تہران کی امریکہ کو سخت تنبیہ: منجمد اثاثوں پر ٹرمپ کا بیان، معاشی دباؤ یا سفارتی کشیدگی؟



 امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔ کبھی جوہری پروگرام، کبھی اقتصادی پابندیاں اور کبھی خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ، دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق سخت بیان سامنے آیا۔ اس بیان کے بعد تہران نے فوری اور شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور "اقتصادی ڈکیتی" قرار دیا۔

‎ایران کا مؤقف ہے کہ بیرون ملک موجود اس کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ پورے ایرانی عوام کا سرمایہ ہیں۔ ان رقوم کا تعلق ملک کی معیشت، عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور بنیادی ضروریات سے ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان اثاثوں کو سیاسی دباؤ یا سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے بھی ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔

‎امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی ایک طویل تاریخ ہے، تاہم 2018 میں امریکہ کی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد یہ پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے اربوں ڈالر مختلف بینکوں میں منجمد ہو گئے، جن تک رسائی تہران کے لیے تقریباً ناممکن بن گئی۔ ایرانی حکومت مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ یہ رقوم آزاد کی جائیں تاکہ انہیں عوامی ضروریات اور معاشی بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

‎ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اس حساس معاملے کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق کسی بھی خودمختار ملک کے اثاثوں پر قبضہ کرنے یا انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی دھمکی بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی مالیاتی اداروں پر اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی بے یقینی پیدا کرتے ہیں۔

‎بین الاقوامی قانون کے ماہرین بھی اس معاملے کو نہایت حساس قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ریاستوں کے قومی اثاثے سیاسی تنازعات کی بنیاد پر ضبط یا استعمال ہونے لگیں تو عالمی مالیاتی نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور بینکاری کا پورا نظام باہمی اعتماد پر قائم ہے، اور اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

‎اس کشیدگی کا سب سے بڑا اثر عام ایرانی شہری پر پڑ رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ افراطِ زر میں مسلسل اضافہ، قومی کرنسی کی قدر میں کمی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ طبی سامان، جدید ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بھی مختلف مواقع پر متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں، جن کا ان فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔

‎دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا سخت لہجہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وہ ماضی میں بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں اور اپنے حامیوں کے سامنے طاقتور قیادت کا تاثر پیش کرنا ان کی سیاسی مہم کا اہم جزو رہا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس قسم کی بیان بازی پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید خراب کر سکتی ہے اور سفارتی حل کی راہ میں نئی رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہے۔

‎خطے کے موجودہ حالات بھی اس معاملے کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات، سلامتی کے خدشات اور سیاسی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

‎سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل کا پائیدار حل دھمکیوں یا معاشی دباؤ سے نہیں بلکہ مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ممکن ہے۔ اگر دونوں ممالک واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے قانونی حقوق اور خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

‎آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا معاملہ صرف مالی وسائل کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی قانون، خودمختاری اور بین الاقوامی اعتماد کا بھی امتحان ہے۔ اگر اس مسئلے کو سیاسی دباؤ کے بجائے قانون اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کی نئی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا