امریکی معاہدے کے بعد ایران کے صدر پیزشکیان مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ناظرین!
بین الاقوامی سیاست کی دنیا میں بعض دورے صرف رسمی ملاقاتیں نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے دھارے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات سرحدوں سے نکل کر پورے خطے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا پاکستان کا دورہ بھی ایک ایسی ہی اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایسے وقت میں جب عالمی طاقتوں کے درمیان نئے سفارتی رابطے، معاہدوں اور علاقائی تبدیلیوں کی بات ہو رہی ہے، ایرانی قیادت کا اسلام آباد کا رخ کرنا کئی اہم پیغامات رکھتا ہے۔ یہ دورہ صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن، معاشی تعاون اور مستقبل کی حکمت عملیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرحد، تاریخی روابط، ثقافتی قربت اور مذہبی و عوامی تعلقات ہمیشہ سے ایک مضبوط بنیاد رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں عالمی پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی رفتار کو متاثر کیا۔
اب صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، جو اپنی سیاست میں مذاکرات اور اصلاحات کے حامی سمجھے جاتے ہیں، اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے چاہئیں۔ پاکستان جیسے اہم ہمسایہ ملک کے ساتھ تعاون بڑھانا ایران کے لیے بھی معاشی اور سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
اس دورے میں سب سے اہم موضوعات میں توانائی کا شعبہ شامل ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کئی سالوں سے زیر بحث رہا ہے۔ پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے ذرائع کی ضرورت ہے، جبکہ ایران کے پاس توانائی کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم عالمی پابندیاں اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔ مستقبل میں اگر سفارتی حالات سازگار ہوتے ہیں تو یہ منصوبہ دونوں ممالک کے لیے معاشی فائدہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسرا اہم معاملہ سرحدی سلامتی ہے۔ پاکستان اور ایران کی سرحد پر امن و استحکام دونوں ممالک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ماضی میں سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات نے دونوں حکومتوں کو یہ احساس دلایا کہ تعاون، رابطے اور بہتر سیکیورٹی نظام کے بغیر مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی اور امن و امان کے معاملات بھی اس دورے کے اہم نکات میں شامل ہیں۔
تجارت بھی اس تعلق کا ایک بنیادی ستون ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دیا جائے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اسی تجارت سے وابستہ ہے۔ جب دونوں ممالک کے درمیان آسانیاں پیدا ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ عام لوگوں تک پہنچتا ہے۔
گوادر اور چابہار بندرگاہوں کا معاملہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں انہیں ایک دوسرے کے مقابلے میں دیکھا جاتا تھا، لیکن بدلتے حالات میں دونوں بندرگاہوں کو علاقائی تجارت اور رابطوں کے مواقع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر تعاون بڑھتا ہے تو یہ منصوبے نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی راستے کھول سکتے ہیں۔
عوامی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات صرف حکومتوں تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں۔ صدیوں پرانے ادبی تعلقات، زائرین کی آمدورفت اور مشترکہ ثقافتی اقدار دونوں قوموں کو قریب لاتی ہیں۔
تاہم پاکستان کے لیے یہ صورتحال سفارتی توازن کا امتحان بھی ہے۔ ایک طرف ایران ایک اہم ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے جغرافیائی اور معاشی مفاد میں ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ اسلام آباد کو ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس میں اپنے قومی مفادات، علاقائی امن اور عالمی تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
صدر پیزشکیان کا یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں ممالک اپنی ترجیحات کو نئے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کی سیاست میں تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، حالات کے مطابق پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کے لیے امن، ترقی اور معاشی مواقع پیدا کیے جائیں۔
اگر پاکستان اور ایران توانائی، تجارت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں حقیقی تعاون بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی صدر کا پاکستان دورہ ایک سفارتی ملاقات سے بڑھ کر ایک ایسے عمل کا حصہ ہے جس میں مستقبل کی علاقائی سیاست، معاشی تعاون اور امن کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ دورہ عملی نتائج میں کس حد تک تبدیل ہوتا ہے، لیکن اس نے ایک نئی سفارتی امید ضرور پیدا کی ہے۔

Comments