امریکہ، ایران اور جنگ کے سائے — کانگریس کا تاریخی اقدام


 
امریکہ، ایران اور جنگ کے سائے — کانگریس کا تاریخی اقدام

‎السلام علیکم ناظرین!

‎دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو صرف خبر نہیں بنتے، بلکہ تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ جنوری 2020ء میں بھی ایک ایسا ہی وقت آیا تھا، جب پوری دنیا اس خوف میں مبتلا تھی کہ کہیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ہولناک جنگ نہ چھڑ جائے۔ اسی دوران امریکی کانگریس نے ایک ایسا تاریخی قدم اٹھایا جس نے طاقت کے توازن اور آئینی حدود کی ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

‎یہ کہانی شروع ہوتی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر بغداد میں ایک ڈرون حملہ ہوا، جس میں ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے۔ اس واقعے نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں جیسے آگ لگا دی۔ ایران نے فوراً جواب دیتے ہوئے عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری بھی عالمی جنگ کا سبب بن سکتی تھی۔

‎اس نازک موڑ پر امریکی کانگریس میدان میں آئی۔ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، لیکن تاریخ میں اکثر صدور نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ اس بار کانگریس نے "وار پاورز ریزولوشن" کے تحت ایک قرارداد پاس کی، جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف کوئی بڑی فوجی کارروائی نہیں کر سکتے۔

‎یہ صرف سیاست نہیں تھی، بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کی ایک کوشش تھی۔ جنگ کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ معصوم شہری، بچے اور فوجی خاندان چکاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی دہائیوں سے تباہی جھیل رہا تھا، ایک اور جنگ لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیتی۔

‎اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کر دیا، لیکن کانگریس کے اس اقدام نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جنگ جیسے بڑے فیصلے کسی ایک انسان کی مرضی پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔

‎یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت کا توازن کتنا ضروری ہے اور دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل گولیوں سے نہیں، بلکہ سفارت کاری اور سمجھداری سے ہی ممکن ہے۔

‎اگر ویڈیو پسند آئی ہو تو لائک اور چینل کو سبسکرائب ضرور کریں۔

‎اللہ حافظ۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا