واشنگٹن / نئی دہلی: بین الاقوامی سیاست اور سفارت ‎کاری کی بساط پر بعض اوقات وہ کچھ ہو جاتا ہے جس کی توقع بڑے بڑے سیاسی پنڈت بھی نہیں کر رہے ہوتے۔ حالیہ دنوں میں عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث نے اس وقت جنم لیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بظاہر نظر انداز (Snub) کیے جانے کی خبریں اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ ‎ ‎ماضی میں "ہاؤڈی مودی" (Howdy Modi) اور "نمستے ٹرمپ" (Namaste Trump) جیسے بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنی گہری دوستی اور کیمسٹری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ان دو عالمی رہنماؤں کے مابین یہ سرد مہری نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس نے پاک-بھارت خطے اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے۔ بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ رویہ محض اتفاق نہیں بلکہ امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور نئی خارجہ پالیسی کا واضح عکاس ہے۔ ‎ ‎ ‎ ‎پسِ منظر: گہری دوستی سے سرد مہری تک کا سفر ‎ ‎ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے تعلقات ہمیشہ سے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر معمولی قربت کا مظاہرہ کیا۔ مودی نے ٹرمپ کے لیے بھارت میں لاکھوں لوگوں کا مجمع اکٹھا کیا، تو ٹرمپ نے امریکہ میں بھارتی نژاد امریکیوں کے سامنے مودی کی تعریفوں کے پُل باندھے۔ ‎ ‎لیکن سیاست میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی، اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات جذباتی دوستیوں پر چلتے ہیں۔ ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے ہی واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں وہ پرانی گرمجوشی نظر نہیں آ رہی تھی۔ حالیہ بین الاقوامی فورم یا سفارتی ملاقات کے دوران ٹرمپ کا مودی کو گرمجوشی سے نہ ملنا، رسمی مصافحے پر اکتفا کرنا اور دیگر عالمی رہنماؤں کو زیادہ وقت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پسِ پردہ معاملات اتنے ہموار نہیں ہیں جتنے دکھائے جاتے ہیں۔ ‎ ‎ ‎ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کرنے کی بڑی وجوہات ‎ ‎دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا مودی کو نظر انداز کرنا کوئی وقتی غصہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے چند انتہائی ٹھوس اور گہرے تزویراتی (Strategic) اور معاشی اسباب موجود ہیں: ‎ ‎1۔ "امریکہ فرسٹ" (America First) اور تجارتی تنازعات ‎ ‎ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا بنیادی نعرہ ہمیشہ سے امریکی معیشت کو تحفظ دینا رہا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے بھارت کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف (Tariffs) کے نظام پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ ‎ · ‎بھارتی تجارتی ٹیرف: ٹرمپ بھارت کو "ٹیرف کا بادشاہ" (Tariff King) کہہ چکے ہیں۔ امریکی مصنوعات پر بھارت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکسز پر ٹرمپ شدید ناراض ہیں، اور مودی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں لچک نہ دکھانا ٹرمپ کو ناگوار گزرا ہے۔ · ‎امریکی نوکریاں اور آؤٹ سورسنگ: ٹرمپ کا ماننا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے آئی ٹی اور دیگر خدمات بھارت کو آؤٹ سورس کرنے سے امریکی شہریوں کی نوکریاں متاثر ہوتی ہیں، جس پر وہ سخت اقدامات کے خواہاں ہیں۔ ‎ ‎2۔ روس اور بھارت کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات ‎ ‎امریکہ اور مغربی دنیا کے سخت دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، بھارت نے روس کے ساتھ اپنے دفاعی اور معاشی تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ان میں اضافہ کیا۔ ‎ · ‎روسی تیل کی خریداری: یوکرین جنگ کے بعد جہاں امریکہ دنیا بھر کو روس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہیں بھارت نے روس سے ریکارڈ مقدار میں سستا خام تیل خریدا۔ · ‎دفاعی سودے: بھارت کا روس سے S-400 میزائل سسٹم اور دیگر جنگی سازوسامان خریدنا واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ایک بڑا کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ ہضم نہیں کر پا رہی۔ ‎ ‎3۔ خالصتان تحریک اور سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ ‎ ‎امریکہ اور کینیڈا کی سرزمین پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے الزامات نے بھی بھارت کے عالمی امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے امریکی دھرتی پر سکھ رہنماؤں کے قتل کی مبینہ بھارتی سازشوں کو بے نقاب کیا، جس نے واشنگٹن کو نئی دہلی کے خلاف سخت موقف اپنانے پر مجبور کیا۔ ٹرمپ قانون کی بالادستی اور امریکی خودمختاری کے معاملے پر کسی بھی بیرونی مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔ ‎ ‎ ‎ ‎عالمی طاقتوں کا بدلتا ہوا توازن اور پاکستان کا فیکٹر ‎ ‎ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کیے جانے کا ایک اور اہم پہلو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس ہے۔ ‎ ‎جیسا کہ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا ہے، واشنگٹن اب یہ محسوس کر رہا ہے کہ خطے میں امن اور توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف بھارت کا حد سے بڑھتا ہوا غرور اور چین کے خلاف امریکہ کا مہرہ بننے سے ہچکچاہٹ نے بھی امریکی تھنک ٹینکس کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا بھارت واقعی ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر ہے یا نہیں؟ ‎ ‎ ‎ ‎ ‎بھارتی میڈیا کا اضطراب اور مودی حکومت کی صفائیاں ‎ ‎ٹرمپ کے اس رویے کے بعد بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ حزبِ اختلاف (Opposition) کی جماعتوں، خصوصاً کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنی ذاتی تشہیر کے لیے ملک کے وقار کو داؤ پر لگایا، اور آج امریکہ نے بھارت کو اس کی اوقات دکھا دی ہے۔ ‎ ‎دوسری طرف، بھارتی وزارتِ خارجہ اس معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا جا رہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات بالکل ٹھیک ہیں اور میڈیا باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ لیکن تصاویر اور ویڈیوز جھوٹ نہیں بولتیں، اور ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات نے سب کچھ بیاں کر دیا ہے۔ ‎ ‎ ‎ ‎بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے: "ڈونلڈ ٹرمپ بزنس مائنڈڈ سیاست دان ہیں۔ وہ جذباتی جملوں یا گلے ملنے سے متاثر نہیں ہوتے۔ ان کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ سامنے والا ملک امریکہ کو کیا فائدہ پہنچا رہا ہے۔ مودی اب تک ٹرمپ کو کوئی بڑا معاشی فائدہ دینے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے یہ سرد مہری فطری ہے۔" ‎ ‎ ‎ ‎اختتامی کلمات: مودی کے لیے ایک بڑا سبق ‎ ‎سفارت کاری کی دنیا میں کوئی بھی ملاقات یا مصافحہ بے مقصد نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کیا جانا نئی دہلی کے لیے ایک بہت بڑا سگنل ہے کہ اب "صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا"۔ امریکہ اب بھارت سے عملی اقدامات اور اس کی تجارتی و دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی کا تقاضا کر رہا ہے۔ ‎ ‎اس واقعے نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی ملک پر اندھا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مودی حکومت نے جس طرح اپنی تمام تر خارجہ پالیسی کا دارومدار امریکہ پر رکھ دیا تھا، اب انہیں اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ یہ صورتحال پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اپنی سفارتی پوزیشن کو مزید مضبوط کریں اور دنیا کو یہ باور کروائیں کہ ڈکٹیشن کے بجائے برابری کی بنیاد پر تعلقات ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں۔ ‎



 واشنگٹن / نئی دہلی: بین الاقوامی سیاست اور سفارت

‎کاری کی بساط پر بعض اوقات وہ کچھ ہو جاتا ہے جس کی توقع بڑے بڑے سیاسی پنڈت بھی نہیں کر رہے ہوتے۔ حالیہ دنوں میں عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث نے اس وقت جنم لیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بظاہر نظر انداز (Snub) کیے جانے کی خبریں اور ویڈیوز سامنے آئیں۔

‎ماضی میں "ہاؤڈی مودی" (Howdy Modi) اور "نمستے ٹرمپ" (Namaste Trump) جیسے بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنی گہری دوستی اور کیمسٹری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ان دو عالمی رہنماؤں کے مابین یہ سرد مہری نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس نے پاک-بھارت خطے اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے۔ بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ رویہ محض اتفاق نہیں بلکہ امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور نئی خارجہ پالیسی کا واضح عکاس ہے۔

‎پسِ منظر: گہری دوستی سے سرد مہری تک کا سفر

‎ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے تعلقات ہمیشہ سے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر معمولی قربت کا مظاہرہ کیا۔ مودی نے ٹرمپ کے لیے بھارت میں لاکھوں لوگوں کا مجمع اکٹھا کیا، تو ٹرمپ نے امریکہ میں بھارتی نژاد امریکیوں کے سامنے مودی کی تعریفوں کے پُل باندھے۔

‎لیکن سیاست میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی، اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات جذباتی دوستیوں پر چلتے ہیں۔ ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے ہی واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں وہ پرانی گرمجوشی نظر نہیں آ رہی تھی۔ حالیہ بین الاقوامی فورم یا سفارتی ملاقات کے دوران ٹرمپ کا مودی کو گرمجوشی سے نہ ملنا، رسمی مصافحے پر اکتفا کرنا اور دیگر عالمی رہنماؤں کو زیادہ وقت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پسِ پردہ معاملات اتنے ہموار نہیں ہیں جتنے دکھائے جاتے ہیں۔

‎ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کرنے کی بڑی وجوہات

‎دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا مودی کو نظر انداز کرنا کوئی وقتی غصہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے چند انتہائی ٹھوس اور گہرے تزویراتی (Strategic) اور معاشی اسباب موجود ہیں:

‎1۔ "امریکہ فرسٹ" (America First) اور تجارتی تنازعات

‎ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا بنیادی نعرہ ہمیشہ سے امریکی معیشت کو تحفظ دینا رہا ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے بھارت کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف (Tariffs) کے نظام پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

· ‎بھارتی تجارتی ٹیرف: ٹرمپ بھارت کو "ٹیرف کا بادشاہ" (Tariff King) کہہ چکے ہیں۔ امریکی مصنوعات پر بھارت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکسز پر ٹرمپ شدید ناراض ہیں، اور مودی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں لچک نہ دکھانا ٹرمپ کو ناگوار گزرا ہے۔

· ‎امریکی نوکریاں اور آؤٹ سورسنگ: ٹرمپ کا ماننا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے آئی ٹی اور دیگر خدمات بھارت کو آؤٹ سورس کرنے سے امریکی شہریوں کی نوکریاں متاثر ہوتی ہیں، جس پر وہ سخت اقدامات کے خواہاں ہیں۔

‎2۔ روس اور بھارت کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات

‎امریکہ اور مغربی دنیا کے سخت دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، بھارت نے روس کے ساتھ اپنے دفاعی اور معاشی تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ان میں اضافہ کیا۔

· ‎روسی تیل کی خریداری: یوکرین جنگ کے بعد جہاں امریکہ دنیا بھر کو روس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہیں بھارت نے روس سے ریکارڈ مقدار میں سستا خام تیل خریدا۔

· ‎دفاعی سودے: بھارت کا روس سے S-400 میزائل سسٹم اور دیگر جنگی سازوسامان خریدنا واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ایک بڑا کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ ہضم نہیں کر پا رہی۔

‎3۔ خالصتان تحریک اور سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ

‎امریکہ اور کینیڈا کی سرزمین پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے الزامات نے بھی بھارت کے عالمی امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے امریکی دھرتی پر سکھ رہنماؤں کے قتل کی مبینہ بھارتی سازشوں کو بے نقاب کیا، جس نے واشنگٹن کو نئی دہلی کے خلاف سخت موقف اپنانے پر مجبور کیا۔ ٹرمپ قانون کی بالادستی اور امریکی خودمختاری کے معاملے پر کسی بھی بیرونی مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔

‎عالمی طاقتوں کا بدلتا ہوا توازن اور پاکستان کا فیکٹر

‎ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کیے جانے کا ایک اور اہم پہلو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس ہے۔

‎جیسا کہ حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا ہے، واشنگٹن اب یہ محسوس کر رہا ہے کہ خطے میں امن اور توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف بھارت کا حد سے بڑھتا ہوا غرور اور چین کے خلاف امریکہ کا مہرہ بننے سے ہچکچاہٹ نے بھی امریکی تھنک ٹینکس کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا بھارت واقعی ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر ہے یا نہیں؟

‎بھارتی میڈیا کا اضطراب اور مودی حکومت کی صفائیاں

‎ٹرمپ کے اس رویے کے بعد بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ حزبِ اختلاف (Opposition) کی جماعتوں، خصوصاً کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنی ذاتی تشہیر کے لیے ملک کے وقار کو داؤ پر لگایا، اور آج امریکہ نے بھارت کو اس کی اوقات دکھا دی ہے۔

‎دوسری طرف، بھارتی وزارتِ خارجہ اس معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سرکاری بیانات میں کہا جا رہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات بالکل ٹھیک ہیں اور میڈیا باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ لیکن تصاویر اور ویڈیوز جھوٹ نہیں بولتیں، اور ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات نے سب کچھ بیاں کر دیا ہے۔

‎بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے: "ڈونلڈ ٹرمپ بزنس مائنڈڈ سیاست دان ہیں۔ وہ جذباتی جملوں یا گلے ملنے سے متاثر نہیں ہوتے۔ ان کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ سامنے والا ملک امریکہ کو کیا فائدہ پہنچا رہا ہے۔ مودی اب تک ٹرمپ کو کوئی بڑا معاشی فائدہ دینے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے یہ سرد مہری فطری ہے۔"

‎اختتامی کلمات: مودی کے لیے ایک بڑا سبق

‎سفارت کاری کی دنیا میں کوئی بھی ملاقات یا مصافحہ بے مقصد نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کی جانب سے مودی کو نظر انداز کیا جانا نئی دہلی کے لیے ایک بہت بڑا سگنل ہے کہ اب "صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا"۔ امریکہ اب بھارت سے عملی اقدامات اور اس کی تجارتی و دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی کا تقاضا کر رہا ہے۔

‎اس واقعے نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی ملک پر اندھا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مودی حکومت نے جس طرح اپنی تمام تر خارجہ پالیسی کا دارومدار امریکہ پر رکھ دیا تھا، اب انہیں اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ یہ صورتحال پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اپنی سفارتی پوزیشن کو مزید مضبوط کریں اور دنیا کو یہ باور کروائیں کہ ڈکٹیشن کے بجائے برابری کی بنیاد پر تعلقات ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا