھے چڑھنے کے بجائے قانونی طریقے سے برطانیہ جا سکیں۔
دوطرفہ تعلقات کے تزویراتی (Strategic) اور معاشی پہلو
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی بنیادیں بہت گہری ہیں، جن میں برطانیہ میں مقیم تقریباً 17 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد تارکینِ وطن (Pakistani Diaspora) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کمیونٹی دونوں ممالک کے مابین ایک مضبوط ثقافتی اور اقتصادی پل کا کام کرتی ہے۔
دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کا مؤقف
مذاکرات کے دوران برطانوی وفد کے سربراہ نے پاکستان کے جغرافیائی اور تزویراتی مقام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "برطانیہ پاکستان کو خطے میں امن اور استحکام کا ایک ناگزیر شراکت دار سمجھتا ہے۔ سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں پاکستان کی مہارت اور تجربہ ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔"
دوسری جانب، پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور وہ برطانیہ کے سیکیورٹی تحفظات کو دور کرنے کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان نے برطانوی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) سے نمٹنے کے لیے فراہم کی جانے والی امداد پر بھی شکریہ ادا کیا۔
سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کا نظریہ: "پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیکیورٹی اور ہجرت پر یہ معاہدہ محض ایک کاغذی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل مفادات کا عکاس ہے۔ برطانیہ کو اپنے داخلی سیکیورٹی اور تارکینِ وطن کے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو معاشی اور تکنیکی میدان میں برطانیہ کا تعاون درکار ہے۔"
پاکستان اور برطانیہ کے مابین انسدادِ دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت پر تعاون بڑھانے کا یہ حالیہ فیصلہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ معاہدہ جہاں بین الاقوامی جرائم اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، وہیں یہ قانون پسند شہریوں اور ہنر مند نوجوانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔
تاہم، اس معاہدے کے حقیقی ثمرات تب ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب دونوں ممالک اس پر پوری روح کے ساتھ عملدرآمد کریں۔ پاکستان کو اپنے داخلی مانیٹرنگ سسٹم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، جبکہ برطانیہ کو پاکستانی شہریوں کے لیے قانونی سفر اور روزگار کے مواقعوں کو حقیقت میں بڑھانا ہوگا۔ اگر یہ شراکت داری کامیاب رہتی ہے، تو یہ عالمی سطح پر دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون کی ایک بہترین مثال بن کر ابھرے گی۔

Comments