امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھانے والا 1.15 ٹریلین ڈالر کا عسکری بل منظور کر لیا۔



 دنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کا توازن صرف سفارت کاری سے نہیں بلکہ عسکری صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط دفاعی اتحاد سے بھی طے ہو رہا ہے۔ امریکہ، جو کئی دہائیوں سے عالمی سیاست میں ایک مرکزی کردار ادا کرتا آ رہا ہے، ایک بار پھر اپنے نئے دفاعی فیصلوں کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے 1.15 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بل کی منظوری نہ صرف امریکی فوجی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔

‎اس دفاعی بل کی ایک اہم خصوصیت اسرائیل کے ساتھ عسکری، دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ علاقائی کشیدگی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیشِ نظر اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس اقدام کو بعض حلقے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بھی قرار دے رہے ہیں۔

‎1.15 ٹریلین ڈالر کا یہ دفاعی بجٹ امریکی تاریخ کے بڑے عسکری بجٹوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس میں جدید جنگی طیاروں، بحری بیڑوں، جدید میزائل نظام، سائبر سیکیورٹی، خلائی دفاع اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عسکری ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سائبر اسپیس، خلا اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی لڑی جائیں گی، اس لیے ان شعبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

‎اس بل کا ایک نمایاں پہلو اسرائیل کے دفاعی نظام کی مزید مضبوطی ہے۔ اس کے تحت اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام، بشمول آئرن ڈوم (Iron Dome)، ڈیوڈز سلنگ (David's Sling) اور ایرو میزائل سسٹم (Arrow Missile System) کے لیے اضافی مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ان نظاموں کا مقصد مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں اور میزائل حملوں سے دفاع کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

‎اس کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ دفاعی تحقیق کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ ڈرون حملوں کے خلاف جدید نظام، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جنگی آلات اور مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجیز پر مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے باب کھول سکتے ہیں۔ اسی طرح حساس انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ خطے میں ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

‎امریکی کانگریس میں اس بل پر خاصی گرما گرم بحث بھی ہوئی۔ بل کے حامیوں کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی تنازعات، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال، روس اور چین جیسے عالمی حریفوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور نئی جنگی ٹیکنالوجی کے دور میں امریکہ کے لیے اپنی دفاعی برتری برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ اپنے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل، کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

‎دوسری جانب ناقدین نے اس بھاری دفاعی بجٹ پر کئی سوالات اٹھائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی رقم کا ایک حصہ امریکہ کے اندر صحت، تعلیم، رہائش، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ خطے میں عسکری تعاون میں اضافے سے پہلے سے جاری انسانی بحران مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اس لیے دفاعی اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔

‎ماہرین کے مطابق اس دفاعی بل کے اثرات صرف امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کے اثرات محسوس کرے گا۔ بعض علاقائی ممالک اسے امریکہ کی اپنے اتحادی کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے طاقت کے نئے توازن اور ممکنہ اسلحے کی دوڑ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے پر عالمی سطح پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔

‎اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ امریکہ اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنے اور اپنے اسٹریٹجک اتحادیوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا صرف جدید ہتھیار، اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ اور مضبوط عسکری اتحاد دنیا میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں، یا پھر دیرپا امن کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی ہی زیادہ مؤثر راستہ ثابت ہوں گے؟

‎آنے والے مہینوں اور برسوں میں اس دفاعی بل کے عملی نتائج سامنے آئیں گے، لیکن فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی سیاست، دفاعی حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا