تہران کا کویت پر حملہ؛ حماس کا غزہ سے متعلق امن منصوبے کے مسودے پر اتفاق



 مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ان دنوں انتہائی متضاد اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، جہاں تہران نے کویت پر حملہ کر کے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھا دیا ہے، تو دوسری جانب غزہ کے محاذ پر ایک نسبتاً مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے تحت تیار کیے گئے امن منصوبے کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔

‎امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر حملوں کے بعد آئی آر جی سی نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جسے تہران نے واضح طور پر ایک انتقامی کارروائی قرار دیا۔ اس حملے میں کویت کے شمالی علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا، جبکہ اردن نے بھی اپنی سرزمین کی جانب داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خلیجی خطے کے چھوٹے ممالک، جو براہِ راست اس تنازعے کا حصہ نہیں، اب اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

‎اسی پس منظر میں، غزہ کے معاملے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حماس نے ایک ایسے مجوزہ خاکے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت تنظیم کا اسلحہ ایک فلسطینی انتظامی ادارے کے کنٹرول میں دیا جائے گا، جبکہ اسرائیلی افواج مراحل وار غزہ سے واپس چلی جائیں گی۔ یہ تجویز، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، ابھی تک اسرائیل کی جانب سے باضابطہ طور پر منظور نہیں کی گئی، اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں غزہ بھر میں بدستور جاری ہیں۔ یہ منصوبہ دراصل غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جسے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ کے ثالثوں نے "بورڈ آف پیس" کے فریم ورک کے تحت طے کیا، جو غزہ میں جنگ کے بعد کی حکمرانی اور تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے قائم کردہ ادارہ ہے۔

‎ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک "پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی قدم" قرار دیا اور کہا کہ غزہ بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے زیرِ انتظام آئے گا جو بورڈ آف پیس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ تاہم حماس نے اس معاہدے کو غیر مشروط قرار نہیں دیا۔ تنظیم کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حماد نے واضح کیا کہ اسرائیل کو پہلے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی مکمل تعمیل کرنا ہوگی، جس میں افواج کا انخلا اور فوجی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ شامل ہے، اس کے بعد ہی دوسرا مرحلہ شروع ہو سکے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی افواج معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں تو حماس امن معاہدے کے کسی بھی مرحلے پر عملدرآمد نہیں کرے گی، اور یہ کہ اسلحے کے انتظام میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

‎اس منصوبے کے مطابق حماس کا اسلحہ ایک تکنیکی نوعیت کے فلسطینی ادارے کے حوالے کیا جائے گا، اور یہ عمل اسی وقت شروع ہوگا جب اسرائیلی فوجیں مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں اور انسانی و تجارتی امداد کی غزہ میں بلا رکاوٹ آمد ممکن ہو۔ یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ اگرچہ حماس نے اصولی طور پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، مگر عملی نفاذ اب بھی اسرائیل کے اقدامات سے مشروط ہے، جو خود اس معاہدے پر تاحال خاموش ہے۔

‎یہ دونوں پیش رفتیں — ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی جنگ اور غزہ میں ممکنہ امن کی جانب قدم — خطے کی موجودہ کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں تباہی اور مفاہمت ایک ہی وقت میں جنم لے رہی ہیں۔ ایک طرف ایرانی میزائل اور ڈرون حملے خلیجی ممالک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہے ہیں، تو دوسری طرف غزہ کے میدان میں طویل عرصے بعد کوئی حقیقی سفارتی پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے، اگرچہ یہ ابھی نازک اور غیر یقینی مرحلے میں ہے۔

‎مبصرین کے نزدیک، ان دونوں محاذوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے مابین جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے، تو اس کے اثرات غزہ امن عمل پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ خطے کی مجموعی عدم استحکام کسی بھی امن کوشش کو کمزور کر سکتی ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا بین الاقوامی برادری ایران-امریکہ کشیدگی کو قابو میں لا کر غزہ کے امن منصوبے کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتی ہے، یا خطہ ایک وسیع تر تصادم کی جانب بڑھ جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا