امریکا کا ایران پر مسلسل 13ویں رات حملہ، ٹرمپ کی جانب سے ’مزید بڑے‘ حملوں کی دھمکی
امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو آئندہ حملے اس سے بھی زیادہ بڑے اور سخت ہوں گے۔ ان بیانات اور فوجی کارروائیوں نے نہ صرف خطے کے امن کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے رات بھر ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا مقصد ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل ذخائر اور دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ بعض حملوں میں شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا، جس کے باعث عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات یا فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو جواب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کے لیے ایک سخت انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب مناسب وقت اور مقام پر دیا جائے گا۔ اس بیان نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
خطے کے کئی ممالک اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں دفاعی تیاریاں مزید سخت کر دی گئی ہیں، جبکہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی بعض فضائی راستوں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
اس تنازع کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی طاقتوں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ بحران پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی، تجارت اور معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی صرف فوجی طاقت کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، سفارتی اور علاقائی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ ایک طرف امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران خود کو علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی مفادات دونوں ممالک کو بار بار تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
فی الحال دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھے گی یا سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہوں گی۔ اگر جنگی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اس بحران کو ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکے۔
.jpg)
Comments