شمالی کوریا نے امریکہ اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشق کی مذمت کی ہے۔



 شمالی کوریا کا امریکہ اور جاپان کی فوجی مشقوں پر سخت ردعمل — خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی کہانی

‎بسم اللہ الرحمن الرحیم

‎السلام علیکم ناظرین!

‎دنیا کے نقشے پر کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں امن اور جنگ کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ مشرقی ایشیا کا خطہ بھی ایک ایسا ہی حساس مقام ہے، جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی، طاقتور فوجیں اور بڑے ممالک کے مفادات ہیں، جبکہ دوسری طرف کروڑوں عام لوگ ہیں جو صرف امن اور محفوظ زندگی چاہتے ہیں۔

‎حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشقوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پونگ یانگ نے ان مشقوں کو محض دفاعی سرگرمی ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف ایک ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کیا ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ ایسی مشقیں خطے میں کشیدگی بڑھاتی ہیں اور یہ ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہی ہیں جہاں کسی بھی وقت حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

‎لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ اور جاپان ایسی فوجی مشقیں کیوں کرتے ہیں؟ اور شمالی کوریا انہیں خطرہ کیوں سمجھتا ہے؟

‎امریکہ اور جاپان کا مؤقف ہے کہ ان کی فوجی مشقوں کا مقصد کسی ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور ایٹمی پروگرام کی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، اس لیے اتحادی ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

‎ان مشقوں میں جدید جنگی طیارے، بحری جہاز، نگرانی کے نظام اور دفاعی صلاحیتوں کی تربیت شامل ہوتی ہے۔ امریکہ اور جاپان کے مطابق یہ اقدامات کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہیں۔

‎لیکن شمالی کوریا ان ہی سرگرمیوں کو ایک مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔ پونگ یانگ کا کہنا ہے کہ جب اس کے قریب بڑی فوجی طاقتیں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں تو اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ شمالی کوریا کی قیادت بارہا یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اسے اپنی بقا کے لیے مضبوط دفاعی طاقت کی ضرورت ہے۔

‎اس سوچ کے پیچھے تاریخ کا بھی بڑا کردار ہے۔ کوریا کی جنگ 1950 سے 1953 تک جاری رہی، جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ شمالی کوریا آج بھی اس دور کو اپنی قومی تاریخ کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کی دشمنی کی جڑیں اسی ماضی سے جوڑی جاتی ہیں۔

‎جب شمالی کوریا کے حکام سخت بیانات دیتے ہیں اور اپنی فوجی طاقت کا اظہار کرتے ہیں تو اس کا مقصد صرف بیرونی دنیا کو پیغام دینا نہیں ہوتا بلکہ اپنی عوام کے اندر بھی یہ تاثر قائم کرنا ہوتا ہے کہ حکومت ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

‎دوسری جانب جاپان کا کردار بھی گزشتہ چند سالوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے ایک ایسی پالیسی اپنائی جس میں فوجی طاقت کے استعمال کو محدود رکھا گیا، لیکن شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور خطے کی بدلتی صورتحال نے جاپان کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔

‎جاپان اب دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے لیے یہ تبدیلی تشویش کا باعث ہے کیونکہ جاپان کے ساتھ تاریخی تنازعات بھی موجود رہے ہیں۔

‎موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا میں ایک ایسا چکر چل رہا ہے جہاں ایک ملک کی دفاعی تیاری دوسرے ملک کو خطرہ محسوس ہوتی ہے، اور اس خطرے کے جواب میں مزید طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

‎ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی سیکیورٹی بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف شمالی کوریا میزائل تجربات اور سخت بیانات کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کشیدگی میں سب سے زیادہ متاثر عام لوگ ہوتے ہیں، جو ہر وقت جنگ کے خدشات کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔

‎ایک معمولی غلط فہمی، کسی فوجی اقدام کا غلط اندازہ یا اچانک پیدا ہونے والی صورتحال پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔

‎اس صورتحال کا حل صرف طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری میں بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ماضی نے ثابت کیا ہے کہ صرف دھمکیوں اور پابندیوں سے مسائل ہمیشہ حل نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھیں اور ایسے راستے تلاش کریں جن سے کشیدگی کم ہو سکے۔

‎امن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعتماد، مذاکرات اور سمجھداری سے قائم ہوتا ہے۔ اگر خطے کی طاقتیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تو شاید ایک ایسا مستقبل ممکن ہو جہاں مشرقی ایشیا جنگ کے خوف کے بجائے امن اور ترقی کی علامت بن سکے۔

‎اللہ تعالیٰ دنیا میں امن قائم فرمائے۔

‎آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا