چین کے نئے J-36 6th جنریشن اسٹیلتھ فائٹر نے 'سرکاری طور پر' صرف کور توڑ دیا
چین کا نیا J-36 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ: کیا یہ واقعی چھٹی جنریشن کی شروعات ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ناظرین!
دنیا کی بدلتی ہوئی دفاعی صورتحال میں کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین کے ایک مبینہ نئے جنگی طیارے، جسے دفاعی حلقوں میں J-36 کا نام دیا جا رہا ہے، نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کچھ ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ مستقبل کی جنگی صلاحیتوں کی طرف ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگ اسے ابھی صرف ایک تجرباتی پروٹوٹائپ سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا J-36 واقعی دنیا کا پہلا چھٹی جنریشن کا فائٹر جیٹ ہے، یا پھر یہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا ایک تجربہ ہے؟
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ چھٹی جنریشن کے جنگی طیارے سے مراد کیا ہے۔
اس وقت دنیا میں ففتھ جنریشن یعنی پانچویں نسل کے طیاروں میں امریکہ کے Lockheed Martin F-22 Raptor، Lockheed Martin F-35 Lightning II اور چین کا Chengdu J-20 شامل ہیں۔ ان طیاروں کی خاص بات اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت ہے۔
لیکن چھٹی جنریشن کے طیارے اس سے بھی آگے جانے کا تصور رکھتے ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت یعنی AI کا استعمال، بغیر پائلٹ کے آپریشن، ڈرونز کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کی صلاحیت، جدید ترین الیکٹرانک سسٹمز اور مستقبل کے ہتھیار شامل کیے جاتے ہیں۔
اب اگر J-36 کی بات کریں تو سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اس کا ڈیزائن روایتی جنگی طیاروں سے کافی مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سب سے خاص بات اس کا بغیر عمودی ٹیل والا ڈیزائن بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا ڈیزائن ریڈار پر طیارے کی شناخت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
لیکن صرف منفرد شکل کسی طیارے کو چھٹی جنریشن نہیں بنا دیتی۔ اصل فیصلہ اس کے اندر موجود ٹیکنالوجی، انجن، سینسرز، ہتھیاروں اور کمپیوٹر سسٹم سے ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دفاعی ماہرین احتیاط سے کام لیتے ہوئے اسے مکمل چھٹی جنریشن کا طیارہ قرار دینے سے گریز کرتے ہیں۔
ممکن ہے کہ J-36 چین کا ایسا تجرباتی پلیٹ فارم ہو جس کے ذریعے مستقبل کی ٹیکنالوجیز کو آزمایا جا رہا ہو۔ کئی ممالک نئے جنگی طیارے بنانے سے پہلے ایسے پروٹوٹائپ تیار کرتے ہیں تاکہ ان کی خامیوں اور صلاحیتوں کو جانچا جا سکے۔
اس طیارے کی خبر نے امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ امریکہ اس وقت اپنے مستقبل کے فضائی برتری کے پروگرام NGAD پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد اگلی نسل کے جنگی طیارے اور جدید فضائی نظام تیار کرنا ہے۔
اگر چین واقعی چھٹی جنریشن کے قریب پہنچ رہا ہے تو یہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں چین پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ مغربی ٹیکنالوجی سے متاثر ہو کر اپنے نظام تیار کرتا ہے، لیکن J-20 جیسے طیارے نے دکھایا کہ چین اب اپنی دفاعی صنعت میں بڑی پیش رفت کر رہا ہے۔
تاہم دفاعی دنیا میں صرف ایک طیارہ دکھا دینا کافی نہیں ہوتا۔ ایک جنگی جہاز کو حقیقی طاقت بنانے کے لیے برسوں کی تحقیق، تربیت، تجربات اور عملی تیاری درکار ہوتی ہے۔ ایک پروٹوٹائپ کو مکمل طور پر جنگ کے لیے تیار نظام بننے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ جدید ہتھیار صرف جنگ کے لیے نہیں بلکہ طاقت کا پیغام دینے کے لیے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ چین کا J-36 سامنے آنا ایک دفاعی اعلان بھی ہو سکتا ہے کہ بیجنگ مستقبل کی فضائی جنگ کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔
خاص طور پر تائیوان کے معاملے اور بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، جدید جنگی طیاروں کی نمائش ایک تزویراتی پیغام بھی ہو سکتی ہے۔
آخر میں بات یہی ہے کہ J-36 حقیقت میں کتنا طاقتور ہے، اس کا مکمل جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ فضائی جنگ کا مستقبل تیزی سے بدل رہا ہے۔
اب مقابلہ صرف رفتار، میزائل یا پائلٹ کی مہارت تک محدود نہیں رہا، بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور جدید کمپیوٹر سسٹمز نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔
چین کا J-36 چاہے مکمل چھٹی جنریشن کا طیارہ ہو یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کی طرف ایک قدم، یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ عالمی فضائی طاقت کی دوڑ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

Comments