‎سعودی عرب ’ایران کی حمایت یافتہ‘ گروپوں کے ڈرون حملوں کا دفاع کر رہا ہے: خطے میں بڑھتی کشیدگی کا نیا مرحلہ



 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ہر نئی فوجی کارروائی پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ڈرون حملوں کے خلاف اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے جنہیں بعض حکام ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں سے منسوب کرتے ہیں۔ اگرچہ ایران اکثر ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے، لیکن یہ صورتحال ایک مرتبہ پھر خطے میں موجود سیاسی اور عسکری کشیدگی کو نمایاں کر رہی ہے۔

‎سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کا سامنا کرتا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے اور اب نسبتاً کم لاگت والے ڈرون بھی تیل کی تنصیبات، فوجی اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے اپنے فضائی دفاعی نظام، ریڈار نیٹ ورک اور نگرانی کے نظام کو مزید جدید بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔

‎سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی اولین ترجیح اپنے شہریوں، توانائی کے منصوبوں اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق دفاعی اقدامات کا مقصد جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کو روکنا ہے۔ اسی لیے جدید فضائی دفاعی نظام، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی دفاعی تعاون پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

‎دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا اور اس پر لگائے جانے والے کئی الزامات بے بنیاد ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے، نہ کہ فوجی کارروائیوں میں۔ یہی اختلافی بیانیہ اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے کیونکہ ہر فریق اپنی پوزیشن کو درست قرار دیتا ہے۔

‎ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈرون حملوں اور جوابی دفاعی اقدامات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب یا ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈیاں اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ خلیج کے راستوں سے دنیا کے ایک بڑے حصے کو تیل اور گیس کی فراہمی ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

‎اسی تناظر میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کئی ممالک سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اقوام متحدہ بھی بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔

‎دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں ڈرون ایک انتہائی اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہ نسبتاً کم قیمت، تیز رفتار اور بعض اوقات ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کے کئی ممالک اپنے روایتی فضائی دفاع کے ساتھ خصوصی اینٹی ڈرون نظام بھی تیار کر رہے ہیں۔ سعودی عرب بھی اسی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

‎خطے کے عوام کی سب سے بڑی خواہش امن اور استحکام ہے۔ برسوں سے جاری تنازعات نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ اقتصادی ترقی بھی سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھی تو سرمایہ کاری، تجارت، سیاحت اور روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

‎آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے دفاعی تیاریوں میں اضافہ اس کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات سے اختلاف کرتا ہے کہ وہ ان حملوں میں ملوث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں دیرپا امن صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مسلسل سفارتی مذاکرات، باہمی اعتماد اور بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ حالات کشیدگی کی طرف بڑھتے ہیں یا مذاکرات کے ذریعے ایک زیادہ پائیدار اور پرامن راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا