17 سال بعد دمشق میں امید کی کرن: اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا تاریخی دورۂ شام
17 سال بعد دمشق میں امید کی کرن: اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا تاریخی دورۂ شام
دمشق دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں بے شمار سلطنتوں کا عروج و زوال دیکھا، لیکن گزشتہ سترہ برس اس کے لیے شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئے۔ خانہ جنگی، تباہی، نقل مکانی، معاشی بحران اور انسانی المیوں نے شام کو ایسی آزمائش میں مبتلا کیا جس کے اثرات آج بھی لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں پر نمایاں ہیں۔ ایسے حالات میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا سترہ سال بعد شام کا سرکاری دورہ صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ امید، یکجہتی اور عالمی توجہ کی ایک نئی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔
جب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل دمشق پہنچے تو اس دورے نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ ان کی آمد نے اس حقیقت کو دوبارہ اجاگر کیا کہ شام کا بحران اگرچہ خبروں کی شہ سرخیوں سے کچھ حد تک اوجھل ہو چکا ہے، لیکن وہاں کے عوام کی مشکلات آج بھی ختم نہیں ہوئیں۔ لاکھوں افراد اب بھی بے گھر ہیں، ہزاروں خاندان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ جنگ سے تباہ ہونے والے شہر اور دیہات ابھی تک مکمل بحالی کے منتظر ہیں۔
دمشق کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک طرف تاریخی عمارتیں اپنی قدامت کا احساس دلاتی ہیں تو دوسری جانب جنگ کے نشانات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ امن کی قیمت کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ کئی عمارتیں اب بھی ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی ہیں، جبکہ ایسے محلے بھی موجود ہیں جہاں زندگی آہستہ آہستہ دوبارہ لوٹ رہی ہے۔ انہی گلیوں میں کھیلتے بچے اس امید کی علامت ہیں کہ مستقبل ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔
اس دورے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر انسانی بحران کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کا پیغام دیا ہے۔ شام میں لاکھوں افراد کو خوراک، صاف پانی، ادویات اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں، مگر وسائل کی کمی اور مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے ہر ضرورت مند تک مدد پہنچانا آسان نہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ شام میں بھی یہی ہوا۔ ہزاروں بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی جنگ کے ماحول میں گزاری۔ بہت سے بچوں نے اسکول کی بجائے پناہ گزین کیمپ دیکھے، کھیل کے میدانوں کی جگہ تباہ شدہ عمارتیں دیکھیں اور محفوظ بچپن کی جگہ خوف کا سامنا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم، صحت اور بچوں کے تحفظ کو دوبارہ بحال کرنا آج شام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
خواتین بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بے شمار خواتین نے اپنے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ کئی ایسی بھی ہیں جو اب تک اپنے لاپتا عزیزوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔ بزرگ افراد کے لیے بھی زندگی آسان نہیں رہی، کیونکہ محدود وسائل، مہنگائی اور طبی سہولیات کی کمی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی ملاقاتوں میں صرف سیاسی رہنماؤں سے گفتگو ہی شامل نہیں، بلکہ انسانی امدادی اداروں، مقامی نمائندوں اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس دورے کو محض سفارتی ملاقاتوں سے مختلف بناتا ہے۔ جب عالمی قیادت متاثرہ لوگوں کے درمیان جا کر ان کی بات سنتی ہے تو انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا نے انہیں مکمل طور پر فراموش نہیں کیا۔
تاہم شام کا مسئلہ صرف انسانی امداد تک محدود نہیں۔ مستقل امن کے لیے ایک جامع سیاسی حل بھی ناگزیر ہے۔ عالمی برادری اس بات پر متفق ہے کہ شام میں پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہوگا جب تمام متعلقہ فریق مذاکرات کے ذریعے ایسے حل پر پہنچیں جو عوام کے مفاد میں ہو۔ اختلافات کو ختم کیے بغیر تعمیرِ نو اور ترقی کے منصوبے بھی اپنی مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
اس دورے کے دوران بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر بھی زور دیا گیا۔ بجلی، پانی، اسپتال، سڑکیں اور تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور عالمی تعاون بڑھتا ہے تو شام کے عوام اپنی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ہی وطن میں دیکھ سکیں۔
یہ دورہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ صرف بیانات اور وعدے کافی نہیں ہوں گے، بلکہ عملی اقدامات، مسلسل تعاون اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلے ہی شام کی حقیقی بحالی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ دنیا کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ شام کا بحران صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سترہ سال بعد ہونے والا یہ تاریخی دورہ امید کی ایک نئی کرن ضرور لے کر آیا ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ امید عملی اقدامات میں تبدیل ہو۔ اگر عالمی برادری سنجیدگی سے شام کی تعمیرِ نو، انسانی امداد اور پائیدار امن کے لیے متحد ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب دمشق کی گلیوں میں دوبارہ بچوں کی ہنسی گونجے گی، بازار پوری رونق سے آباد ہوں گے اور شام ایک مرتبہ پھر امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
.jpg)
Comments