امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدہ؛ اطلاق ’ابراہیمی معاہدوں‘ میں شمولیت سے مشروط
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ جوہری تعاون کا معاہدہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اس معاہدے کو خطے میں سفارتی پیش رفت سے جوڑنا چاہتا ہے، اور اس کا اطلاق اس صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب سعودی عرب "ابراہیمی معاہدوں" میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ابراہیمی معاہدے 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں شروع ہونے والا ایک سفارتی عمل تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے اقدامات کیے۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد خطے میں تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں میں نئی راہیں کھولنا تھا۔ اب سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو اس سلسلے کی سب سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کئی برسوں سے پرامن جوہری توانائی کے پروگرام کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ مملکت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات، صنعتی ترقی اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے جوہری توانائی ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاض جدید نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ کسی بھی جوہری تعاون کے معاہدے میں سخت حفاظتی شرائط شامل ہوں۔ ان شرائط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ فراہم کی جانے والی ٹیکنالوجی صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق رہے۔ واشنگٹن کے نزدیک یہ صرف توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ خطے میں طویل مدتی استحکام اور سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل سے جوڑنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں نئی اقتصادی شراکت داریاں، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یہ معاملہ اتنا آسان نہیں، کیونکہ سعودی عرب بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور قابلِ قبول حل اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔
اسرائیل بھی اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوتا ہے تو اسے عرب دنیا کی سب سے بڑی سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف اسرائیل کے علاقائی تعلقات میں وسعت آئے گی بلکہ تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
دوسری طرف ایران اس پورے عمل کو تشویش کی نظر سے دیکھ سکتا ہے۔ تہران پہلے ہی خطے میں امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ پر تنقید کرتا رہا ہے۔ اگر سعودی عرب کو جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی ملتی ہے اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں تو خطے میں طاقت کے توازن پر نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا ہے تو یہ پرامن جوہری تعاون کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی اختلافات یا علاقائی تنازعات اس عمل پر اثر انداز ہوئے تو مذاکرات مزید پیچیدہ بھی ہو سکتے ہیں۔
آخرکار امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، علاقائی سفارت کاری، توانائی کی حکمت عملی اور عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ایک اہم موضوع ہے۔ آنے والے مہینوں میں ہونے والی پیش رفت یہ طے کرے گی کہ آیا یہ معاہدہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا پھر سیاسی اختلافات اسے مزید مؤخر کر دیتے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت اسی اہم سفارتی عمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
.jpg)
Comments